حکمت کے موتی

Rate this post

جو کسی کے ساتھ زیادتی کرکے اپنے لیے عزت چاہتا ہے تو اللہ اسے اپنے انصاف کے ذریعے ذلیل کرتا ہے۔
اگر کچھ سیکھنا چاہتے ہو تو خاموش رہنا سیکھ لو ورنہ لفظ کے مطلب ہزار نکلتے ہیں۔
اپنے نقصان پر دکھ اور غم نہ کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ تم سے اس وقت تک کچھ نہیں لیتا جب تک تم کو اس سے بہتر عطا نہ کر دے۔

اللہ ظالم نہیں ہے۔۔۔ انسان خود اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔۔۔ خود اپنے لیے گڑھے کھودتا ہے اور جب اس میں گرتا ہے تو شکوہ اللہ سے کرتا ہے۔۔ اپنے اعمال اپنی نافرمانیاں یاد نہیں رہتیں۔۔۔ اپنی مرضی سے غلط راہ چن کر پھر جب نتائج رلاتے ہیں تب عقل آتی ہے۔۔ لیکن وہ کریم رب پھر بھی کہتا ہے کہ جو ہوا سو ہوا میری طرف پلٹ آئو۔۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ہدایت پالیتے ہیں۔

اگر تم کسی کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہوجاتے ہو تو یہ نہ سمجھنا وہ کتنا بیوقوف ہے بلکہ یہ سوچنا کہ اس کو تم پر اعتبار کتنا تھا۔

جن کی زندگیوں اور رویوں میں ماہِ رمضان میں بھی تبدیلی نہیں آتی انہیں جان لینا چاہیے کہ ان کی روح کا مرض گہرا اور تشویشناک ہے۔

لوگ تمہارے کارنامے دیکھتے ہیں اور ربّ تمہاری نیتیں دیکھتا ہے۔

عبادت وہ ہے جو معبود کو منظور ہو جائے! ورنہ کروڑوں سال کی عبادت ایک سجدہ نہ کرنے سے ضائع ہوتی دیکھی گئی۔

 برے وقت میں صبر اور اچھے وقت میں شکر کرنا چاہیے۔

جدوجہد کامیابی کی علامت ہے۔

 اللہ ان لوگوں کی توبہ قبول نہیں کرتا جو:
۱) کلمہ گو کو کافر کہے
۲) صراطِ مستقیم پر چلنے والے کو گمراہ کرے
۳) گناہ کو جان بوجھ کر کرے

ایمان خوف اور امید کے درمیان ہے۔

سکون کا نام جنت ہے اور بے سکونی کا نام دوزخ ہے۔

موت تو آنی ہی ہے بہتر ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں سرخرو ہو کر مرا جائے۔

عقلمند وہ ہے جو اللہ کے حضور اپنا خوف ختم نہیں ہونے دیتا۔

جتنا اللہ کا راز رکھو گے اتنا ہی اللہ اپنے راز تمہیں عطا کرے گا۔

نبی کی زندگی کا اوّل حصہ خواص کی تربیت کے لیے اور آخری حصہ عوام کے لیے ہوتا ہے۔

اگر عالم ِارواح میں اللہ سے روگردانی کرنے کی لغزش ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے عالمِ ارواح میں اپنے عہد کو توڑنے کی خطا کو معاف کروانے کا ایک موقع اس عالم ِخَلق کو تخلیق کر کے دیا ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور دنیا و عقبیٰ کو فراموش کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جائیں کیونکہ اس کا وعدہ ہے’’جو مجھے طلب کر تا ہے وہ مجھے پا لیتا ہے۔‘‘

جب بندہ اپنا مفاد سامنے رکھ کر فیصلہ کرتا ہے وہ فیصلہ ہمیشہ غلط ہوتا ہے۔

اختلاف رحمت ہے اگر اس میں تعصب نہ ہو۔ اگر اس میں تعصب داخل ہو جائے تو یہ انتشار اور فساد بن جاتا ہے۔

حقیقت تک پہنچنے کے لیے اپنی ذات کی نفی ضروری ہے۔

انسان اللہ کے ساتھ جیسا گمان رکھتا ہے اللہ بھی اس کے ساتھ ویسا ہی ہو جاتا ہے۔

بندے کو اللہ سے ہمیشہ اچھا گمان رکھنا چاہیے۔

اللہ بے حساب دینے والا ہے، پھر اس سے کیا حساب رکھنا۔ جو اللہ سے حساب نہیں رکھتا اللہ اسے بے حساب دیتا ہے۔ جو اللہ سے حساب رکھنا شروع کردے پھر اللہ بھی اسے حساب کرکے دیتا ہے۔

اللہ پاک جب کسی کو اپنا بناتا ہے تو اسے تین نعمتوں سے نوازتا ہے: عشق ِحقیقی، سخاوت اور زمین جیسی عاجزی۔ 

حقیقی انسان وہ ہے جو اپنے جسم کے مردہ ہونے سے زیادہ اپنے دل کے مردہ ہونے سے ڈرتا ہو۔

صبر کرنا سیکھ لیں، اللہ سب جانتا ہے، وہ جانتا ہے آپ کب کن وقتوں سے گزرے ہیں، یقین کریں وقت بدل جائے گا کیونکہ تبدیلی کائنات کا اصول ہے۔

ان لوگوں سے مت ڈرو جو اپنا بدلہ لینا جانتے ہوں ہمیشہ ان لوگوں سے ڈرو جو اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دینے والے ہوں۔

کبھی کبھار اچھے اور نیک لوگوں سے بھی غلطیاں ہو جاتی ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ برے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی انسان ہیں۔

آپ جتنا ڈریں گے لوگ آپ کو مزید ڈرائیں گے۔ جب آپ ڈرنا چھوڑ دیں گے تو لوگ آپ سے ڈرنے لگیں گے۔

غلط بات پر خاموش رہنا چھوڑ دیں، آپ سے کوئی غلط بات کرنے کی ہمت نہیں کر سکے گا۔

اگرنیتوں (باطن) کا اثر چہروں پر نظر آنے لگتا تو معاشرے کا ہر فرد نقاب کرنے پر مجبور ہو جاتا۔

جو لوگ انسانوں کے اندر غلط اور گمراہ کن سوچ پیدا کرتے ہیں وہ انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔

کسی نے ایک فقیر سے پوچھا دنیا میں سب دکھی کیوں ہیں؟ فقیر نے ہنس کر جواب دیا خوشیاں سب کے پاس ہیں بس ایک کی خوشی دوسرے کا درد بن جاتی ہے۔

لوگ آپ کے کام کو اور اللہ آپ کی نیت کو دیکھتا ہے۔

کچھ لوگ ساری رات اپنے لیے جنت کی دعا مانگتے ہیں اور سورج نکلتے ہی دوسروں کی دنیا جہنم بنا دیتے ہیں۔

آج کے دور میں لوگ طاقت اور زور اپنے آپ کو صحیح اور درست کرنے میں نہیں لگاتے جتنا دوسروں کو غلط ثابت کرنے میں لگا دیتے ہیں۔

غم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ انسان کو نرم کر دیتا ہے اگر غم نہ ہوتے تو انسان پتھر ہی رہتا۔

کام اور محنت کیے بغیر دعا پر بھروسا حماقت ہے اور کام اور محنت پر بھروسا کر کے دعا نہ کرنا تکبر ہے۔

اگر مجاہدہ دل کی کشادگی سے ہو رہا ہو تو پھر طالب کا معاملہ درست ہے۔

اگر طالب کے دل میں مرشد کی محبت کم ہو رہی ہویا مرشد کاکوئی بھی کام کرتے وقت اسے دل میں تنگی محسوس ہو یاوہ اللہ کے کاموں کو کل پر ٹالتا رہے تو سمجھ لو کہ بندے اور اللہ کا معاملہ خطرے میں ہے۔

ولی کا مطلب اللہ کا دوست ہے۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ان میں سے کسی کو اپنا ولی (دوست) نہ بنائیں جب تک وہ اللہ کی راہ میں اپنا گھر بار نہ چھوڑ دیں۔ (سورۃ النسائ۔98) 

زیادہ کھانے سے سستی پیدا ہوتی ہے۔

خوش بخت ہے وہ عورت جس کے ہاں پہلے بیٹی پیدا ہو۔

خشیت معرفت کے بعد حاصل ہوتی ہے۔

مادری زبان ہی دل پر اثر کرتی ہے۔

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی تمام تر تعلیمات جاننے کے لیے ان کی تصانیف کا مطالعہ کریں اور ان کی صحبت سے فیض یاب ہوں۔

 
Spread the love