munafiq

منافق

Rate this post

منافق

منافق

موجودہ دور منافقت کادور ہے۔ جو جتنا بڑا منافق ہے اتنا ہی بڑا نیکو کار نظر آتا ہے۔
منافق ظاہر میں بڑا متقی ہوتا ہے اور اندر سے کافر۔
فاسق وہ ہے جس کے دل میں مرض ہے اور قرآن میں گمراہی صرف فاسق کے لیے ہے کیونکہ اس کے قلبی مرض کی وجہ سے قرآن کے صحیح معنی کبھی اس پر نہ کھلیں گے۔
سب سے بڑا بدکردار وہ ہے جو اللہ کے دین کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرے۔
شیطان علم اور عبادت کی صفت میں ماہر تھا اور یہی منافقوں کی بھی صفت ہوتی ہے۔ شیطان نے اپنی عبادت کو ہی اپنا معبود بنا لیا تھا۔ منافق بھی اپنے علم، عبادت یا اپنی ہی ذات کو اپنا معبود بنائے رکھتا ہے۔
جس طرح مومن فنا فی الرسول ہوتا ہے اسی طرح منافق فنا فی الشیطان ہوتا ہے۔ یہ وہ انسانی شیطان ہے جس کا ذکر سورۃ الناس میں ہے ’’من الجنۃ و الناس ترجمہ: وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔‘‘ یہ انسانی شیطان جن شیطان سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ انسانی شیطان ظاہراً حملہ کر کے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور جن شیطان دل میں وسوسہ ڈالتا ہے۔
جہاں نفاق آجائے وہاں ترقی ہونا ممکن نہیں رہتا خواہ دنیا ہو یا دین۔
اللہ کی ناراضگی کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ بندے کے دل میں اللہ کی محبت ختم ہو جائے۔ اللہ جب ناراض ہوتا ہے تو دل سے ایمان اٹھا لیتا ہے۔
منافق کا چہرہ بے نور ہوتا ہے خواہ کتنی ہی آرائش کیوں نہ کی ہو۔
دنیادار منافقوں کو نہیں پہچان سکتے۔ منافق کو وہی پہچان سکتا ہے جس کے اندر نورِ اسمِ اللہ ذات ہو۔
 ان لوگوں سے محتاط رہو جن کی باتوں میں مٹھاس اور دل میں زہر ہوتا ہے۔
 سب سے زیادہ منافق اور بدکار ہے وہ جو دین کے ذریعے دنیاکماتا ہے۔

 
Spread the love