سلطان العاشقین بلاگ | Sultan ul Ashiqeen Blog

Rate this page

سلطان العاشقین بلاگ

اس ویب سائٹ پر نئے بلاگز ہر ماہ کی چھ (6) تاریخ تک  اپ لوڈ کر دئیے جاتے ہیں 

حج اسلام کا پانچواں رُکن ہے۔ اللہ پاک کی فرض کردہ تمام عبادات اہم ہیں لیکن شریعت ِ محمدی میں حج کو اس لحاظ سے عظمت اور فضیلت حاصل ہے کہ یہ مسلم اُمت کی وحدت اور عالمگیریت کا نشان اور ان کے اتحاد اور مساوات کی دلیل ہے۔ اِس میں نماز، تلاوتِ قرآن، روزوں کی طرح بھوک پیاس، نفسانی خواہشات سے پرہیز، زکوٰۃکی طرح مالی قربانی‘ برداشت ‘ صبر ‘ درگزر الغرض تمام عبادات شامل ہیں۔ 
حج کے لغوی معنی زیارت کرنا اور ارادہ کرنا کے ہیں۔ لیکن اصطلاحِ شریعت میں یہ وہ مخصوص عبادت ہے جو اسلامی ماہ ذوالحجہ کے پانچ دِنوں، آٹھ سے بارہ ذوالحجہ تک منیٰ‘ میدانِ عرفات اور بیت اللہ شریف میں اداکی جاتی ہے۔۔۔۔مزید پڑھیں

اللہ پاک نے اس کائنات کو اور خاص کر انسان کو اپنی پہچان کے لیے تخلیق کیا۔ پہچان کے اس سفر کا آغاز عالمِ وحدت سے نورِ محمدی سے ہوا اور اس کی انتہا انسان میں اللہ کے اظہار کی صورت میں ہوئی جس کو انسانِ کامل نے کمال بخشا۔ حدیثِ قدسی ہے کہ میں نے انسان کو اپنی صورت پر تخلیق کیا۔ پھر اللہ پاک نے ارواح سے عالمِ لاھوت میں اقرار لیا ’’کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں‘‘ اور سب ارواح نے اس کو پہچانتے ہوئے جواب دیا ’’ہاں بیشک تو ہی (ہمارا ربّ ہے‘‘)۔ پہچان کے اس دور میں انسانی ارواح تمام حجابات اور کثافت سے پاک تھیں اور اللہ کا بے حجاب دیدار کر رہی تھیں۔  ۔۔۔مزید پڑھیں

’’صبر‘‘ کے لغوی معنی ہیں روکنا، برداشت کرنا، ثابت قدم رہنا یا باندھ دینا۔
صبر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے بارے میں قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا گیا کہ
ترجمہ:’’ اور (رنج و تکلیف میں) صبر اور نماز سے مدد لیا کرو اور بیشک نماز گراں ہے مگر ان لوگوں پر گراں نہیں جو عجز کرنے والے ہیں۔‘‘ (البقرہ۔ 45 )
بلاشبہ صبر اور نماز ہر اللہ والے کیلئے دو بڑے ہتھیارہیں؛ نماز کے ذریعے سے ایک مومن کا رابطہ و تعلق اللہ تعالیٰ سے استوار ہوتا ہے جس سے اسے اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت حاصل ہوتی ہے اور صبر کے ذریعے کردار میں پختگی اور دین میں استقامت حاصل ہوتی ہے۔ مصیبت و پریشانی کی حالت میں صبر اور نماز کو اپنا شعار بنانے کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں جس قدر طبیعت مصروف ہو اسی قدر دوسری پریشانیاں خود بخود کم ہوجاتی ہیں۔۔۔۔مزید پڑھیں

جس طرح ہمارے ظاہری جسم کو تندرست رہنے کے لیے اچھی غذا کی ضرورت ہوتی ہے بالکل اسی طرح ہمارے باطنی وجود (روح) کو بھی تندرست و توانا رہنے کے لیے خوراک کی ضرورت ہوتی ہے اور ہمارے باطن یعنی روح کی غذا ذکرِاللہ ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اَلاَبِذِکْرِاللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ط(الرعد۔28)
ترجمہ: بیشک ذکر ِ اللہ سے ہی قلوب کو اطمینان (اور سکون) حاصل ہوتا ہے۔
ذکر کیا ہے؟ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
٭ ذکر ایک نور ہے جو حضوری بخشتا ہے۔
٭ ذکر ایک ذوقِ لازوال ہے جو اہلِ ذکر کو وصال عطا کرتا ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)۔۔۔مزید پڑھیں

ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے :
وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَاج وَاِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ (سورۃ العنکبوت ۔ 69)
ترجمہ:۱ور جو لوگ ہماری راہ میں جہاد (یعنی مجاہدہ) کرتے ہیں تو ہم یقینا انہیں اپنی(طرف سیر اور وصول کی)راہیں دکھا دیتے ہیں اور بے شک اللہ صاحبانِ احسان کو اپنی معیت سے نوازتا ہے۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ کی طرف بڑھنے کے لیے کوشش کرنا ضروری ہے۔ جب تک کوئی مجاہدہ نہیں کرے گا اللہ تعالیٰ بھی اسے اپنی طرف آنے کے راستے نہیں دکھائے گا۔مجاہدہ کے لغوی معانی کوشش، جدوجہد اور نفس کشی کے لیے ریاضت کے ہیں اوریہ جدوجہد جہاد بالنفس کے نام سے موسوم ہے جسے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جہاد ِاکبر قرار دیا ہے ۔۔۔۔مزید پڑھیں

صنم یعنی بُت صرف مٹی، گارے یا پتھر کے نہیں ہوتے بلکہ کھنکتی ہوئی مٹی سے بنے انسان میں بھی ہزار ہا طرح کے بُت (صنم) پائے جاتے ہیں۔ علم کا بُت، عقل و فہم کا بُت، رشتے ناتے کے بُت، خواہشاتِ دنیا و آخرت کے بُت، عہدہ، رتبہ یا مرتبہ کا بت اور بعض اوقات انسان کی اپنی ذات ہی اُس کا سب سے بڑا بُت ہوتی ہے جسے وہ اپنے دل کے صنم کدہ میں سجا سنوار کر صبح و شام اس کی پرستش کرتا رہتا ہے لیکن اس بات سے بالکل نا آشنا ہوتا ہے۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
٭ نفسانی خواہشات کے پیچھے بھاگنا دراصل نفس پرستی ہے اور یہ بھی بت پرستی کی ہی قسم ہے۔ نفسانی خواہشات (برائیوں، بیماریوں) کی اتباع کرنا شرک ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے شرکِ عظیم قرار دیا ہے۔ ۔۔۔مزید پڑھیں

اللہ ربّ العالمین جل شانہٗ اپنے بندوں میں سے جنہیں وہ پسند کرتا ہے‘ آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تا کہ وہ اطاعتِ خداوندی پر مضبوط ہو کر نیکی کے کاموں میں جلدی کریں اور جو آزمائش انہیں پہنچی ہے اس پر صبر کریں تاکہ انہیں بغیر حساب کے اجرو ثواب سے نوازاجائے اور یقینا حکمتِ خداوندی کا بھی تقاضا یہی ہے کہ وہ اپنے برگزیدہ بندوں کو آزماتا رہے تا کہ ناپاک کو پاک سے اور سچے کو جھوٹے سے جدا کردے۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرما تا ہے :اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا وَ اٰمَنَّا وَھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ۔ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۔ (العنکبوت۔2-3)
ترجمہ : کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ اسی پر چھوڑ دئیے جائیں گے کہ کہہ دیں ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی۔ بلاشبہ ہم نے ان لوگوں کی بھی آزمائش کی جو ان سے پہلے گزرے۔۔۔۔مزید پڑھیں

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَالَّذِیْنَ جٰھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا۔ (سورۃ العنکبوت۔69)ترجمہ:جو لوگ ہماری طرف آنے کی جدوجہد اور کوشش کرتے ہیں ہم انہیں اپنی طرف آنے کے راستے دکھا دیتے ہیں۔ذَالِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ ط وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْم۔(الحدید۔21)ترجمہ : یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ عظیم فضل کا مالک ہے۔
حق کے لغوی معنی سچائی، صداقت کے ہیں۔’’حق ‘‘ اللہ کی ذات پاک ہے، یہ وہ واحد حقیقت ہے جس کو بقا ہے یہی وہ ذات ہے جو خلق میں مخفی ہے۔ نفسی حجابات میں اللہ ربّ العز ت کی ذات پوشیدہ ہے۔ شاہ سید محمد ذوقی ؒ فرماتے ہیں:
٭ تعینات خلقیہ کے نفس کے اندر حق تعالیٰ ظاہر ہے اور بطونِ حق میں خلق معقول اور مشہور ہے ۔( سرِّ دلبراں)
معلوم ہو ا کہ تلاشِ حق اصل میں اللہ کی ذات کی جستجو ہے اور یہ وہ عنایت ہے جو گنی چنی چند ارواح کو بخشی گئی ہے۔۔۔۔مزید پڑھیں

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُ۔(الحجر۔۹۹)
ترجمہ:اپنے ربّ کی عبادت کرتے رہو حتی کہ تمہیں یقین ِ کامل حاصل ہو جائے ۔ یقین کیا ہے؟ عام لغت میں یقین سے مرادا عتماد، بھروسہ اطمینان اور گمان لیا جاتا ہے۔حضرت شاہ محمد ذوقی ؒ فرماتے ہیں :
٭ یقین اسے کہتے ہیں جس میں شک و شبہ کا مطلق دخل نہ ہو ۔ رویت ِ عیان بقوتِ ایمان نہ کہ بذریعہ ٔ حجت ِ برہان۔ (سِرّ دلبراں)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کلید التوحید کلاں میں فرماتے ہیں:
یقین قرآن برو اعمال کردن
یقین آنست خود باحق سپردن
ترجمہ:یقین قرآن پر عمل کرنے کا نام ہے اور یقین یہ ہے کہ خود کو سپردِ خدا کر دیا جائے۔۔۔۔مزید پڑھیں

اللہ تعالیٰ کا اپنے نور اور ذات و صفات کا اظہار تجلّی ہے۔ یہ اظہار جلال و جمال دونوں صورتوں میں ہوتا ہے اس کائنات میں ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تجلیات کی مظہر ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ِ ربانی ہے:اَللّٰہُ  نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ترجمہ: اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ (سورۃالنور) 
اللہ تعالیٰ کے نور کا بہترین اور کامل ترین اظہار حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ بابرکات ہے۔ حدیث ِ مبارکہ ہے ’’میں اللہ کے نور سے ہوں اور تمام مخلوق میرے نور سے ہے۔‘‘ اور ’’حق تعالیٰ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا کیا۔‘‘ اسی طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ظاہری وصال کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے اس نور کا اظہار مختلف ادوار میں مختلف اعلیٰ و ارفع صورتوں میں کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ عوام الناس تک تجلی  نور کو پہنچانے کے لیے اور ہر تجلی کے اظہار کیلئے کسی نہ کسی واسطے کی ضرورت ہوتی ہے اسی لیے تجلیاتِ الٰہیہ کے کامل اظہار کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسانِ کامل کو چنا۔۔۔۔مزید پڑھیں

اللہ ربّ العزت نے انسان کو زندگی جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی لیکن وہ زندگی عظیم نہیں ہو سکتی جو بغیر کسی اعلیٰ مقصد کے گزاردی جائے۔ ضروریاتِ زندگی پوری کرنا، کھانا پینا، سونا جاگنا، اولاد کی کفالت کرنا، معاشی ضروریات پوری کرنا محض یہ زندگی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات پیداکیا ہے یعنی تمام تر مخلوقات سے افضل۔ کائنات کی ہر شے انسان کے لیے مسخر کی گئی ہے۔ چاند، سورج، ستارے، زمین، ہوا، پہاڑ،پھل، پھول، دریا غرض کائنات کی ہر شے کا مقصد انسان کی ضروریات پوری کرنا ہے حتیٰ کہ فرشتے جو اللہ تعالیٰ کی نوری مخلوق ہیں‘ وہ بھی حمد و ثنا کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی طرح انسان کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ کوئی رزق پہنچانے میں مصروف ہے تو کوئی بارش برسانے میں۔ جب انسان کو اللہ تعالیٰ نے اتنا اعلیٰ پیدا کیا ہے تو انسان کی زندگی کا مقصد بھی تو بہت اعلیٰ ہو گا۔ اس کائنا ت میں انسان سے اعلیٰ کوئی نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے‘ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی معرفت حاصل کرنا ہی انسان کا سب سے اعلیٰ مقصد ِ حیات ہونا چاہیے۔مزید پڑھیں

حضرت مسور بن مخرمہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’فاطمہؓ میرے جسم کا ٹکڑا ہے‘ پس جس نے اسے ناراض کیا اُس نے مجھے ناراض کیا۔ ‘‘(متفق علیہ)
حضرت مسور بن مخرمہؓ روایت فرماتے ہیں ’’ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: بے شک فاطمہؓ میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور مجھے ہرگز یہ پسند نہیں کہ کوئی شخص اسے تکلیف پہنچائے اللہ رب العزت کی قسم! کسی شخص کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اللہ تعالیٰ کے دشمن کی بیٹیاں جمع نہیں ہو سکتیں۔‘‘ (متفق علیہ)۔۔۔مزید پڑھیں

روزہ اسلام کا تیسرا بنیادی رکن ہے ۔ ہجرت کے دوسرے سال 10 شعبان کو روزے فرض کر دیئے گئے۔ رمضان رمض سے مشتق ہے ۔ رمض کے معنی جلانا ہے ۔ لُغت میں رمض کے معنی صیام کے ہیں اور صیام سے مراد رک جانا یا ترک کر دینا ہے ۔شریعت میں اس سے مراد اللہ کی رضا مندی اور خوشنودی کے لیے نفس کی خواہشات کو چھوڑ دینا ہے۔ یہ وہ با برکت مہینہ ہے جس میں ہر نیکی کا ثواب ستر(70) گنا بڑھ جاتا ہے ۔
نیت: کسی بھی کام کو شروع کرنے سے پہلے اُس کی نیت پر غور کیا جاتا ہے دیگر عبادات کی طرح روزے کی نیت کرنا بھی ضروری ہے ۔۔۔مزید پڑھیں

ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ (البقرہ۔222)
 ترجمہ: بے شک اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

توبہ کی تعریف:

خطائوں اور معصیت (گناہ) سے جس توبہ کا ہم سے بار بار مطالبہ کیاگیا ہے اس کی حقیقت سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے۔ اگر توبہ کی حقیقت سے واقفیت نہ ہو تو صرف زبان سے توبہ  توبہ کہنا کافی نہیں ہے۔۔۔مزید پڑھیں

فقر کیا ہے؟ میرے مرشد کریم شانِ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں
 ’’فقر کے لغوی معنی تو تنگدستی اور احتیاج کے ہیں لیکن عارفین کے نزدیک یہ وہ منزلِ حیات ہے جس کے متعلق سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ’’ فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے‘‘۔
٭  فقر ایک خاص باطنی مرتبہ اور کمال ہے۔ اس کے مقابلہ میں نہ کوئی مرتبہ ہے نہ کمال۔۔۔مزید پڑھیں

انفاق کے لغوی معنی ’’خرچ کرنا‘‘ اور فی سبیل  اللہ کے معانی ہیں ’’ اللہ تعالیٰ کی راہ میں‘‘۔ اصطلاحِ شریعت میں اللہ کی رضا کے لیے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کو انفاق فی سبیل اللہ کہا جاتا ہے۔
شریعت میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے یعنی انفاق فی سبیل اللہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک انفاقِ واجبہ اور دوسری انفاقِ نافلہ۔ ان میں ایک قسم فرض اور دوسری نفلی صدقہ و خیرات کے زمرے میں آتی ہے۔
انفاقِ واجبہ: یہ فرض ہے اور اصطلاحِ شریعت میں اسے ’’زکوٰۃ‘‘ کہا جاتا ہے ۔۔۔مزید پڑھیں

معراج کے لفظی معنی عروج یا چڑھائی کے ہیں۔ یہ وہ سفر مبارک ہے جوانسان کے جسمانی اور باطنی عروج کی انتہا ہے۔ یہ کمال رسالت اور تجلیات کی وہ روداد ہے جو اس سے پہلے نہ کبھی لکھی گئی اور نہ ہی دوبارہ لکھی جائے گی۔ یہ خالق اور مخلوق کی وہ ملاقات ہے جس میں دونوں طرف شوقِ وصل تھا اور جس میں خالق نے اپنی ہر تجلی کو انسانی آنکھ کی بینائی کے قابل کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر خدا پاک کی تجلی کی تاب نہ لاسکے تھے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی مبارک آنکھوں سے خدائے بزرگ و برتر کا دیدار کیا۔۔۔۔مزید پڑھیں

سرورِ کونین ‘محبوبِ خدا‘ وجۂ کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیاتِ طیبہ کی ہر ہر ادا دلربا اور ہر ہر بات بے مثل و لاثانی ہے۔ اللہ ربّ العزت نے چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو شرفِ نبوت بخشا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا بچپن اور جوانی بھی اُسی طرح طیب و طاہر ہیں جس طرح بعثت کے بعد کی زندگی۔عام بچوں کے برعکس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طبیعت دنیاوی کھیل تماشوں کی طرف بالکل مائل نہ ہوتی تھی بلکہ سنجیدگی، متانت، صبر و تحمل، صداقت، صاف گوئی،تفکر اورتدبر بچپن ہی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شخصیت میں نمایاں تھے۔۔۔مزید پڑھیں

’’ہم نے اس قرآن کو رحمت اور شفاعت بنا کر بھیجا ہے یہ قرآن روح کی تازگی اور اسے شفادینے کے لیے آیا ہے ۔ یہ قرآن جسمانی طور پر بھی شفا دیتا ہے ‘‘۔
قرآنِ پاک اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر نازل کیا جس طرح اللہ کو اپنے محبوب سے بے حد محبت اور عقیدت ہے اسی طرح قرآن سے بھی ہے۔ حتیٰ کہ اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے،قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے کہ 
ترجمہ:’’ یہ کتاب ہم نے نازل کی اور ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔‘‘ (الحجر۔9)
ذرا غور کریں کہ جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ خود لے وہ یقیناًعام چیز نہیں ہو گی۔۔۔۔مزید پڑھیں

خصائص سے مراد وہ اوصاف و کمالات اور امورو معاملات ہیں جو کسی کی ذات کے ساتھ خاص ہوں اور کسی دوسرے میں نہ پائے جائیں۔ خالقِ کائنات نے انسان کی رشدو ہدایت کے لیے اپنے برگزیدہ بندوں کو پیغمبر بنا کر دنیا میں بھیجا تو اُنہیں دیگر انسانوں سے متمیز کرنے کے لیے اَن گنت اوصاف و کمالات سے متصف فرمایا، یہ اوصاف و کمالات اُن کے خصائص کہلاتے ہیں ۔ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مبعوث ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ان تمام خصائص و امتیازات کا جامع بنایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بے پایاں اعزازات، القابات، معجزات اور اختیارات عطا فرمائے گئے جو صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خاصہ ہیں ۔۔۔مزید پڑھیں

یہ ایک مستند حقیقت ہے کہ جب انسان بیمار ہوتا ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے اور اس کی ہدایات کے مطابق عمل کرتا ہے، جب اسے علم کی طلب ہوتی ہے تو معلم سے مستفید ہوتا ہے اور جب اسے جسم کی نشوونما کی فکر ہوتی ہے تو خوراک کے حصول کی خاطر حصولِ رزق کے ذرائع کی طرف رجوع کرتا ہے۔ الغرض انسان اپنی ہر ضرورت کی تسکین کے لیے ان کے ذرائع کی طرف رجوع کرتا ہے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ بیمار ہوئے ہوں اور ڈاکٹر سے علاج کروائے بغیر خود ہی گھر بیٹھے تندرست ہو جائیں یا گھر بیٹھے ہی معلم کے بغیر تمام علوم حاصل کر لیے ہوں۔ پس دنیاوی زندگی کے معاملات ہوں یا اُخروی زندگی کے معاملات‘ ان کو خوش اسلوبی سے سر انجام دینے کے لیے رہبر و رہنما کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔مزید پڑھیں

قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جدائی 
ہو صاحبِ مرکز تو خودی کیا ہے، خدائی! 

مرکز سے مراد کسی شے کا اہم ترین اور بنیادی نکتہ ہے جہاں اس شے کی تمام تر قوت مرکوز ہو۔ راہِ فقر میں بھی مرکز کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ فقر کا مرکز وہ ہوتا ہے جہاں سے دنیا بھر کے طالبانِ مولیٰ کے متعلق اہم فیصلے صادر ہوتے ہیں، جہاں اللہ تعالیٰ کی جماعت اور اس کی راہ میں درپیش ظاہری اور باطنی مسائل کو حل کیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی جماعت کے فروغ کے لیے مختلف نوعیت کے احکامات نافذ کیے جاتے ہیں اور اسی نوع کے دیگر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ نظامِ تکوین کا مرکز بھی یہی ہوتا ہے۔ جہاں صاحبِ فقر موجود ہوتا ہے وہی جگہ فقر کا مرکز ہوتی ہے۔ آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب مدینہ منورہ میں ظاہری طور پر موجود تھے تو صاحبِ فقر ہونے کے باعث مدینہ منورہ فقر کا مرکز رہا۔ جنگوں کی تیاریاں، دینی و دنیاوی معاملات کا حل، طالبانِ مولیٰ کا تزکیۂ نفس اور ہر کام کا فیصلہ ادھر سے ہی ہوتا۔ وہیں ظاہری اور باطنی مجلسِ محمدیؐ لگتی۔ لہٰذا ہر کام کا مرکز وہی مقام تھا جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ظاہری طور پر موجود تھے۔ مرکز سے دوری اور علیحدگی انتشار و فتنہ پیدا کرتی ہے۔ مرکز ہمیشہ ایک ہی ذات ہوتی ہے اور اُس ذات مبارکہ کے باعث وہ مقام بھی ایک ہی ہوتا ہے۔ مسجد ضرار کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے۔ وہ بھی ایک مسجد تھی جہاں اذان ہوتی تھی اور نماز بھی پڑھی جاتی تھی مگر یہ مسلمانوں کو ان کے مرکز یعنی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے جدا کرنے کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔ یہ منافقین کی سازش تھی۔ جہاں حاملِ فقر کی ذات ہی نہیں وہ مرکز بھی نہیں۔ قرآنِ پاک میں سورۃ توبہ آیات 107تا109میں منافقین کی اس سازش کو بیان کیاگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کی تعمیر کو ناپسند فرمایا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس مسجد کو گِرا کر آگ لگا نے کا حکم فرمایا۔
فیضِ فقر کا اصل منبع تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی ہیں کیونکہ فقر آپ کا ورثہ ہے۔ آج بھی طالبانِ مولیٰ سے متعلق تمام فیصلے مجلسِ محمدی میں ہی کیے جاتے ہیں۔ فقر کا مرکز بھی مجلسِ محمدیؐ کے فیصلے کے مطابق تبدیل ہوتا رہتا ہے اور اسی ہستی کو مرکزِ فقر بنایا جاتا ہے جس میں حقیقتِ محمدیہ کامل ترین صورت میں ظاہر ہو، جس کی بدولت اس نے راہِ فقر میں ۔۔۔مزید پڑھیں

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ  فرماتے ہیں’’فقیری سیّد یا قریش ہونے پر موقف نہیں یہ عرفان سے حاصل ہوتی ہے‘‘۔ (نورالہدیٰ خورد )
’’معرفتِ الٰہی (راہِ فقر) کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کا فیض و فضل اور بخشش و عطا ہے وہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے ۔اُس کا تعلق حسب، نسب اور شہرت سے نہیں بلکہ دردِ دل سے ہے ۔اس کا تعلق ہمت اور صدق سے ہے نہ کہ نسبتِ سیّدی و قریشی سے۔ ‘‘ ( نور الہدیٰ کلاں) 
نسب کے لحاظ سے تمام بنی نوع انسان ایک باپ حضرت آدم علیہ السلام اور ایک ماں حضرت حوا سلام اللہ علیہا کی اولاد ہیں۔ ایک کو دوسرے پر کسی طرح کی فوقیت اور ترجیح حاصل نہیں ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا: 
’’ اے لوگو! آگاہ رہو اور غور سے سنو، تمہارا ربّ ایک ہے اور غور سے سنو تمہارا باپ ایک ہے اور کان کھول کرسن لو کسی عربی کو عجمی پر اور گورے کو کالے پر (محض نسل،نسب، قوم، وطن، علاقہ کی وجہ سے) کوئی فضیلت نہیں ہے اگر کسی کو فضیلت حاصل ہے تو وہ صاحبِ تقویٰ (صاحبِ فقر) کو ہے ‘‘۔
بابِ فقر امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں:
’’انسان بااعتبار پیکرِ عنصری ایک دوسرے کے ہمسر ہیں ان کے باپ آدم ؑ اور ماں حوا ؑ ہیں ۔‘‘ 
نسب کے لحاظ سے تمام انسان برابر ہیں کسی کو کسی پر کوئی برتری حاصل نہیں، جو فوقیت یا بڑائی کسی کو حاصل ہے وہ حسب کے لحاظ سے ہے نسب کے لحاظ سے نہیں۔ اور اگر حقیقت سمجھنی ہو تو جان لو کہ انسان کی قدر جوہر سے ہے نا کہ نسب سے۔ ہاں اگر جوہر بھی ہو اور حسب بھی تو اعلیٰ نسب سونے پر سہاگہ کا کام دیتا ہے۔ 
ارشادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے :
مَنْ سَلَکَ عَلٰی طَرِیْقِیْ فَھُوَآلِیْ۔ 
ترجمہ : جو میرے راستہ (فقر) پر چلاوہی میری آل ہے ۔ 
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب ا لرحمن مدظلہ الا قدس کا حسب ’’فقر ‘‘ہے جو آقا پاک علیہ الصلوٰۃو السلام کا فخر اور نایاب ورثہ ہے، کا ئنات کی بہترین نعمت اور بزرگی، شرافت و نجابت اور حسب کا اعلیٰ ترین معیار ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کو نعمتِ فقر و ولایت نسبی وراثت۔۔۔مزید پڑھیں

ولی  کامل اپنے وصال سے قبل اپنے خاص منتخب طالبوں کو خلافت عطا فرماتا ہے۔ جن میں سے صرف ایک خلیفۂ اکبر جبکہ باقی خلیفہ اصغر ہوتے ہیں۔ خلیفۂ اکبر ہی اس ولی کامل، فقیرِ کامل کا حقیقی روحانی وارث اور سلسلہ کا سربراہ ہوتا ہے۔ فقیر کامل خود اپنے روحانی وارث کی تربیت کر کے اس کی ذمہ داری لگاتا ہے کہ وہ اس ( فقیرِ کامل) کے بعد لوگوں کو راہِ حق کی طرف بلائے۔

یہ وارث کامل فقیر ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے عمل حتیٰ کہ شکل و صورت میں بھی اپنے مرشد کا عین بعین ہوتا ہے اور اپنے مرشد کی طرح فقر کا منبع ہوتا ہے۔ فقر کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے‘‘۔ فقیر اللہ سے اللہ کے سوا کچھ نہیں مانگتا۔ اسے صرف اللہ کے دیدار، قرب اور خوشنودی کی طلب ہوتی ہے اور اس مقصد کے لیے اس کی توجہ صرف اور صرف اللہ کی طرف ہوتی ہے ۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا کے دلدل میں نہیں پھنستا اور اپنے پیرو کاروں کو بھی یہی درس دیتا ہے ۔ 

چونکہ فقیر کامل اپنے مرشد کا عین بعین ہوتا ہے اس لیے اس کی خانقاہ بھی اولیا کرام کی خانقاہ کا عکس ہوتی ہے۔ خانقاہ میں رہنے والے ہر انسان کی تربیت اسلام کی تعلیمات کے مطابق کی جاتی ہے ۔ طالبانِ مولیٰ کو سکھایا جاتا ہے کہ اللہ کا قرب و دیدار کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے اور یہ تو طالب پر منحصر ہے کہ وہ مرشد کی صحبت سے کتنا فیض حاصل کرتا ہے ۔۔۔مزید پڑھیں

حضرت سلطان باھوؒ  رسالہ روحی شریف میں فرماتے ہیں ’’ ہفت ارواح فقرا باصفا فنافی اللہ بقاباللہ محوِ خیال ذات ہمہ مغزبے پوست پیش از آفرینش آدم علیہ السلام ہفتادہزار سال غرق بحرِ جمال بر شجرمرآۃالیقین پیدا شدند‘‘۔

ترجمہ : سات ارواحِ فقرا باصفا فنا فی اللہ بقا باللہ تصورِ ذات میں محو تمام مغز بے پوست‘ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ستر ہزار سال پہلے اللہ کے جمال کے سمندر میں غرق آئینۂ یقین کے شجر پر رونما ہوئیں۔
یہ سات ارواح روزِ الست سے فنافی اللہ بقا باللہ کے مقام پر ہیں۔ اور ہر دور کے انسانِ کامل کی صورت میں دنیامیں مو جود ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے کامل وصال کی وجہ سے اللہ پاک کی تمام صفات ان ارواح میں مکمل طور پر پہلے سے ہی موجود ہوتی ہیں۔ حضرت سلطان باھوؒ  کے قول کے مطابق ’’ نہ وہ خداہیں اور نہ خدا سے جدا ‘‘ اور ’’فقر عین ذات پاک ہے ‘‘۔ انسان کامل بھی فقر میں کامل اکمل ہونے کی بنا پر ذات و صفاتِ الٰہیہ کی مکمل اور جامع تصویر ہوتا ہے۔ صفاتِ الٰہیہ میں سے ایک صفت تمام کائنات پر تصرف بھی ہے۔ تصرف کے معنی کسی چیز پر قبضہ یا اختیار ہے۔ لہٰذا انسانِ کامل اکمل کے تصرف میں دنیا جہان کی تمام اشیا ہیں۔ دورِ حاضر کے انسانِ کامل فقیرِ کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمدنجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اپنے تصرفات کو استعمال کرتے ہوئے راہِ فقر میں ایسے ایسے روحانی و باطنی کمالات سرانجام دیئے ہیں جو کسی عام انسان کے وہم و فہم میں بھی نہیں۔۔۔مزید پڑھیں

کُنْتُ کَنْزًا مَخْفِیًا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْق ترجمہ:میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں اس لیے میں نے مخلوق کو پیدا کیا۔ 

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی پہچان اور معرفت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ پھر ایسی کیا وجہ ہے کہ انسان اپنی پیدائش کے مقصد کو یکسر بھول گیا ہے ؟ اللہ کی پہچان اور معرفت کا راستہ کوئی دشوار گزار پہاڑ پر چڑھنے کا راستہ نہیں ہے اور نہ ہی اللہ اور بندے کے درمیان کو ئی ایسا پردہ حائل ہے کہ جس کے باعث بندہ ربّ کا دیدار حاصل نہیں کر سکتااور نہ ہی اسے دیدار کے لیے کوئی میلوں مسافت طے کرنی پڑتی ہے۔اللہ اور بندے کے درمیان تو پیاز کی جِھلی سے بھی زیادہ باریک ایک حجاب حائل ہے جو انسان کو دیدارِ الٰہی سے بے بہرہ کیے ہوئے ہے اور اگر انسان عمر بھرکوشش نہ کرے تو وہ دیدارِ الٰہی کی ایسی عظیم ترین نعمت سے آخرت میں بھی محروم ہی رہے گا اور پھر انسان کے پاس سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں بچے گا، وہ حجاب ہے انسان کا ’’نفس‘‘۔۔۔مزید پڑھیں

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، تمام مخلوق کا خالق اور روزی دینے والا ہے۔ لم یزل اور لا یزال ہے۔ دونوں جہانوں میں ھُو کے سوا کچھ نہیں اور نہ ہی اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق ہے۔ لاکھوں کروڑوں درودوسلام ہو سرورِ کائنات، باعثِ وجودِ کائنات، آقاو مولیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مطہرہ پر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آل پاکؓ پر اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پراور آپ ؐ کے محبوبین پر جن کی پیروی ہر مسلمان پر فرض ہے۔
کائنات کی ہر شے اللہ تعالیٰ کی صفات کی مظہر ہے لیکن انسان اشرف المخلوقات اس لیے کہلایا کہ ربِّ کائنات کی لامحدود ذات اپنی تمام تر تجلیات کے ساتھ انسان کے اندر موجود ہے۔ اللہ پاک نے وحدت سے نکل کر کثرت میں ظہور فرمایا تو سب سے پہلے اپنی ذات سے نورِ محمدی کو ظاہر فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نور سے تمام ارواح کوپیدا کیا۔ ان ارواح نے ازل میں اللہ کا دیدار کیا اور اسے اپنا معبود تسلیم کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے   انہیں بشری لباس پہنا کر عالمِ خلق کی امتحان گاہ میں بھیجا  گویا انسان کا ظاہر ایک عالم ہے۔۔۔مزید پڑھیں

اُردو لغت میں غیبت کے معنی ہیں کسی شخص یا اشخاص کی غیر موجودگی میں اس کی بدگوئی کرنا یا عیوب کا بیان یا پیٹھ پیچھے بُرائی کرنا۔
علم الاخلاق کی رو سے غیبت کی تعریف یہ ہے کہ اپنے دینی بھائی کی عدم موجودگی میں اس کی برائی کی جائے اگرچہ وہ نقص اس میں ہو یا اس کے بدن میں ہو، اس کی صفات، افعال اور اقوال میں وہ بات پائی جائے یا کوئی بھی چیز جو اس سے متعلق ہو مثلاً گھر، لباس وغیرہ۔

غیبت کی اقسامغیبت کی چند اقسام ہیں:

بلاواسطہ غیبت: بلاواسطہ لکھنا، کہنا، ہاتھ یا پاؤں کے اشارے سے غیبت کرنا، کسی کو حقیر جاننا، کسی نقص کی وجہ سے اشاروں کنایوں میں بُرا سمجھنا یا کہنا اس کا قد چھوٹا ہے وغیرہ کہنا بھی غیبت ہے۔ 

بالواسطہ غیبت:کسی کی عدم موجودگی میں اس کی کسی بات کا جھوٹا مطلب بیان کیا جائے اور یہ ایسا گناہ ہے جسے تہمت کہا جاتا ہے۔

غیبت اور جھوٹ کا امتزاج:دوسروں کی خوبی اور کمال کو بیان کرنا غیبت نہیں اور یہ کہ یہ بات میں اس کے سامنے بھی کہوں گا‘ غیبت کی حالت کو تبدیل نہیں کرتا بلکہ یہ غیبت ہی شمار ہوگا۔ کسی کی غیر موجودگی میں اس کی برائی کرنا گناہِ کبیرہ ہے اور قرآنِ مجید میں اس گناہ کو مردہ بھائی کے گوشت کھانے کے برابر قرار دیا گیا ہے اور روایات میں اس برائی کا گناہ زنا کرنے سے بھی زیادہ شدید کہا گیا ہے ۔۔۔مزید پڑھیں

صحبت کا انسان کی شخصیت پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ جس بھی ماحول میں رہتا ہے وہاں کے طور طریقے ‘ وہاں کے لوگوں کا رہن سہن حتیٰ کہ بات چیت کے انداز کو اپنا لیتا ہے۔ انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر انسان اچھے اوصاف کا مالک ہو گا تو اس کا مطلب ہے کہ ضرور اس کی صحبت اچھی ہو گی۔ وہ اچھے لوگوں میں اُٹھتا بیٹھتا ہو گا ۔ اسی طرح اگر ایک انسان بری عادات کا مالک ہو گا تو اس کا مطلب ہو گا کہ وہ برے لو گوں کی صحبت میں اُٹھتا بیٹھتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی بُری عادات سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اچھے لوگو ں کی صحبت اختیار کرے تاکہ اچھے اوصاف اپنائے۔ بُرے اوصاف سے مراد صرف یہ نہیں کہ بندہ شراب نوشی، جوا، زنا وغیرہ میں مبتلا ہو بلکہ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ بندہ دوسروں سے کینہ و بغض رکھے، جھوٹ و غیبت سے نہ بچے، دولت کی ہوس، جھو ٹی شان و شوکت، دکھاوا اور ریاکاری میں مبتلا ہو۔ اسی طرح اچھے اوصاف صرف شریعت تک محدود نہیں بلکہ یہ طریقت اور شریعت کا مجموعہ ہیں۔ یعنی بندہ نہ صرف ظاہر ی شریعت کا پابند ہو بلکہ وہ با طنی طور پر بھی اچھے اوصاف کا ما لک ہو۔ اس کا باطن کینہ و بغض، حسد و غرور، چغلی و جھوٹ، لالچ و حرص جیسی قبیح خصلتوں سے پاک ہو۔ ایسے ہی شخص کا وجود نورانیت کا مجموعہ ہو تا ہے ۔ 

صحابہ اکرامؓ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحبت میں زیادہ وقت گزارتے تھے جس کی وجہ سے وہ نہ صرف نماز و روزہ کے پا بند تھے بلکہ وہ ان عبادات کے روحانی مقاصد کو بھی بہت اچھے طریقے سے سمجھتے تھےحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحبت نے ان کی شخصیت پر اس قدر گہرا اثر ڈالا کہ وہ سب آسمان پر ستاروں کی مانند چمکے۔ پھر صحابہؓ کی صحبت سے تابعین اور تابعین کی صحبت سے۔۔۔مزید پڑھیں

دینِ اسلام اللہ تک پہنچنے کا ایک زینہ ہے جس کے مختلف درجات ہیں۔ شریعت اس کا ابتدائی درجہ ہے،طریقت، حقیقت اور معرفت درمیانی درجے ہیں اور فقر (وحدت) اس کی انتہا ہے اور اس کی بنیاد عشق ہے۔ اگر بنیاد مضبوط نہیں ہوگی تو عمارت بھی پائیدار نہیں ہوگی اور اگر کوئی درجہ کم ہوگا تو بھی منزل تک پہنچنا مشکل اور بعض اوقات ناممکن ہوجاتا ہے۔

حضرت خواجہ بندہ نواز رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

 ’’ عشقِ حقیقی کے پانچ درجے بیان کیے گئے ہیں پہلا شریعت یعنی جمالِ محبوب کی صفت سننا تاکہ شوق پیدا ہو،دوسرا طریقت یعنی محبوب کی طلب کرنا اور محبوب کی راہ میں چلنا، تیسرا حقیقت یعنی ہمیشہ محبوب کے خیال میں رہنا، چوتھا درجہ معرفت یعنی اپنی مراد کو محبوب کی مراد میں محو کر دینا، پانچواں وحدت یعنی اپنے فانی وجود کو ظاہر میں اور باطن میں بھی ختم کر دینا اور حرف محبوب ہی کو موجودِ مطلق جاننا۔جب یہ پانچ مراتب پورے ہو جائیں۔۔۔مزید پڑھیں

تقویٰ

چار حروف پر مشتمل یہ لفظ (تقویٰ) مقصدِ حیات اور توشۂ آخرت ہے۔ تقویٰ دینِ کامل کی اساس اور بزرگانِ دین کا اثاثہ ہے ۔ تقویٰ اُمتِ مسلمہ پر ربّ کا احسان ہے، اس کی رضاہے ، درجۂ خاص ہے۔ تقویٰ کے بغیر مومن ادھورا ہے کیونکہ تقویٰ روح کا سکون اور ربّ کے دیدار کا ذریعہ اور خدا کے قرب و معرفت کی کنجی ہے۔ اگر تقویٰ کے لفظی معنی کو دیکھا جائے تو لفظ ’’تقویٰ‘‘ کے معنی ’’زرہ‘‘ کے ہیں جو ضرر سے محفوط رکھتی ہے۔ جبکہ شریعت میں اس کے معنی ہر اس عمل سے گریزکرنا ہے جو اللہ تبارک و تعا لیٰ کے غیظ و غضب کا باعث ہواور ہر اس کا م کو اپنا نا ہے جو مو لیٰ کی رضاکا موجب ہو۔ 
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس تقویٰ کی تعریف ان الفاظ میں فرماتے ہیں:

* تقویٰ کے لغوی معنی تو پرہیز گاری اور پارسائی کے ہیں لیکن اصطلاحی معنوں میں قلب کا اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کا نام تقویٰ ہے۔۔۔مزید پڑھیں

اولیا کرام میں سب سے بلند مراتب عارفین کو عطا ہوتے ہیں لیکن عارفین میں بلند ترین مقام ’’سلطان الفقر‘‘ کا ہے۔ فقر عین ذات پاک ہے اور سلطان الفقر وہ ہستی ہوتی ہے جو ذاتِ حق کا عین ہو ۔ یہ کہنا بھی ہرگز غلط نہ ہو گا کہ سلطان الفقر کے حقیقی مقام و مرتبے کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
سلطان الفقر کون ہیں؟
سلطان الفقر ہستیوں کی شان اور مقام و مرتبے کے بارے میں سب سے پہلے بانی سلسلہ سروری قادری، نورِ ھُو، سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیفِ مبارکہ’’رسالہ روحی شریف‘‘ ۔۔۔مزید پڑھیں

سیّد الکونین، سلطان الفقر، سلطان الاولیا، محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی، غوثِ صمدانی، شہبازِ لامکانی، پیر دستگیر، بازِ اشہب، پیرانِ پیر، نورِ مطلق، مشہود علی الحق، حقیقت الحق، قطب الکونین، قطب الاقطاب، غوث الثقلین، پیر میراں غوث الاعظم محی الدین سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وزیر اور صاحبِ حضور ہیں۔ فقر میں آپ رضی اللہ عنہٗ کا مقام اور مرتبہ فہم و بیان سے بالاتر ہے۔ ہر ولی اور فقیر آپ رضی اللہ عنہٗ کے در کا غلام اور بھکاری ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کا فرمان مبارک ہے ’’میرا قدم تمام اولیا کی گردن پر ہے۔‘‘ اسی سے آپ رضی اللہ عنہٗ کے مقام و مرتبہ کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ ۔۔۔مزید پڑھیں

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
*اَلْفَقْرُ فَخَرِیْ وَالْفَقْرُ مِنِّیْ۔
ترجمہ :فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔
فقر دراصل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت کا نام ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فخر فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ایک ایسا گنجینہ ہے جس کی طلب ہر مومن و مسلمان کو ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت تک رسائی کسی کسی کا نصیب ہے ہر کوئی اس حقیقت تک رسائی کا اہل نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ اور آپ کی حقیقت جیسی حقیقت اور کسی کی نہیں، جو راز آپ کی ذاتِ مبارکہ سے ظاہر ہواوہ کسی اور نبی و مرسل سے ظاہر نہیں ہوا۔ تب ہی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اُمتی ہونے کی دعا کی۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ لِیْ مَعَ اللّٰہِ وَقْتٌ لَا یَسْعُنِیْ فِیْہِ مَلَکٌ مُقَرَّبٌ وَلَا نَبِیٌّ مُرْسَلٌ۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے ساتھ میرا ایساوقت بھی ہے جس میں مجھ تک نہ کوئی مقرب فرشتہ پہنچ سکتا ہے اور نہ نبی مرسل۔
مندرجہ بالا حدیث سے۔۔۔مزید پڑھیں

سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے تھا اور ہوگا۔ (انسانِ کامل۔ سیّد عبدالکریم بن ابراہیم الجیلیؒ )
ایمان مومنین پر اللہ کا احسان ہے اور ایمان کا مرکز و محور آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے نسبت و تعلق ہی حقیقتاً ایمان ہے۔ یہ تعلق اگر مضبوط و مستحکم ہو تو ایمان کامل اور اگر کمزور ہو تو ناقص و نامکمل اور اگر خدانخواستہ یہ تعلق ٹوٹ جائے تو ایمان کلیتاً ختم ہو جاتا ہے۔
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ اس تعلق کو یوں بیان فرماتا ہے:
ترجمہ:پس جو لوگ اس(برگزیدہ رسولؐ) پر ایمان لائیں گے اور ان کی تعظیم و توقیر کریں گے اور ان کی مد د ونصرت کریں گے اور اس نور کی پیروی کریں گے جوان کے ساتھ اتارا گیا ہے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔(سورۃ الاعراف۔157)
جو ذات باعثِ کائنات ہے اس سے عشق و محبت ،وفاواطاعت کے بغیر ایمان کے مکمل ہونے کا تصور ہی نہیں۔ اگراللہ تعالیٰ نے کائنات کو تخلیق کر کے مخلوقات میں اپنے ربّ ہونے کو ظاہر کیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وجہ سے۔ اس لئے دین،ایمان،علم، ۔۔۔مزید پڑھیں

ظہورِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے عرب کی سر زمین غبارِ راہ سے کثیف اور جہالت سے گرد آلود تھی۔ کوئی انسانی و معاشرتی تنزلی ایسی نہ تھی جو کہ عرب معاشرے میں موجود نہ تھی اور انسانیت کو شرماتی نہیں تھی۔ سر زمین عرب صرف تپتا ہوا صحرا ہی نہیں تھی بلکہ جہالت اور حیوانگی کا مظہر تھی۔ عرب کی رگوں میں سختی،اڑیل پن، مردانگی کے بے ڈھنگے مظاہرے اور طاقتور کی حکمرانی کمزور و مظلوم کی سسکیوں کی روانی تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ یہ لوگ اس معاشرے کے عکاس تھے جہاں صنفِ نازک کی قدر صرف ایک بچے پیدا کرنے والی ذات تک ہی محدود تھی۔ جہاں لڑکیوں کی بلوغت ان کے لئے خطرے کی علامت اور لڑکی کی پیدائش نامعلوم قبروں میں ایک اور قبر کے اضافے کا موجب ہوتا تھا۔ جہاں خاندان غلاموں، لونڈیوں، زناکاری اور بے تحاشا لڑکوں کے شوق میں ڈوبے رہتے تھے۔ عزت بس اس عورت تک محدود تھی جو صرف لڑکے پیدا کرتی تھی۔ لوگ قبائل میں بٹے ہوئے تھے اور قبائل جاہلانہ رسوم و رواج میں۔ رُسومات ایسی جو پتھر پر لکیر تھیں اور کسی انسانی جذبے یا ضرورت کی پرواہ نہ کرتی تھیں۔ صحرائے عرب کے لوگوں کی زندگی کا انحصار بھیڑ بکریوں، گھوڑوں، اونٹوں اور کھجوروں پر تھا۔ عرب مشرک لاتعداد فرقوں میں بٹے تھے اور لاتعداد خداؤں پر اعتقاد رکھتے ۔۔۔مزید پڑھیں

اللہ تعالیٰ بے انتہا حسین وجمیل ہے وہ چاہتا تھا کہ اس کے حسن کو کوئی دیکھے، تعریف کرے اور اس میں محو ہو کر ہر چیز بھلا دے۔ اس کے لیے ایک ایسا مجسم آئینہ درکار تھا جس میں وہ اپنا حسن ظاہر کر سکے۔یہی چاہت انسان کی تخلیق کا باعث بنی۔ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ پاک کا سب سے کامل آئینہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ بابرکات بنی۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو ؒ نے فرمایا ہے:
* ’’ جان لو کہ جب اللہ واحد نے حجلۂ تنہائی وحدت سے نکل کر کثرت میں ظہور فرمانے کا ارادہ کیا تو اپنے حسن و جمال کے جلوؤں کو صفائی دے کر عشق کا بازار گرم کیا جس سے ہر دو جہان اس کے حسن و جمال پر پروانہ وار جلنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے میم احمدی کا نقاب اوڑھا اور صورتِ احمدی اختیار کی۔‘‘ (رسالہ روحی شریف)
صورتِ احمدی دراصل اللہ تعالیٰ کے نور کی بہترین صورت ہے جس میں کچھ کمی یا خامی نہیں ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:’’اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے۔ چراغ فانوس میں ہے فانوس ایسے ہے کہ ایک موتی جو ستارے کی مانند چمکتا ہے۔ یہ چراغ اس برکت والے پیڑ زیتون کے تیل سے روشن ہوتا ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی۔ قریب ہے کہ اس کا تیل ۔۔۔مزید پڑھیں

انفاق کے لغوی معنی ’’خرچ کرنا‘‘ اور فی سبیل  اللہ کے معانی ہیں ’’ اللہ تعالیٰ کی راہ میں‘‘۔ اصطلاحِ شریعت میں اللہ کی رضا کے لیے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کو انفاق فی سبیل اللہ کہا جاتا ہے۔
شریعت میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے یعنی انفاق فی سبیل اللہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک انفاقِ واجبہ اور دوسری انفاقِ نافلہ۔ ان میں ایک قسم فرض اور دوسری نفلی صدقہ و خیرات کے زمرے میں آتی ہے۔۔۔مزید پڑھیں

موجودہ دور نفس پرستی کا دور ہے۔ اکثریت اللہ تعالیٰ کی بجائے نفس کے بتوں(نفسانی خواہشات کے بت) کی پرستش میں مصروف ہے۔ نفس اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان حجاب ہے اگر یہ حجاب درمیان سے ہٹ جائے تو اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان کوئی پردہ نہیں رہتا۔ یہ حالت ’’قلبِ سلیم‘‘ کی منزل یعنی نفسِ مطمئنہ پر پہنچ کر حاصل ہوتی ہے ۔ریاکاری، نفاق، حُبِّ دنیا ، حُبُّ الشَہوات، بغض ، کینہ، حسد، غصہ، شہوتِ معدہ،۔۔۔مزید پڑھیں

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ترجمہ: یہ وہ گھر ہیں جن کے بلند کیے جانے اور جن میں اللہ کے نام کا ذکر کیے جانے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ وہاں وہ لوگ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں اور اسی کا نام لیتے ہیں جنہیں خدا کے ذکر، نماز ادا کرنے اور زکوٰۃ دینے سے نہ تجارت غافل کرتی اور نہ خریدو فروخت یہ لوگ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن آنکھیں اُلٹ پلٹ ہو جائیں گی  ۔۔۔مزید پڑھیں

دِل میں کسی خاص چیز کے حصول کی خواہش اور ارادہ کا نام طلب ہے، اور حصولِ طلب کا جذبہ دِل میں ہی پیدا ہوتا ہے۔ جو انسان اپنے دِل میں اللہ تعالیٰ کی پہچان ، دیدار اور معرفت کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کی خواہش کو” طلبِ مولیٰ ” اور اسے طالبِ مولیٰ یا ارادت مند کہتے ہیں، جسے عام طور پر سالک ، طالب یا مرید کے نام سے بھی موسوم کیا جا تا ہے۔دنیا میں تین قسم کے انسان یا انسانوں کے گروہ پائے جاتے ہیں: 1۔ طالبانِ دنیا، 2۔ طالبانِ عقبیٰ، 3۔ طالبانِ مولیٰ۔ان تینوں گروہوں کو اس حدیث قدسی میں بیان کیا گیا ہے:طَاْلِبُ الْدُّنْیَا مُخَنَّثٌ وَ طَاْلِبُ الْعُقْبٰی مُؤَنَّثٌ وَ طَاْلِبُ الْمُولٰی مُذَکِّرٌ    ترجمہ: دنیا کا طالب (مخنّث) ۔۔۔مزید پڑھیں

Spread the love