امانتِ الٰہیہ کا حقیقی وارث |Amnat e Elaheya ka Haqeeqi Waris

امانتِ الٰہیہ کا حقیقی وارث

تحریر: نورین عبدالغفور سروری قادری (سیالکوٹ)

جو بار آسمان و زمیں سے نہ اُٹھ سکا
تو نے غضب کیا دلِ شیدا اٹھا لیا

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:’’ہم نے بارِ امانت کو آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کیاسب نے اسے اٹھانے سے عاجزی ظاہر کی لیکن انسان نے اسے اٹھا لیا۔ (الاحزاب۔72)
امانت سے مراد امانتِ الٰہیہ، خلافتِ  الٰہیہ، نیابتِ الٰہیہ یا امانت ِ فقر ہے۔ شاہ محمد ذوقیؒ اپنی تصنیف ’’سِرّدلبراں ‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’وہ بارِ امانت جس کے متحمل ہونے کی صلاحیت آسمان و زمین نے اپنے آپ میں نہ پائی اور جس کی تاب پہاڑ نہ لا سکے اور جو بوجھ نہ صرف آسمان بلکہ آسمان والوں سے بھی نہ اٹھ سکا اور حضرتِ انسان نے اس بوجھ کو اٹھا لیا وہ ظہورِ وجود ہے۔ ظہورِ وجود یعنی ’’ظہور ذات مع الاسماء و صفات ‘‘کا حامل صرف انسانِ کامل ہے۔‘‘ (سرّ دلبراں)
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان مبارک ہے کہ امانت سے مراد ’’اسم ِ اللہ ذات ‘‘ہے۔
اسم ِ اَللہ ذات کے متعلق حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

اسمِ اللہ بس گراں است بس عظیم
ایں حقیقت یافتہ نبیؐ کریم

ترجمہ: اسمِ اللہ بہت ہی بھاری اور عظیم امانت ہے۔اس کی حقیقت کو صرف حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی جانتے ہیں۔
فقرا کاملین کے نزدیک امانت سے مراد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ’’ورثہ ٔ فقر‘‘ہے اور جو اس ’’ورثہ ٔفقر‘‘ کا وارث ہوتا ہے وہی حاملِ امانتِ الٰہیہ ہوتا ہے اور وہی روحانی سلسلہ کا سربراہ، امام اور اپنے زمانہ کا سلطان ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام خزانۂ فقر کے مختارِ کُل ہیں اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وراثت ہے اور وارث ہی وراثت تقسیم فرماتا ہے۔ جب طالب فنا فی اللہ بقا باللہ یا فنا فی ھُو یعنی وحدت کی منزل تک پہنچ جاتا ہے اور توحید میں فنا ہو کر ’’سراپا توحید‘‘ ہو جاتا ہے تو انسانِ کامل، فقیر ِ کامل کے مرتبہ پر فائز ہو جاتا ہے۔ وہی امامِ مبین اور وہی مرشد کامل اکمل ہوتا ہے۔ حدیثِ نبویؐ ہے:
٭ اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ۔
ترجمہ:جہاں فقر کی تکمیل ہوتی ہے وہیں اللہ ہوتا ہے۔ 

جس انسان کو امانتِ  الٰہیہ یا امانتِ فقر منتقل ہونا ہوتی ہے وہ اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ  کے مرتبہ پر فائز ہوتا ہے۔ حاملِ  امانتِ الٰہیہ وہ ہوتا ہے جو فنا فی فقر، فنا فی الرسول اور فنا فی ھُو ہوتا ہے۔ حضرت موید الدین جندی تفسیر روح البیان جلد اوّل میں سورہ فاتحہ کی تفسیر میں اسمِ اعظم کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’اس کے معنی وہ انسانِ کامل ہے جو ہر زمانہ میں ہوتا ہے یعنی وہ قطب الاقطاب اور امانتِ الٰہیہ کا حامل اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہوتا ہے اور ’’اسمِ اعظم‘‘ کی صورت اس ولی کامل کی ظاہری صورت کا نام ہے۔‘‘
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ امانتِ  الٰہیہ کے حامل کو ’’صاحب ِ مسمّٰی‘‘ فرماتے ہیں۔ صاحبِ مسمّٰی سے مراد فنا فی اللہ بقا باللہ فقیر (انسانِ کامل) ہے جو مسند ِ تلقین و ارشاد پر فائز ہوتا ہے۔ یہی وہ ذات ہے جو مرشد کامل اکمل ہے اور اسمِ اللہ ذات عطا کرنے پر منجانب اللہ مامور ہے۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
٭ صاحبِ مسمّٰی سے مراد وہ مظہر ِالٰہی ہے جس میں ظہورِ ذات مع الاسماء وصفات ہوتا ہے یا یوں کہا جا سکتا ہے کہ وہ طالب یا مرید جو مرشد کی ذات وتمام صفات کا مظہر ہوتا ہے اور اس کے لباس میں مرشد ہی ملتبس ہوتا ہے۔ یعنی وہ طالب ِ مولیٰ جسے مرشد امانتِ الٰہیہ وامانتِ فقر منتقل کرتا ہے۔ یہ واحد ہوتا ہے اور ہر زمانہ کی شان کے مطابق عام طور پر نئی جگہ پر ظاہر ہوتا ہے۔جسے تصوف میں خلیفہ اکبر کہا جاتا ہے۔
’’امانت‘‘ جس طالب کے سپردکی جاتی ہے وہ ازل سے منتخب شدہ ہوتا ہے۔ اس کا باطن آئینہ کی طرح پاکیزہ اور صاف ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اسے باطن میں بیعت فرما کر غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ کے سپرد فرماتے ہیں جو اس کی باطنی تربیت فرمانے کے بعد ظاہری مرشد کے سپرد فرماتے ہیں۔ مرشد اسے مختلف ظاہری وباطنی آزمائشوں اور امتحانات میں سے گزارتا ہے۔ جس طرح سونا بھٹی میں تپ کر کندن بن جاتا ہے اسی طرح یہ طالبِ مولیٰ اپنے بے مثل صدق، اخلاصِ نیت، شدتِ عشق، وفا و قربانی اور فضلِ الٰہی کی بدولت آزمائشوں اور امتحانات سے گزرنے کے بعد اس لائق ہو جاتا ہے کہ امانت اس کے سپرد کی جا سکے۔ وہ مرشد سے بے انتہا عشق اور مرشد کی بے لوث خدمت کی وجہ سے مرشد کی نظر میں عاشق سے معشوق، محب سے محبوب اور مرشد کے دِل کا محرم و رازدار بن جاتا ہے۔ صرف یہی طالب رازِ پنہاں سے باخبر ہوتا ہے۔ ’’امانت‘‘ کی منتقلی بھی ان عاشق اور معشوق، محرم اور محرمِ راز کے درمیان ایک راز ہوتی ہے جو خاموشی اور رازداری سے عمل میں آتی ہے۔
امانت کی منتقلی کا ایک طے شدہ اصول ہے جس کو مولانا رومؒ نے مثنوی کے دفتر سوم میں یوں بیان فرمایا ہے ’’اللہ تعالیٰ اپنی امانت ایسے شخص کے دِل میں ودیعت کرتا ہے جس کی زیادہ شہرت نہ ہو۔‘‘
سلسلہ سروری قادری کے مشائخ بھی شہرت سے ہمیشہ دور رہتے ہیں۔ طالبانِ مولیٰ کے علاوہ انہیں نہ تو کوئی جانتا ہے اور نہ ہی ان کے مزارات کی شہرت دوسرے سلاسل کے مشائخ کی طرح ہوتی ہے۔ یہ لوگ اس حدیث ِ قدسی کے مصداق ہوتے ہیں:
اِنَّ اَوْلِیَآئِیْ تَحْتَ قَبَآئِیْ لَا یَعْرِفُھُمْ غَیْرِیْ ط
ترجمہ: بیشک میرے وہ اولیا بھی ہے جو میری قبا کے نیچے چھپے رہتے ہیں انہیں میرے سوا کوئی نہیں جانتا۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓسے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’تمام بندوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ زیادہ محبوب ہیں جو اہلِ تقویٰ ہیں اور ’پوشیدہ‘ ہیں۔ اگر وہ غائب ہوں تو انہیں کوئی تلاش نہ کرے، گواہی دیں تو پہچانے نہ جائیں۔ یہی لوگ ہدایت کے امام اور علم کے چراغ ہیں۔‘‘ (طبرانی، حاکم)  (بحوالہ کتاب سلطان العاشقین)
ولی اللہ اس جہانِ فانی سے پردہ کرنے سے پہلے اللہ کے حکم سے مسند ِ تلقین وارشاد اپنے روحانی وارث کے سپرد کرتا ہے تاکہ مخلوقِ خدا کی رہنمائی کا سلسلہ جاری رہ سکے۔ آقاپاک علیہ الصلوٰۃ والسلام اس انسان کو، جس کو امانتِ فقر منتقل ہونی ہو، غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے حوالے کرتے ہیں اور پھر وہاں سے امانت ِ الٰہیہ کیلئے اس انسان کو سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ کی بارگاہ میں پہنچا دیا جاتا ہے اور پھر وہاں سے موجودہ دور کے انسانِ کامل تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ کے روحانی وارث موجودہ دور کے مرشد کامل اور فقیر ِکامل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں اور آپ مدظلہ الاقدس سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں (31) شیخِ کامل ہیں۔ سلسلہ سروری قادری حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے شروع ہو کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ذریعہ امت ِ محمدیہ کو منتقل ہوتا ہے اور اُن سے خواجہ حسن بصریؓ کے ذریعہ سلسلہ در سلسلہ سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ اور پھر سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ اور پھر ان سے سلسلہ در سلسلہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس تک پہنچتا ہے۔
21 مارچ 2001 فقر کی تاریخ کا وہ عظیم دِن ہے جب سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ نے امانتِ الٰہیہ اپنے محرمِ راز سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو منتقل فرمائی۔ یہ وہ خاص دن ہے جس دن فقر کو آپ مدظلہ الاقدس کی صورت میں ایک نیا عنوان عطا ہوا اور اس کے بعد ہر طلوع ہوتا سورج سلطان الفقر ششم کے مندرجہ ذیل فرمان مبارک کو سچ ہوتا ہوا دکھا رہا ہے ’’ہم فقر کا عنوان ہیں اور آپ اس کی تفصیل ہوں گے۔‘‘
سلطان الفقر ششمؒ نے اس مادہ پرست دور میں فقر کا بند دروازہ عوام الناس پر کھول دیا اور سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس اسے دنیا بھر میں عام فرما رہے ہیں۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے اپنے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کے وصال کے فوراً بعد 26 دسمبر 2003ء کو مسند ِ تلقین و ارشاد سنبھالی۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس وہ واحد ہستی ہے جو بیعت کے پہلے روز ہی سلطان الاذکار ’’ھُو‘‘ اور ذکر وتصور اسمِ  اللہ ذات وظیفے کے طور پر عطا فرماتے ہیں۔ اورطالب کو اپنی نگاہِ کامل سے اس روحانی بلندی پر پہنچا دیتے ہیں جس کی بدولت وہ اس افضل ذکر کی تجلیات کو بآسانی برداشت کر لیتے ہیں۔ 

ذکر و تصور اسم اللہ دا، جو ہادی تیرے توں پائے
ھُو دے تصور وچ رہے ہمیشہ،ذاتی اسم کمائے
مشق ِ مرقومِ وجودیہ دے نال اوہ اپنے تن نوں پاک کرائے
سلطان نجیب صادقاں عاشقاں نوں،اللہ دے نال ملائے

جب طالبِ اسمِ اللہ ذات کے ذکر و تصور میں تھوڑا پختہ ہو جاتا ہے تو آپ مدظلہ الاقدس عین الیقین سے حق الیقین کی منزل پر پہنچانے کے لیے اسمِ محمدؐ عطا فرماتے ہیں جس سے طالب کے باطن پر انتہائی خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یوں فقر و معرفت کی پیچیدہ باتوں کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا طالب کے لیے نہایت آسان ہو جاتا ہے اور وہ طالب سے مطلوب، مسلمان سے مومن اور محب سے محبوب بن جاتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس شانِ فقر ہیں آپ کی بارگاہ میں جو ایک بار صدقِ دل سے آتا ہے وہ اپنے آپ کو عشقِ مصطفیؐ سے سرشار پاتا ہے اور یہ آپ مدظلہ الاقدس کی صحبت کا ہی فیض ہے کہ صادق طالب ِ مولیٰ کے اندر سوائے اللہ کے کچھ نہیں رہتا اور عشقِ  الٰہی سے وصالِ الٰہی کی کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے۔

طالب بن کے عاجزی نال،سلطان العاشقین کول جیہڑا آجاوے
سوہنے مرشد دا لڑ پھڑ کے، ازلی نصیبہ فقر اوہ پا جاوے
جیہڑا تینوں بُھل جاوے، شیطان مردود نوں او بھاجاوے
سلطان نجیب روپ اللہ دا ای، جو جانے فقر ِ محمدی پا جاوے

آپ مدظلہ الاقدس اُمت ِ مسلمہ کو ورثہ محمدی یعنی فقر ِ کا فیض عطا فرما رہے ہیں اور جو کوئی اس راستے پر چلتا ہے وہ خودبخود ہر فرقہ سے بالاتر ہو کر خاص الخاص اللہ تعالیٰ کی معرفت و عشق کے راستے یعنی صراطِ مستقیم پر گامزن ہو جاتا ہے۔ آفتابِ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس صاحب ِ مسمّٰی مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ فقیر مالک الملکی ہیں جن کی نگاہِ کیمیا اثر کی کوئی حد نہیں۔ طالبانِ مولیٰ آپ مدظلہ الاقدس کی محفل میں بیٹھے ہوں یا دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں آپ کی نگاہِ فیض رساں سے یکساں طور پر مستفید ہوتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی ایک نگاہ زنگ آلود قلوب کے لیے صیقل کا کام کرتی ہے اور دلوں سے دنیا اور حب ِ دنیا کی ظلمت کو دور کر کے اس میں معرفتِ  الٰہی کا نور بھر دیتی ہے۔ 

نگاہِ ولی میں وہ تاثیر دیکھی
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی 

آپ مدظلہ الاقدس اپنے تصرف، اختیار اور نگاہ کے کمال سے طالب مرید کے نفس کا تزکیہ اور قلب کا تصفیہ کر کے اسے آئینے کی مانند شفاف بنا دیتے ہیں۔ بطور باطنی طبیب اسے اس کی تمام باطنی بیماریوں حسد، کینہ، خود پسندی، تکبر، لالچ، ہوس، بہتان وغیرہ سے مکمل نجات دلا کر اسے تمام خصائلِ رزیلہ سے بالکل پاک فرما دیتے ہیں اور پھر اس کے نفس کو امارہ سے لوامہ، لوامہ سے ملہمہ اور ملہمہ سے مطمئنہ کے درجے تک پہنچاتے ہوئے اسے تمام اوصافِ حمیدہ سچائی، خلوص، نیک نیتی، اللہ کی بے غرض محبت، صبر، استقامت، عاجزی، تسلیم و رضا، شکر وغیرہ سے مزیّن و آراستہ کر دیتے ہیں۔ طالب کی پرانی شخصیت کو اپنی صحبت وقرب کے فیض سے یکسر تبدیل کر کے اسے ایسی با کمال، خوش اخلاق، نورِ ایمان سے بھر پور شخصیت عطا کر دیتے ہیں کہ طالب خود بھی اپنے آپ کو پہچان نہیں پاتا۔ طالب کو ظلمت و جاہلیت سے نکال کر نورِ معرفت عطا کرتے ہیں جس کی روشنی میں وہ اپنے نفس کو پہچان کر اپنے اندر اپنے ربّ کی پہچان حاصل کرتا ہے۔ جیسا کہ حدیث ِ نبوی ہے:
ترجمہ: ’’جس نے اپنے نفس پہچانا اس نے اپنے ربّ کو پہچانا۔‘‘
آپ مدظلہ الاقدس اپنے مریدین کو یوں پاک فرما دیتے ہیں جیسے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ اس بیت میں فرماتے ہیں: 

کامل مرشد ایسا ہووے، جیہڑا دھوبی وانگوں چَھٹے ھُو
نال نگاہ دے پاک کریندا، وِچ سجی صبون نہ گھتے ھُو
میلیاں نُوں کر دیندا چِٹا، وِچ ذرّہ میل نہ رَکھے ھُو
ایسا مرشد ہووے باھُوؒ، جیہڑا لُوں لُوں دے وِچ وَسّے ھُو

آپ مدظلہ الاقدس اپنی رہنمائی میں طالبِ  مولیٰ کو اس دنیا کے جنگل سے نکال کر عالمِ ملکوت کا سفر طے کراتے ہوئے عالمِ جبروت سے عالمِ لاھُوت تک لے جاتے ہیں جہاں وہ اپنے پروردگار سے ملاقات کرتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نہ صرف طالب کو ان تمام عالموں سے بآسانی نکال کر قربِ الٰہی میں پہنچاتے ہیں بلکہ ہر دم اس کی نگہبانی کرتے ہیں تاکہ وہ کسی بھی لمحے شیطان کے فریب میں نہ پھنس جائے۔ 

مرشد کامل ایسا ملیا، جس دِل دی تاکی لائی ھُو
میں قربان اس مرشد باھُو جس دَسیا بھید اِلٰہی ھُو

آپ مدظلہ الاقدس طالب کے باطن کو باصفا بنا کر اپنے دست ِ مبارک سے اس کے قلب پر اسمِ اللہ ذات اس طرح نقش کر دیتے ہیں جو تا ابد نہیں مٹ سکتا۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے طالبوں کے ظاہری حلیے اور رہن سہن کو تبدیل کرنے کی بجائے ان کے خیالات اور نظریات تبدیل کرتے ہیں اور ان کی توجہ دنیا سے ہٹا کر اللہ کی طرف لگا دیتے ہیں۔ آپ ظاہر کی بجائے باطن کو سنوارنے پر زور  دیتے ہیں کیونکہ اللہ تک جسم کے ذریعے نہیں بلکہ باطن اور روح کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا ہے۔ آپ مدظلہ الا قدس سراپا رحمت ہیں۔ آج کے پُرفتن دور میں جب ہر طرف جہالت اور گمراہی عام ہے آپ مدظلہ الاقدس اپنی رہنمائی میں طالب کو گمراہیوں کے اندھیروں سے نکال کر اس کے وجود کو ہدایت کی روشنی سے منور فرما دیتے ہیں اور طالب ِ دنیا کو طالب ِ مولیٰ بنا دیتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے مریدین کی تمام غلطیوں، کوتاہیوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔ اپنی شفقت اور محبت سے انہی غلطیوں کو ان کے لیے سیکھنے کا باعث بنا دیتے ہیں۔ بلاشبہ آپ مدظلہ الاقدس اپنے طالبوں کے لیے ایک سایہ دار درخت، شفیق باپ، بہترین دوست اور محبوب استاد ہیں۔ کوئی امیر ہو یا غریب، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو یا کم تعلیم یافتہ، معاشرے میں اس کا کیا مقام ہے یہ آپ کے لیے اہمیت نہیں رکھتا بلکہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اصول کے مطابق آپ مدظلہ الاقدس کے لیے بھی فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنا نورانی فیض ہر طالب پر یکساں نچھاور فرماتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہر دل کی سرزمین اپنی استعداد کے مطابق سیراب ہوتی اور فیض پاتی ہے۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی باکمال وبے مثال شخصیت کو الفاظ کے محدود دائرہ میں قید کر کے بیان کرنا نا ممکن ہے۔ وہ صرف اللہ ہی ہے جو اپنے محبوبین کی شان کو بہترین الفاظ میں بیان فرماتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی شخصیت ان آیاتِ قرآنی اور احادیث کی عین عکاس ہے:
٭ آپ کاوصف۔تقویٰ
بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سے عزت والا وہ ہے جو تقویٰ رکھتا ہے۔ ( الحجرات۔13)
٭ آپ کا باطن۔آئینہ 
مومن رحمن کا آئینہ ہے۔ (حدیث)
٭ آپ کا ظاہر۔ سراپا نور
اللہ اپنے نور کی طرف ہدایت دیتا ہے جسے وہ چاہتا ہے۔( النور۔ 35)
٭ آپ کا قلب مبارک۔ عرش اللہ
مومن کا قلب اللہ کا عرش ہے۔ (حدیث)
٭ آپ کا مقام۔ لِیْ مَعَ اللّٰہ
٭ آپ کی شان۔کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ
٭ آپ کا شعار۔محبت فاتح ِعالم
٭ آپ کا اصول۔یقین محکم، عمل پیہم
٭ آپ کی تعلیم۔اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس
٭ آپ کا ذکر۔سلطان الاذکار ھُو
٭ آپ کا عمل۔ صرف اللہ کے لیے۔
٭ آپ کی تلقین۔پس دوڑو اللہ کی طرف۔ (الذٰریٰت۔50)
میری اللہ تعالیٰ سے التجاہے کہ وہ اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ کے اہلِ بیتؓ کے وسیلہ سے میرے مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی زندگی، تندرستی اور سلامتی میں برکتیں عطا فرمائے تاکہ وہ اس فیض کو پوری دنیا میں عام فرما سکیں۔ اور ہمیں آپ مدظلہ الاقدس کے زیرِ سایہ اللہ تعالیٰ کی معرفت نصیب فرمائیں۔ آمین
استفادہ کتب:
سلطان العاشقین
شمس الفقرا
مجتبیٰ آخر زمانی
ِسرّ دلبراں:  شاہ سید محمد ذوقیؒ

31 تبصرے “امانتِ الٰہیہ کا حقیقی وارث |Amnat e Elaheya ka Haqeeqi Waris

  1. ماشاُاللہ بہت خوب۔
    بے شک حضور سلطان العاشقین سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام اور اس دور کے انسان کامل ہیں۔

  2. فقرائےکاملین کے نزدیک امانت سے مراد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ’’ورثہ ٔ فقر‘‘ہے اور جو اس ’’ورثہ ٔفقر‘‘ کا وارث ہوتا ہے وہی حاملِ امانتِ الٰہیہ ہوتا ہے اور وہی روحانی سلسلہ کا سربراہ، امام اور اپنے زمانہ کا سلطان ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام خزانۂ فقر کے مختارِ کُل ہیں اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وراثت ہے اور وارث ہی وراثت تقسیم فرماتا ہے۔جس انسان کو امانتِ الٰہیہ یا امانتِ فقر منتقل ہونا ہوتی ہے وہ اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ کے مرتبہ پر فائز ہوتا ہے۔

    https://www.twipu.com/SultanBahoo_RA/tweet/1136116633242652672

تبصرے بند ہیں