راہِ حق اور صحبت ِاولیا | Rah-e-Haq or Sohbat e Auliya

راہِ حق اور صحبتِ اولیا

تحریر: یوسف اکبر سروری قادری ۔ لاہور

یک زمانہ صحبت با اولیا
بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا

تاریخ گواہ ہے کہ انبیا وصحابہ کے بعد دین ِ حق کی روشنی کو دنیا میں پھیلانے کاکام جن برگزیدہ ہستیو ں نے سرانجام دیا وہ فقرا کاملین و اولیا کرامؒ ہیں جنہو ں نے مذہب و قومیت، رنگ و نسل اور ذات پات کی پابندیوں سے بالاتر ہو کر بلا تفریق اِس پیغمبرانہ طریق کو جاری رکھا۔ دنیا میں ان حضرات کو بھی ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جنہوں نے اپنے دور کے   بزرگانِ دین اور فقرا کاملین کا دامن تھاما، ان کی صحبت سے اپنے نفوس کا تزکیہ کروا کر قلوب کو نورِ حق سے منور کیا اور پھر ان کے بتائے ہوئے طریق کو اپناتے ہوئے پیغامِ حق کو عوام الناس تک پہنچانے کا اہتمام بھی کیا۔ یعنی نہ صرف خود اُن کی راہ پرچلے بلکہ دوسروں کے لیے بھی راہیں ہموار کیں خواہ اس کے لیے انہوں نے تحریر کا سہارا لیا ہو یا قول و فعل سے اس کا اظہار کیا ہو۔ ایسے خوش نصیب مبارکباد اور ستائش کے مستحق ہیں۔ مگر جنہوں نے غفلت سے کا م لیا، نہ ان فقرا کاملین کی صحبت سے مستفید ہوئے اور نہ ہی ان کی پیروکاروں و اطاعت گزاروں کی بات سنی پس وہ نہ صرف تزکیہ نفس کی دولت سے محروم رہے بلکہ دینِ حق سے بھی دور رہے۔

مرشد کامل اکمل کی صحبت کے ثمرات

مرشد کامل اکمل کی پاکیزہ و نورانی صحبت سے وجود کو پاک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کیو نکہ مرشد کامل اکمل کی نگاہِ کامل اور پاکیزہ صحبت نفس اور وجود کو ویسے ہی معطر کرتی ہے جیسے موسم ِ بہار میں درختوں اور پودوں پر ہریالی آ جاتی ہے۔ یعنی نگاہِ مرشد کامل اکمل کیمیا اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ مولانا جلال الدین رومیؒ فرماتے ہیں:
’’اولیا کا ملین کی نظر پانی کی نسبت زیادہ گندگی اور پلیدی دور کرسکتی ہے کیونکہ پانی ظاہری پلیدی دور کرتاہے جبکہ مرشد کامل اکمل کی نظر گناہوں کی سیاہی دور کر دیتی ہے۔‘‘
مرشد کامل اکمل کی صحبت میں بیٹھنے سے انسان یعنی طالب ِ مولیٰ میں مندرجہ ذیل اوصاف پیدا ہو تے ہیں :
شک یقین میں بدل جاتا ہے۔
ریاکاری سے خلاصی ملتی ہے اور اخلاص و تقویٰ حاصل ہوتا ہے۔
غفلت سے نکل کر بیداری اور معرفتِ حق حاصل  ہو تی ہے ۔
دنیا کی محبت کو چھو ڑ کر اللہ کی طرف رغبت پیدا ہو تی ہے۔
تکبر کو چھوڑ کر عاجزی تواضع وانکساری پیدا ہو تی ہے۔
بدنیتی نیک نیتی میں بدل جاتی ہے۔
بددیانتی دیانت داری میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔
علم الیقین‘ عین الیقین اور حق الیقین میں بدل جاتاہے۔
شر، خیر خواہی اور نیکی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
مولانا رومؒ فرماتے ہیں:

صحبتِ  صالح ترا صالح کند
صحبتِ طالح ترا طالح کند

ترجمہ: نیک لوگوں کی صحبت تمہیں نیک بنا دے گی اور بد کی صحبت تمہیں بد بنا دے گی۔

مرشد کامل اکمل کی بیعت کی فضیلت

امام فخر الدین رازیؒ صاحب ِتفسیر کبیر فرماتے ہیں کہ اگر میں صرف تعوذ یعنی اعوذ باللّٰہ کے مسائل بیا ن کرنے لگوں تو دس ہزار مسائل صرف تعوذسے تخریج کر سکتا ہوں۔
یہ بہت بڑا دعویٰ تھا جس سے معلوم ہو تا ہے کہ آپؒ کتنے بڑے عالم تھے لیکن جب امام فخر الدین رازیؒ پر حالت ِ نز ع طاری ہوئی تو اِس وقت شیطان حملہ آور ہو ا اور بولا امام صاحب یہ تو بتاؤ کہ آپ اللہ تعالیٰ کو کس طرح مانتے اور پہچا نتے ہو۔امام رازی ؒ نزع کے وقت آیاتِ قرانی پڑ ھ پڑھ کر دلائل پیش کررہے تھے مگر شیطان ہر دلیل کے مقابل ایک اور دلیل پیش کر رہا تھا۔
امام فخر الدین رازی ؒ نے وقت ِ نزع اللہ کو ماننے اور پہچاننے کے متعلق تین سو پینسٹھ دلائل پیش کیے لیکن شیطان مردود نے وہ تمام ردّ کر دئیے۔ قریب تھا کہ وہ آپؒ کے ایمان پر حملہ آور ہوتا آپؒ کے مرشد کامل خواجہ نجم الدین کبریٰؒ نے ہزاروں میل فاصلے سے اپنے مرید کو مشکل میں دیکھا کہ وقت ِ نزع کے کٹھن مرحلے میں شیطان سلب ِ ایمان کی پوری کو شش کر رہا ہے۔ خواجہ نجم الدین کبریؒ وضو فرما رہے تھے تو انہوں نے فوراً وضو کے پانی کے چھینٹے مار کر کہا :

رازیؒ تو چرا نمی گوئی کہ
من خدا را بلا دلیل می شناسم

ترجمہ: رازیؒ تو کہہ کیوں نہیں دیتا کہ میں خدا کو بلا دلیل و حجت مانتا ہوں۔
جب مرید صادق نے پیر کامل کی آوازسنی تو کہا اے ملعون! میں خدا کو بلا دلیل و حجت مانتا اور پہچانتا ہوں۔ یہ سنتے ہی شیطان مردود بھاگ گیا اور ایمان سلامت رہا ۔
اولیا کاملین کا دامن ِرحمت صرف دنیا میں ہی نہیں بلکہ نزع وقبر اور حشر میں بھی کام آتا ہے۔ بغیر مرشد کامل اکمل معرفت ِ الٰہی اور عین الیقین سے حق الیقین کی منازل طے کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے۔
مولانارومؒ فرماتے ہیں:

پیر را بگزین کہ بے پیر ایں سفر
ہست بس پُر آفت و خوف و خطر

ترجمہ: مرشد کامل اکمل تلاش کرو کیونکہ (راہِ حق کا) یہ سفر آفات اور خوف و خطرات سے پُر ہے۔ اگرخطرات سے حفاظت چاہیے ہو تو کسی کامل مرشد صاحب ِمسمّٰی کا دامن تھام لو۔

صاحبِ مسمّٰی مرشد کامل اکمل

آفتابِ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمدنجیب الرحمن مدظلہ الاقدس صاحبِ مسمّٰی مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ ہیں۔ جامع نورالہدیٰ فقیر مالک الملکی کی نگاہِ کامل کیمیا اثر ہوتی ہے کہ طالب ِ مولیٰ پر پڑی نہیں اور کندن ہوا نہیں ۔
طالب ِحق و معرفت آپ مدظلہ الاقدس کی محفل ِ مقدس میں دنیا کے کسی بھی گوشے میں بیٹھے ہوں آپ کی نگاہِ کرم کی بدولت جامِ معرفت سے یکساں فیضیاب ہوتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی اِک نگاہِ التفات زنگ آلود قلوب کے لیے صیقل کاکام کرتی ہے اور دلوں سے حب ِ دنیا و ظلمت دور کر کے اِس میں معرفت ِالٰہی کا نور بھر دیتی ہے۔
سلطان العاشقین مدظلہ اقدس اپنی نگاہِ کامل سے زنگ آلود قلوب کو منور فرماتے ہیں اور تزکیہ نفس کی دولت سے سرفراز فرماتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس مجددِ دین اور مرشد کامل اکمل ہیں جن کی شخصیت و عظمت کے سامنے بڑوں بڑوں نے سر خم کر دیئے اور جامِ معرفت کا لطف اٹھایا اور اُٹھا رہے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنی زبانِ درِ فشاں سے طالبانِ مولیٰ کو امربالمعروف ونہی عن المنکر کی تعلیم دیتے اور اصلاحِ نفس کی تلقین کرتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی تلقین کی بدولت لاکھوں طالبانِ مولیٰ معرفت ِ الٰہی حاصل کر کے احکامِ الٰہی اور سنت ِ نبوی ؐ کی اتباع میں زندگی گزار رہے ہیں۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمدنجیب الرحمن مدظلہ اقدس کی بلند شان، خدماتِ دین اور فروغِ فقر کے لیے کی گئی کاوشوں کی فہرست اس قدر طویل ہے کہ اس کے ہر ہر پہلو پر دفاتر بھی تحریر کر دیئے جائیں تو بھی قلم کی حسرت باقی رہ جائے۔ نذرانۂ عقیدت کے طور پر محض اتنا کہہ سکتا ہوں کہ:

لفظ پھر لفظ ہیں جذبوں کو سمیٹوں کیونکر
میں کیسے کر پاؤں اظہارِ عقیدت تجھ سے

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس تاجدارِ فقر ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس فقر کے داعی ہیں اور جامِ معرفت ِ حق سے سیراب فرماتے ہیں۔ آپ مرشد کامل اکمل ہیں اور اِ س آیت مبار کہ کا مصداق ہیں:  کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُؤْنَ بِاللّٰہِ  o   (آلِ عمران۔ 110)

ترجمہ: تم بہترین اُمت ہو جسے انسانوں کے فائدے کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔ تم معرفت کی تعلیم دیتے ہو اور بُرائی سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہو۔

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس معرفت ِ حق کی دعوت دیتے ہیں اور اس کے لیے اسم اللہ ذات کا ذکر و تصور اور مشق مرقومِ وجودیہ عطا فرماتے ہیں۔ فرمانِ خداوندی ہے:
ترجمہ: (اے میرے رسولؐ) فرما دیجئے کہ یہی میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر (قائم) ہوں میں (بھی) اور وہ شخص بھی جس نے میری اتباع کی۔ (یوسف۔108)
داعی حق ومعرفت کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود بھی اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو اور دوسروں کو بھی حق ومعرفت کی دعوت دے۔
ا رشادِ الٰہی ہے :
ترجمہ:کیا تم دوسرے لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو۔ (البقرہ۔44)
آپ مدظلہ الاقدس خود بھی اللہ کے ذکر میں محو رہتے ہیں اور دوسرو ں کو بھی اِس کی دعوت دیتے ہیں۔
سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس دین کی بے لوث خدمت فرما رہے ہیں اور فقر کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے کسی طمع ولالچ کے بغیر دن رات مصروفِ عمل ہیں اور اِس ارشادِ خدا وندی کا مصداق ہیں:
ترجمہ :(اے محبوبؐ!) فرما دیجئے میں تم سے اس (تبلیغ) پر کچھ معاوضہ نہیں چاہتا مگر جو شخص اپنے ربّ تک (پہنچنے کا) راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے (کر لے)۔
سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس اللہ تعالیٰ کی نصرت و مدد پر کامل یقین رکھتے ہیں اور نا مساعد حالات میں بھی اللہ پر بھر وسہ رکھتے ہیں۔ دعوتِ اسم ِاللہ ذات کو دنیا کے کو نے کو نے تک پھیلانے کے لیے جدید ذرائع ابلاغ کو بھی بروئے کار لا رہے ہیں تاکہ فقر کی تعلیمات کا پیغام ہر خاص و عام تک پہنچایا جا سکے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ :اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد  کروگے تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدموں کو مضبوط رکھے گا۔ (محمد۔7)
اِس آیت مبارکہ میں اللہ جل شانہٗ ایمان والو ں سے مخاطب ہے کہ تم اللہ کی مدد کر وگے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔ اللہ کی مدد کیا ہے؟ اللہ کی مدد کیسے کی جائے گی ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْویٰ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ  (المائدہ۔2)

ترجمہ: اور نیکی اور تقویٰ کے کامو ں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور ظلم (کے کا موں) میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو ۔
یعنی راہِ حق کی طرف لوگوں کو بلایا جائے وہی فلاح اور کامیابی کی راہ ہے۔

دور حاضراور ہمارا کردار

دورِ حاضر میں مختلف ذرائع ابلا غ کام کر رہے ہیں جن سے ہر خاص وعام مطلع ہے۔ اگر غوروفکر کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان ذرائع ابلاغ کا جو اصل مقصد ہونا چاہیے وہ مقصد پورا نہیں ہو رہا۔ معمولی سے معمولی واقعات بھی ذرائع ابلاغ کی زینت بنتے ہیں مگر جس مقصد کی خا طر انسان کو اس دنیا میں بھیجا گیا یعنی اللہ کی معرفت اور عبادت‘ اس مقصد کو حاصل کرنے اور اس پیغام کو عام کرنے سے لوگ غافل ہیں۔
موجودہ دور میں تحریک دعوتِ فقر ہی وہ واحد جماعت ہے جو فرقہ پرستی سے بالاتر ہو کر تمام جدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کرتے ہوئے اللہ کی معرفت اور قرب کی دعوت دیتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ اس تحریک کو سلسلہ سروری قادری کے امام اور مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی سرپرستی اور فیضانِ نظر حاصل ہے جس کی بدولت پیغامِ فقر کو دنیا بھر میں عام کیا جا رہا ہے۔
تحریک دعوتِ فقر آپ کو دعوت دیتی ہے کہ آئیں سلسلہ سروری قادری کے امام و مرشد کامل اکمل اور دورِ حاضر کے مجدد اور پیشوا سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کا دامن ِ عاطفت تھامیں اور تزکیہ نفس کی نعمت حاصل کریں۔ تحریک دعوتِ فقر میں شامل ہو کر پیغامِ فقر کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور ان خوش نصیبو ں میں شامل ہوں جن سے زمانہ روشنی حاصل کر تا ہے۔

45 تبصرے “راہِ حق اور صحبت ِاولیا | Rah-e-Haq or Sohbat e Auliya

  1. بےشک میرے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الراحمن مدظلہ اقدس کے عطا کردہ اسم اللہ ذات مشق مرقوم وجودیہ اور خفی ذکر یاھو سے اللہ پاک اور حضرت محمد ﷺ کا دیدار (ملاقات) اور پہچان ہوتی ہے
    اس طرح انسان کا مقدصد حیات حاصل ہوتا ہے
    تحریک دعوت فقر پاکستان لاہور ذندہ باد

  2. میں نے اس قدر د ل میں سرایت کرنے والی تحریر نہیں پڑھی آج سے قبل ۔۔۔۔۔۔۔۔

  3. میری توصیح فرمایے گا اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو جائے ۔

  4. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس اس دور کے مرشد کامل اکمل نورالہدیٰ اور حضر ت سخی سلطان باھو کے حقیقی روحانی وارث ہیں اور سلسلہ سروری قادری کے 31 امام ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس بیعت کے اسم اعظم اسم اللہ ذات کا آخری ذکر عطا فرماتے ہیں۔

  5. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس اس دور کے مرشد کامل اکمل نورالہدیٰ اور حضر ت سخی سلطان باھو کے حقیقی روحانی وارث ہیں اور سلسلہ سروری قادری کے 31ویں امام ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس بیعت کے اسم اعظم اسم اللہ ذات کا آخری ذکر عطا فرماتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں