سلطان الصابرین کا عشقِ مرشد اور عارفانہ کلام | Sultan ul Sabireen ka Ishq e Murshid aur Arifana Kalam

یومِ وصال 10 صفر المظفر
سلطان الصابرین کا عشقِ مرشد  
اور عارفانہ کلام

تحریر: مسز فائزہ سعید سروری قادری۔ زیورخ(سوئٹزر لینڈ)

سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبد الغفور شاہ رحمتہ اللہ علیہ 14 ذوالحجہ 1242ھ (9 جولائی 1827) بروز سوموار نمازِ مغرب کے وقت چوٹی ضلع ڈیرہ غازی خان میں فضل شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے والد چشتی سلسلہ کے عظیم المرتبت بزرگ حضرت خواجہ سلیمان تونسوی رحمتہ اللہ علیہ کے مرید تھے۔ آپؒ کی پیدائش کی خوشخبری اور مرتبہ کی بشارت حضرت خواجہ سلیمان تونسویؒ نے پہلے ہی ان الفاظ میں دے دی تھی ’’تیرے گھر میں ایک ’ولی ٔ کامل‘ پیدا ہونے والا ہے،تجھے مبارک ہو۔‘‘
8سال کی عمر میں آپؒ کے والد محترم کا انتقال ہو گیا اور 20 سال کی عمر میں والدہ ماجدہ بھی دارِ فانی سے کوچ کر گئیں۔ 18سال کی عمر میں آپؒ نے اپنی دینی تعلیم مکمل کر لی تھی۔ جیسے جیسے آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنی دینی تعلیم مکمل کرتے جا رہے تھے ویسے ویسے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے دل میں بے چینی بڑھتی جا رہی تھی اور پھر 25سال کی عمر میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کو خواب میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حکم دیا کہ جاؤ احمد پور شرقیہ چلے جاؤ وہاں سیّد محمد عبداللہ شاہ جیلانی رحمتہ اللہ علیہ تمہارا انتظار کر رہے ہیں تم فقر کی امانت کے لیے منتخب ہو چکے ہو۔ نیند سے بیدار ہوتے ہی آپؒ فوراً سفر پر روانہ ہو گئے۔
8شوال 1267ھ (5 اگست 1851) بروز منگل آپ رحمتہ اللہ علیہ احمد پور شرقیہ پہنچے۔ ابھی آپ رحمتہ اللہ علیہ حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے گھر کی گلی کی نکڑ پر ہی پہنچے تھے کہ کسی نے آپؒ کا نام لے کر آواز دی اور کہا ’’عبداللہ شاہؒ نے تجھے بلایا ہے‘‘ آپ اس شخص کے ساتھ ایک حویلی میں پہنچے تو سامنے صحن میں ایک نورانی صورت والے بزرگ کو پلنگ پر تشریف فرما دیکھا۔ جیسے ہی آپ رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی جانب دیکھا تو جو بے چینی اور بے قراری ایک عرصہ سے لاحق تھی وہ ختم ہو گئی اور دل کو یقین ہو گیا کہ عرصہ دراز سے دل جس کا متلاشی تھا یہ وہی صورت ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے آگے بڑھ کر قدم بوسی کی اور ادب سے زمین پر بیٹھ گئے۔ حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد عبداللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے پوچھنے پر تمام احوال بیان کر دیا اور آپؒکے قدموں میں گر کر رونے لگے۔ حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد عبداللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے سینے سے لگایا اور فرمایا آج آرام کر لو کل بات کریں گے۔ یہ تھی ایک دائمی اور سچے عاشق کی اپنے محبوب سے پہلی ملاقات اور پھر عشق میں سلطان الصابرین ؒنے وہ کمال حاصل کیا کہ محب سے محبوب بن گے اور پھر میں اور تو کا فرق بھی نہ رہا۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس فرماتے ہیں :
٭ کائنات کی ابتدا عشق ہے اور انسان کی تخلیق بھی عشق کے لیے ہے۔
دیدارِ حق کے لیے طالب کے دل میں عشق کا پیدا ہونا لازمی ہے۔ دراصل روح اور اللہ کا رشتہ ہی عشق کا ہے۔ بغیر عشق کے نہ تو روح بیدار ہوتی ہے اور نہ ہی دیدار پا سکتی ہے۔
عشق ِ حقیقی ہی بارگاہِ ربّ العالمین میں کامیابی دلاتا ہے، عشق ہی انسان کو ’شہ رگ‘ کی روحانی راہ پر گامزن کر کے آگے لے جانے والا ہے یہی اس راہ سے شناسا کرواتا ہے۔ یہی روح کے اندر وصالِ محبوب کی تڑپ کا شعلہ بھڑکاتا ہے۔ یہی اسے دن رات بے چین و بے قرار رکھتا ہے، آتش ِ عشق تیز کرتاہے اور یہی ’’دیدارِ حق‘‘ کا ذریعہ بنتا ہے۔ (شمس الفقرا)
مولانا رومؒ فرماتے ہیں:

عشق آں شعلہ است کہ چوں بر افروخت
ہر چہ جز معشوق باقی جملہ سوخت

ترجمہ:عشق ایسا شعلہ ہے جب بھڑک اُٹھتا ہے تو معشوقِ حقیقی کے سوا تمام چیزوں کو جلا دیتا ہے۔
ایسے ہی حقیقی عشق کے جذبے میں سالوں سے تڑپتی روح اور بے قرار دل کولے کر جب سلطان الصابرین رحمتہ اللہ علیہ اپنے مرشد سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبداللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے قرب میں آئے تو دل کو سکون اور روح کو آرام ملا۔ اور مرشد کے قرب میں ایسی راحت پائی کہ مرشد پاک کے در کے ہی ہو کر رہ گئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ عمر کے جس حصے میں اپنے مرشد پاک کو ملے اس عمر میں نوجوان اکثر اپنا گھر بار بنانے اور دنیا کمانے کی فکر میں جکڑے ہوئے ہوتے ہیں لیکن آپ رحمتہ اللہ علیہ کو مرشد پاک کے قرب میں اتنا سکون ملا کہ گھر بسانا اور روزی کمانا تو دور کی بات‘ آپ نے کبھی پلٹ کر اپنے گھر بار پر نظر بھی نہ ڈالی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے 8 سال اور 11 ماہ اور تقریباً 21 دن اپنے مرشد کی صحبت میں گزارے، اس تمام عرصے میں اپنے مرشد کی خدمت کے سوا اور کچھ نہ کیا۔
مرشد کی بارگاہ میں پہنچنے کے اگلے روز ہی جب حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبداللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے آپؒ کوبلا کر حکم دیا کہ حویلی میں لگے کنویں کی مٹی ہموار کرو تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے فوراً کام کرنا شروع کیا۔ نازک ہاتھ جنہوں نے کبھی کوئی سخت کام نہ کیا تھا‘ حکم کی تعمیل میں لہولہان ہو گئے لیکن کام نہ چھوڑا۔ جیسے ہی پیر سیّد محمد عبداللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی نظر پڑی تو فوراً پوچھا ’’تمہارے ہاتھ تو بہت نرم و نازک ہیں تم نے انہیں اتنی تکلیف کیوں دی‘‘۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے عرض کی ’’حضور! میں اللہ کی تلاش میں نکلا ہوں اگر اس دوران ہاتھ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر پڑیں تو بھی کوئی پرواہ نہیں۔‘‘ آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنے مرشد کے عشق میں ایسے فنا ہوئے کہ انہیں اپنے مرشد پاک جیسا حسین اور کوئی نہ دِکھتا تھا۔ آپؒ فرماتے ہیں ’’ظاہری صورت میں حسین اور حسن و جمال میں بے مثال میں نے کسی کو اپنے مرشدحضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد عبداللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے برابراپنی تمام عمر میں نہیں دیکھا۔‘‘
عمر کے آخری حصے میں جب آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مرشد کریم کی طبیعت اکثر ناسازگار رہنے لگی توایک دن آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنے مرشد سے اجازت لے کرسلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضر ہوئے تاکہ اپنے مرشد پاک کی صحت یابی کے لیے عرض کر سکیں۔ جیسے ہی مزار پاک پر پہنچے توکسی نے پیچھے سے پکارا، مڑکر دیکھا تو آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مرشد پاک تھے۔ انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ مزار پاک پر رکھا اور بائیں ہاتھ سے پکڑ کر آپ رحمتہ اللہ علیہ کو سینے سے لگایا اور پھر نور کا ایک سمندر مزارِ اقدس سے نکلا اور ایک مرشد پاک کے سینے سے اور دونوں سمندرمل کر آپ ؒ کے سینے میں داخل ہوگئے اور یوں ایک سچے عاشق اور طالب نے اپنے ازلی نصیبہ یعنی امانت ِ فقر کو پا لیا۔ سلطان الصابرین رحمتہ اللہ علیہ کو غش آگیا جیسے ہی ہوش آیا تو مزارِ اقدس میں اپنے مرشد پاک کو تلاش کیا اور نہ ملنے پر فوراً احمد پور شرقیہ لوٹ آئے۔ وہاں پہنچتے ہی مرشد پاک کی وفات کی خبرملی۔
ایک سچے عاشق کی نشانی یہ ہے کہ اُسے ہر پل اپنے محبوب کا قرب اور دیدار چاہئے ہوتا ہے۔ اس کی زندگی کی راحت اور سکون محبوب کے دیدار، قرب اور خدمت میں چھپا ہوتا ہے۔ جیسے ہی سلطان الصابرین رحمتہ اللہ علیہ سے دیدار اور قربِ مرشدکی آسودگی دور ہوئی تو آپؒ پر دیوانگی کی سی کیفیت طاری ہو گئی۔ آپؒ دیوانوں کی طرح ننگے پاؤں جنگلو ں میں پھرتے۔ اگر کچھ مل جاتا تو کھا لیتے ورنہ بھوکے ہی رہتے۔ اس کیفیت کو ایک سال ہونے کوآیا تھا۔ ایک دن اسی دیوانگی کی کیفیت میں بیٹھے زمین پر لکڑی سے لکیریں کھینچ رہے تھے کہ یکدم آپ رحمتہ اللہ علیہ کے وجود میں روشنی پھیل گئی اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے باطن میں آپ کے مرشد نے ظاہر ہو کر فرمایا ’’ہمیں کہاں تلاش کر رہے ہو ہم تمہارے اندر ہیں‘‘ دوئی ختم ہوئی دل کو سکون آیا۔ عشق کی انتہا کیا ہے؟ عاشق کی اپنی ذات محبوب کی ذات میں فنا ہو جائے۔ سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے سچے اور کامل عاشق ہونے کی بنا پر اَنْتَ اَنَا وَ اَنَا اَنْتَ (یعنی میں تو اور تو میں ہے) کا مقام حاصل کیا اور یوں اپنے وجود میں ایک بار پھر اپنے مرشد کو پا لیا اور دیوانگی اور بے سکونی کی کیفیت سے باہر آ گئے۔
عاشقوں کا تو یہ حال ہے کہ اپنے معشوق کے سوا اور کوئی ذکر کرنا یا سننا پسند نہیں کرتے۔ سلطان الصابرین رحمتہ اللہ علیہ کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہ تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے کلام کا بیشتر حصہ مرشد پاک کی شان میں ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

مجھے بھاتے ہیں یا حضرت اذکار تیرے
میرا ورد وظیفہ ہیں وہ خوش اسرار تیرے

اور مرشد کی صحبت میں ایسے سرشار ہیں کہ کسی اور کی ضرورت نہیں۔فرماتے ہیں:

کسی سے کچھ غرض نہیں ہم ہیں سرکار تیرے
اگر زاہد و عابد ہیں دِگر گناہ گار تیرے

جس طرح حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

مرشد دا دیدار ہے باھُوؒ، مینوں لکھ کروڑاں حجاں ھُو

اسی طرح آپؒ کو بھی اپنے مرشدمیں حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اللہ کے نور کی جھلک دکھائی دیتی تھی جس سے سکون حاصل ہوتا تھا۔ اپنے مرشد پاک کی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور سیّدنا غوث الاعظمؓ سے نسبت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

جو حضرت مصطفیؐ کے ہیں تمام اطوار تیرے
جو حضرت غوث الاعظمؓ کے ہیں سبھ آثار تیرے
نظارا خاص وجہہ اللہ وچ دیدار تیرے
جو اکبر حج ہوتا ہے مجھے دربار تیرے

آپ رحمتہ اللہ علیہ محسوس کرتے تھے کہ آپ کے مرشد کے وجود سے نورِ الٰہی کے چشمے پھوٹتے ہیں اور آپ ؒ کے مرشد پاک جہاں بھی قیام کرتے ہیں وہاں نورِ الٰہی برستاہے۔ اس کے متعلق فرماتے ہیں:

چشمہ کُھلیا نور حقانی
شاہ عبداللہؒ فیض رسانی
احمدپور وچ نور برسدا
جتھے شاہ عبداللہؒ وسدا
واقف لوح قلم تے مسدا

مزید فرماتے ہیں:

نور اللہ کر آیا تجلّٰی جوڑ شکل شاھانی
پیر عبداللہؒ شاہ گُل کھِڑیا باغوں شاہ جیلانیؓ

آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنے مرشد کے حسن کا ذکر کچھ یوں فرماتے ہیں:

حسن کمال خوابیدہ چہرہ ویکھ سیرت انسانی
او لُٹ پون مہتاب صحی کر جلوہ شاہ نورانی
تاب کنوں بے تاب کرے اُو صورت یوسف ثانی

اور اپنے مرشد پاک کے عشق میں ڈوب کر نہایت خوبصورت الفاظ میں ان کی شان میں مزید فرماتے ہیں:

شاہِ خوباں محبوباں دا ہادی ہے لاثانی
شمس قمر تے لیل قدر سبھ ویکھ رہن حیرانی
عارف کامل خاص مکمل صاحب عین عیانی
سَے مشتاق جمال اللہ تے جان کرن قربانی

اپنے مرشد کے عشق میں اپنی دیوانگی کی حالت کو بیان فرماتے ہیں:

خوبی نرگس ناز نظر دی
نیتی طاقت ہوش صبر دی
عبدل آہی لیل قدر دی
واہ روشن او سِرّ سبحانی
شاہ عبداللہؒ فیض رسانی

ایک اور منقبت میں اپنا حال یوں بیان فرماتے ہیں:

بھاہیں حسن تیرے دیاں بَلیاں ہوک لگی تن کانی
عشق چراغ بلیا وچ دل دے شوق گھتی گل گانی
حُب دیدار تیرے دی غالب کیتی سِک روحانی
تھی راہی گھر چھوڑ چلیم، توں واگ چھِکی جسمانی
پیر عبداللہؒ شاہ معظم آل رسولؐ نشانی

اور اپنے مرشد پاک کی شفقت کا ذکر کچھ یوں فرماتے ہیں:

شفقت نال سمہالین ہر دم گنج دیوین ارزانی
ظاہر باطن کرو توجہ نال کرم احسانی
نال نظر ارشاد کرین دس اسمِ اعظم سبحانی

الغرض سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہؒ کے کلام کاایک ایک لفظ آپؒ کی زندگی کے ہر لمحے کی طرح عشق ِ مرشد میں ڈوبا ہو ا ہے اور طالبانِ مولیٰ کو عشقِ مرشد کا درس دیتا ہے جو عشقِ حقیقی کی ابتدا ہے۔
ایسے ہی عشق ِحقیقی کی مثال سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں جو سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخ ِ کامل اور مجددِ دین ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے عشق ِ مرشد اور عشق ِ حقیقی کے جذبے سے سرشار ہو کر فقر کی تعلیمات اور فیض کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچا دیا۔ سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے علاوہ دیگر مشائخ سروری قادری کے کلام کو سالہا سال کی تحقیق کے بعد مرتب کرنا سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی مشائخ سروری قادری سے محبت و عقیدت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ فقر و تصوف کے بے شمار موضوعات پر سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی تصانیف ظاہر کرتی ہیں کہ فقر و تصوف کی دنیا میں جو انقلاب آپ مدظلہ الاقدس کے توسط سے برپا ہوا اس سے پہلے نہ ہو سکا۔ بلاشبہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس مجددِ دین ہیں جنہوں نے اپنے نگاہِ کامل، ظاہری و باطنی کمالات اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے ذریعے موجود وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے فقر کو فروغ دیا اور طالبانِ مولیٰ کو تصفیہ قلب اور تزکیہ نفس کی دولت سے سرشار فرمایا۔ لاکھوں قلوب میں سے دنیاوی محبت کو نکال کر عشق کی دولت سے منور کرنا سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا ہی اعجاز ہے۔ طالبانِ مولیٰ کے لیے دعوتِ عام ہے کہ اپنے دلوں کو عشق ِ حقیقی کی دولت سے لبریز کرنے اور دین ِ اسلام کی حقیقی روح فقر حاصل کرنے کے لیے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس سے ذکر و تصور اسم اللہ ذات حاصل کریں۔
نوٹ: سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ رحمتہ اللہ علیہ اور دیگر سروری قادری مشائخ کے عارفانہ کلام مع لغت ملاحظہ فرمانے کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی مرتب کردہ شاہکار کتاب ’’کلام مشائخ سروری قادری‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔ یہ کتاب سلطان الفقر پبلیکیشنز کی درج ذیل ویب سائٹ پر بھی آن لائن مطالعہ کے لیے دستیاب ہے:
www.sultan-ul-faqr-publications.com
مزید برآں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی زیر سرپرستی مشائخ سروری قادری کا کلام ریکارڈ بھی کروایا جا چکا ہے اور آڈیو اور ویڈیو کی صورت میں تحریک دعوتِ فقر کے تینوں ٹی وی چینلز پر بھی دستیاب ہے:
sultan-ul-ashiqeen.tv
sultan-bahoo.tv
sultanulfaqr.tv
یہ کلام یوٹیوب (YouTube)اور ڈیلی موشن (Dailymotion) کے ساتھ ساتھ ساونڈ کلاؤڈ (SoundCloud)پر بھی سنا جا سکتا ہے۔