معمولاتِ زندگی

Click to rate this post!
[Total: 0 Average: 0]

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فقیرِکامل ہیں۔ حق گوئی یہ ہے کہ بلحاظِ فقیرِکامل آپ کے مقام و مرتبہ کا تعین محال اور ناممکن ہے۔ نابینا کا بینا کے مقام کو سمجھنا اس کی عقل و فہم سے بالاتر ہے۔ نابینا کو جتنی بھی وضاحتیں دی جائیں اور مثالیں بیان کی جائیں کہ بینا کی بینائی کی حقیقت کیا ہوتی ہے، وہ نہ سمجھ پائے گا کہ بینائی کا مقام کیا ہے۔ فقیر بینا ہوتا ہے اور اس کے سامنے ساری مخلوق کی مثال نابینا کی سی ہے۔ نابینا کے لیے صاحب ِبینا کا خیال محال ہے۔ جسم کیا بتلائے کہ روح کی حقیقت کیا ہے، زندگی کیا جانے کہ رموزِ موت کیا ہیں۔ بقول اقبالؒ:

بے خبر! رودادِ جاں از تن مپرس

ترجمہ: اے بے خبر! روح کی روداد جسم سے مت پوچھ۔

اصولِ قدرت ہے کہ کسی کے مقام سے واقفیت کے لیے مقصود کے حقیقت ِحال میں شامل ہونا ازحد ضروری ہے۔ مثال کے طور پر زیر تعمیر عمارت کے کام میں مشغول مزدور ایک ڈاکٹر کے فن کی حقیقت کو کیسے سمجھ سکتا ہے! ڈاکٹر ایک پائلٹ کے فن کے مقام و مرتبہ کا ادراک نہیں کر سکتا۔ اگر مزدور ڈاکٹر کے اور ڈاکٹر پائلٹ کے فن کی حقیقت جانچنا چاہے تو بھی باوجود ترددّ اور کوشش کے نہ سمجھ پائے گا۔ یہی حال مخلوق اور فقیرِکامل کے معاملہ میں سچ ہے۔ فقیرِکامل فی زمانہ ایک ہوتا ہے۔ اس کی حقیقت و معرفت صرف فقیرِکامل ہی حاصل کر سکتا ہے۔ فقیرِکامل واحد ہوتا ہے جس وجہ سے اس کی حقیقت الحق لاتعین کے درجے پر رہتی ہے۔ جو ارادہ اور کوشش کرتے ہیں وہ بلحاظِ نیت و استطاعت اس کی حقیقت کا فہم و ادراک پاتے ہیں۔

کسی کو جاننے کا دوسرا ممکنہ طور یہ ہوتا ہے کہ جاننے والا اُس سے اعلیٰ درجے پر فائز ہو۔ اعلیٰ درجے والا اپنے سے نیچے درجے والے کے فن و مقام کو مکمل جانتا ہے۔ اسی طرح فقیرِکامل کے درجے کو صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جانتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت سے صرف اللہ ہی واقف ہے۔ 

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فقیرِکامل کے مرتبہ پر فائز ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کے مقام و مرتبہ اور حقیقت کو سمجھنا نہ صرف محال بلکہ ناممکن ہے جیسا کہ حضرت سخی سلطان باھوؒ کا فرمان ہے:
طالب کی کیا طاقت کہ مرشد کے مرتبے کی تحقیق کرے۔ (فضل اللقا)
ایک طالب اپنے مرشد کو اتنا ہی جان سکتا ہے جس قدر مرشد اپنی معرفت کا جام پلا دے۔ اسی جامِ معرفت کا شعور معراج النبیؐ کے بعد سے جاری ہے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی پہچان و معرفت کو کماحقہ طور پر سمجھنا اور بیان کرنا ناممکن ہے بلکہ اگر توفیقِ الٰہی شاملِ حال نہ ہو تو خطا بھی ہو سکتی ہے۔ اس ضمن میں ایک مثال سمجھئیے۔ ایک دیہاتی کی کسی شہری نے مشکل حل کر دی۔ اس نے شہری کو دعا دی کہ اللہ آپ کو پٹواری بنائے جبکہ وہ شہری ڈپٹی کمشنر تھا۔ دیہاتی نے جو دعا دی اس کی سمجھ کے مطابق سب سے اعلیٰ عہدہ پٹواری ہی تھا کیونکہ اس کے حکم سے زمین اِدھر سے اُدھر ہو جاتی ہے۔جبکہ وہ اس چیز سے نابلد تھا کہ پٹواری کتنے مراتب طے کر ے پھر ڈپٹی کمشنر کا عہدہ آتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے معمولاتِ زندگی بیان کرتے ہوئے تائیدِایزدی شاملِ حال نہ ہو تو خطا کا اندیشہ ہے۔

لباس مبارک

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کا لباس ہمیشہ صاف اور پرُکشش ہوتا ہے جو آپ کی نجابت اور وقار کی عکاسی کرتا ہے۔ خوش لباسی بچپن سے ہی آپ مدظلہ الاقدس کی شخصیت کا خاصہ ہے۔ تلاشِ حق کے دور میں (یعنی قبل از بیعتِ مرشد) پسندیدہ لباس شلوار قمیض تھا۔ پینٹ کوٹ اور ٹائی کا استعمال بھی آپ نے تقریبات یا موقع کی مناسبت کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے کیا ہے۔ بعض مواقع پر جینز اور کالر والی شرٹس بھی پہنی ہیں۔ سردیوں میں جیکٹ بھی پہنی ہے۔
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ اقدس پر بیعت ہوتے ہی اس شان سے مرشد کی ذات میں فنا ہوئے کہ اپنے تمام پسندیدہ لباس ترک کر کے روزِ اوّل سے سنتِ مرشد کی اتباع میں کرتہ شلوار زیبِ تن فرمایا اور اس سنتِ مرشد پر قائم ہیں۔ باطن کے ساتھ ساتھ آپ کا ظاہر بشمول لباس آئینہ مرشد بن گیا۔ 

سلطان الفقر ششمؒ کے وصال کے بعد جب آپ مدظلہ الاقدس مسندِتلقین و ارشاد پر فائز ہوئے تب سے آج تک آپ کرتہ شلوار ہی زیبِ تن فرماتے ہیں۔ کرتے کے نیچے ہمیشہ سفید بنیان پہنتے ہیں جبکہ سردیوں میں بازو والی بنیان کا استعمال کرتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس مختلف رنگوں کی ویسٹ کوٹ پہننا پسند فرماتے ہیں جو آپ کے لباس کو چار چاند لگا دیتی ہیں۔ سنتِ مرشد کی پیروی میں آپ مدظلہ الاقدس نے کرتہ کے ساتھ تہمد بھی پہنا ہے اور چند مرتبہ سنہرے اور کالے رنگ کا لاچا بھی پہنا ہے۔ کرتہ شلوار کے اوپر آپ مدظلہ الاقدس نے ایک مرتبہ سبز کوٹ بھی پہنا ہے۔ چندموقعوں پر آپ مدظلہ الاقدس نے شیروانی بھی زیب تن فرمائی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس صفائی پسند ہیں اور ہر روز لباس تبدیل فرماتے ہیں۔ آپ مد ظلہ الاقدس کا لباس ہمیشہ عمدہ اور قیمتی ہوتا ہے۔ 

دھوپ میں قیمتی اور خوبصورت چشموں (sun glasses)کا استعمال فرماتے ہیں۔ دورانِ مصروفیت جب کچھ لکھ رہے ہوں، مطالعہ میں مشغول ہوں یا موبائل فون، ٹیبلٹ یا لیپ ٹاپ استعمال کر رہے ہوں تب نظر والی عینک کا استعمال کرتے ہیں۔ 

سر مبارک پر سفید رنگ کی دستار مبارک سر پر پہنتے ہیں جس کا ایک ہاتھ کا شملہ نکلا ہوتا ہے۔ عید میلاد النبیؐ کے موقع پر سبز رنگ کی دستار پہنتے ہیں۔ گرمیوں میں سندھی ٹوپی (Sindhi cap) اور چترالی ٹوپی (Chitrali cap) اور گرم شال کا استعمال فرماتے ہیں۔ سردیوں میں اونی جرسی (cardigan) بھی پہننا پسند فرماتے ہیں۔

دائیں ہاتھ میں چھنگلی کے ساتھ والی انگشت مبارک میں ’’اسم اللہ‘‘ یا ’’اسم محمد‘‘ کندہ کی گئی چاندی کی انگوٹھی پہنتے ہیں۔ کچھ عرصہ عقیق پتھر والی انگوٹھی بھی پہنی ہے۔ سنتِ مرشد پر عمل پیرا ہوتے ہوئے گھڑی (wrist watch)ہمیشہ دائیں ہاتھ میں پہنتے ہیں۔

پائوں مبارک میں دس نمبر کھسہ پہنتے ہیں جو کہ سنہری رنگ (golden color) کا ہوتا ہے۔ آپ نے نقرئی رنگ (silver color) کا کھسہ بھی پہنا ہے۔ سردیوں میں کھسہ مبارک کے اندر سکن (skin) کلر کی جرابیں پہنتے ہیں۔

آپ مدظلہ الاقدس کے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ نے جب مسندِتلقین و ارشاد سنبھالی تو آپؒ زیادہ تر سفید رنگ کا کرتہ زیبِ تن فرماتے تھے جبکہ حیات مبارکہ کے آخری تین سال آپؒ نے ہر رنگ کا کپڑا پہنا۔ اس دور میں آپؒ کے کپڑے خریدنے اور تیار کروانے کی ذمہ داری سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس سرانجام دیتے تھے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے متعلق آپ کے مرشد سلطان الفقر ششمؒ نے فرمایا ’’بھائی نجیب آپ نے ہمیں ہر رنگ، ہر کوالٹی (بلکہ آپؒ نے فرمایا کہ ہر نسل) اور ہر طرح کے کپڑے پہنائے ہیں اور یہ آپ نے خلوصِ دل سے کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کی پیشانی پر بخت لکھ دئیے ہیں۔‘‘ (سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ۔ حیات و تعلیمات)

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے مرشد نے ایک دور میں صرف سفید کرتہ شلوار پہنا اور پھر ایسا دور بھی آیا جب آپؒ نے ہر رنگ کا کرتہ شلوار پہنا۔ سنتِ مرشد پر عمل پیرا ہوتے ہوئے آپ مدظلہ الاقدس نے مسندِتلقین و ارشاد سنبھالنے کے بعد ہر رنگ کا کرتہ شلوار زیبِ تن فرمایا البتہ 2016ء سے آپ مدظلہ الاقدس زیادہ تر سفید کرتہ شلوار پہنتے ہیں۔

خوشبو کا استعمال

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی زندگی عشقِ مصطفیؐ سے عبارت ہے۔ عشق کی شرطِ اوّلین اتباع و پیروی ہے جو کہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے ہر فعل، سوچ اور قول کی اساس ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی زندگی کا لمحہ لمحہ سنتِ نبویؐکا عکاس ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کا فرمان ہے ’’عشقِ مصطفیؐ ہی ایمانِ کامل ہے۔‘‘ اتباعِ سنت ِرسولؐ ہی ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس خوشبو کو بے حد پسند فرماتے ہیں۔ 

جب کبھی آپ نے پرفیوم نہ لگایا ہو تو آپ مدظلہ الاقدس کے جسد مبارک سے بہت دلفریب خوشبو آتی ہے جس کے باعث قریب بیٹھے طالبانِ مولیٰ میں خوش طبعی کا عنصر پیدا ہو جاتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس جس شے کو بھی مس کریں وہ خوشبو سے معطر ہو جاتی ہے۔ 2019ء تک آپ مدظلہ الاقدس کا معمول تھا کہ آپ مدظلہ الاقدس ہر سال اکتوبر سے مارچ تک پورے پاکستان کے تبلیغی دورے فرماتے تھے۔ تبلیغی دورہ کے دوران آپ مدظلہ الاقدس جس گھر اور کمرہ میں قیام فرماتے اس کمرے سے نہایت تیز اور دلفریب خوشبو آتی جو کئی روز تک باقی رہتی۔ اس چیز کا مشاہدہ نہ صرف ان گھروں کے مکینوں نے بلکہ اہلِ علاقہ نے بھی کیا۔

خوراک

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی خوراک نہایت کم اور سادہ ہے۔ کھانے میں تکلف پسند نہیں فرماتے، جو پیش کر دیا جائے بخوشی کھا لیتے ہیں۔ کھانے میں نقص نکالنے کو ہرگز اچھا نہیں گردانتے۔ دیسی کھانے رغبت سے کھاتے ہیں البتہ پیش کرنے پر پرُتکلف کھانا بھی خوشی سے تناول فرما لیتے ہیں۔ جب آپ مدظلہ الاقدس تبلیغی دوروں پر تشریف لے جاتے تھے یا دعوتوں پر مدعو ہوتے ہیں تو آپ کے سامنے پرُتکلف اور ہر نوع کے کھانے رکھے جاتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس گو کہ نہایت کم کھاتے ہیں لیکن پھر بھی سب کھانوں کو چکھتے ہیں کہ میزبان کی دل آزاری نہ ہو۔ گوشت میں مٹن اور دالیں پسند ہیں۔ مسور کی دال شوق سے کھاتے ہیں۔ چاولوں میں یخنی پلاؤ جبکہ سبزی میں بھنڈی، کریلے اور کدو پسند ہیں۔ 

کلام مبارک

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے مریدین گواہ ہیں کہ آپ کی زبانِ مبارک سے آج تک جملہ تو کجا ایک لفظ بھی بے معنی و بے مقصد نہیں نکلا۔ البتہ یہ الگ معاملہ ہے کہ بارہا ایسا موقع آیا ہے کہ آپ کی کہی ہوئی بات محفل میں سمجھ نہ آئے لیکن کچھ ماہ بعد یا کچھ سالوں بعد اس کی حقیقت کھلتی ہے اور وہ کسی درپیش مشکل کو حل کرنے کا موجب بن جاتی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کلام کے دوران لوگوں کو قریب کرنے کی بات کرتے ہیں۔ ایسی بات ہرگز نہیں کہتے جس سے لوگ ایک دوسرے سے دور ہو جائیں۔ آپ کی صحبت میں بیٹھنے والے آپس میں بھی محبت کے رشتے میں پروئے جاتے ہیں۔

آپ کی گفتگو ہمیشہ خوفِ خدا اور امید پر مبنی ہوتی ہے جو کہ باعثِ فرحتِ ایمان و عشق ہے جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان مبارک ہے:
اَلْاِیْمَانُ بَیْنَ الْخَوْفِ وَ الرِّجَآئِ
ترجمہ: ایمان خوف اور امید کے درمیان ہے۔
قرآن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بارے میں فرمایا گیا:
یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا۔ (سورۃ الاحزاب۔45)
ترجمہ: اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)! ہم نے آپ کو مشاہدہ کرنے والا اور خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ 

گویا اس معاملے میں بھی سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے سنتِ نبویؐ کا دامن تھاما ہے۔ دورانِ گفتگو اگر کوئی آپ سے شریعت و طریقت کا سوال کرتا ہے تو آپ خوش اسلوبی اور دلیلِ حق سے اس کا جواب دیتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس جہاں تشریف فرماتے ہیں وہیں لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔ آپ کی گفتگو کا یہ خاص وصف ہے کہ جو جس طبقہ سے آتا ہے اس سے اسی طرح کا معاملہ فرماتے ہیں۔

آپ مدظلہ الاقدس کا کلام نہایت مختصر مگر وسیع مفہوم کا حامل ہوتا ہے جو فصاحت و بلاغت کی اعلیٰ مثال ہے۔ تائیدِایزدی علم ِلدنی ّکی صورت میں آپ کے کلام کا خاصہ ہے۔ سننے والوں کے لیے آپ کے الفاظ معرفت کا گنجینہ اور موجبِ یادِ الٰہی ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی ہر بات معرفت کا سرچشمہ ہوتی ہے۔ سننے والے پر منحصر ہے کہ اس کی قابلیت کا جام کتنا بڑا ہے کہ ان معانی و حقائق کو قبول کر کے سنبھال سکے۔

آپ مدظلہ الاقدس کا اندازِ تخاطب عزت و احترام سے بھرپور ہوتا ہے خواہ ملنے والا امیر ہو یا غریب، بڑا ہو یا بچہ۔ آواز مبارک پرُاثر، دھیمی اور مٹھاس سے بھرپور ہوتی ہے جو کانوں میں رس گھولتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

بہت سے مریدین اور عقیدتمندوں کا مشاہدہ ہے کہ آپ کی گفتگو اور شیریں آواز ان کی سب پریشانیاں بھلا کر انہیں ذہنی تناؤ سے نجات دلاتی ہے۔ یہ آپ مدظلہ الاقدس کی کرامت ہے کہ ڈپریشن کے مریض بھی آپ کے کلام سے صحت یاب ہوتے ہیں۔ مزید برآں آپ کا کلام سننے والے آپ کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنی گفتگو کے ہر نکتے کو ایسے واضح طور پر بیان فرماتے ہیں کہ طالب پوری طرح سمجھ کر ذہن نشین کر لیں۔ الفاظ نہ ضرورت سے زیادہ ہوتے ہیں نہ کم، الفاظ کا ایسا توازن کہیں اور نظر نہیں آتا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیٖٓ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَۃً فَمَا فَوْقَھَا (سورۃ البقرہ۔26)
بیشک اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ (کسی بات کو واضح کرنے کے لیے) کوئی مثال بیان کرے چاہے وہ مچھر کی ہو یا (ایسی چیز کی جو حقارت میں) اس سے بھی بڑھ کر ہو۔ 

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس بھی سنتِ الٰہی پر عمل کرتے ہوئے ہر نکتہ مثال سے سمجھاتے ہیں۔ بہترین الفاظ کا چناؤ اور مثالوں سے بھرپور گفتگو ہر کسی کے دل و دماغ میں اتر جاتی ہے۔

آپ مدظلہ الاقدس کبھی کسی کی تذلیل نہیں کرتے اور نہ ہی کسی کو برُے الفاظ میں یاد فرماتے ہیں بلکہ اگر کوئی آپ مدظلہ الاقدس کی محفل میں موجود نہ ہو تو بھی اس کی تعریف فرماتے ہیں۔ جب آپ مدظلہ الاقدس خاموشی اختیار فرماتے ہیں تو پرُوقار نظر آتے ہیں اور جب گفتگو فرماتے ہیں تو آپ کا چہرہ مبارک بارونق اور پرُنور نظر آتا ہے۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں:

تا مرد سخن نہ گفتہ باشد
عیب و ہنرش نہفتہ باشد

ترجمہ: جب تک کوئی شخص گفتگو نہیں کرتا تب تک اس کے عیب اور ہنر چھپے رہتے ہیں۔

یعنی جب کوئی شخص گفتگو کرتا ہے تو ہی اس کی اچھائیوں اور برائیوں کا پتہ چلتا ہے دوسرے لفظوں میں ہر شخص کی پہچان اس کی گفتگو ہے۔
سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کا کلام ان کے اعلیٰ و ارفع باطنی مقام کی خبر دیتا ہے۔ آپ اس آیت مبارکہ کا عملی نمونہ ہیں:
قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا  (سورۃ البقرہ۔83)
ترجمہ: لوگوں سے اچھی بات کہو۔
صاحبزادہ سلطان محمد مرتضیٰ نجیب صاحب فرماتے ہیں:
سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کا کلام پرُاثر، کامل، مختصر مگر جامع ہوتا ہے۔ سننے والا ایسا محو ہوتا ہے کہ اپنے اردگرد سے بے خبر ہو جاتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کے الفاظ کا چناؤ قابلِ تعریف ہے۔ آپ کی گفتگو معرفت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے۔

مطالعہ کتب

آغازِ اسلام سے ہی تحصیلِ علم کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ جس پہلی وحی کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر نزول ہوا، اس میں تحصیلِ علم کا حکم ہے ’’اقرا‘‘ یعنی پڑھ۔
قرآن میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ لا وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ (سورۃ المجادلہ۔11)
ترجمہ:اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے درجے بلند کر دے گا جو ایمان لائے اور علم سے نوازے گئے ہیں ۔

علم میں اضافہ کے لیے انبیا نے بارگاہِ حق تعالیٰ میں دعائیں مانگی ہیں۔اسلام نے ہمیشہ علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اس کے ابتدائی آثار ہمیں عہدِنبویؐ میں ملتے ہیں جس کی مثال غزوہ بدر کے قیدیوں کی رہائی کی شرط ہے کہ جو قیدی دس مسلمان بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھائیں گے ان کو آزاد کر دیا جائے گا۔ 

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی ساری زندگی علم دوستی کا عملی نمونہ ہے۔ اس معاملے میں بھی آپ نے اپنے اسلاف کی سنت پر عمل کیا ہے اور مطالعہ میں ہمہ تن مصروف رہے ہیں جس کی وجہ سے درجۂ کمال پر ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے پوری زندگی اس حدیث مبارکہ پر عمل کیا ہے ’’حکمت کی بات مومن کی گمشدہ میراث ہے جہاں بھی اس کو پائے وہی اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔‘‘ (ابنِ ماجہ4169)

آپ مدظلہ الاقدس اپنے کمرہ مبارک میں ہزاروں تصانیف کے درمیان تشریف فرما ہوتے ہیں۔ مشغولیت اس درجہ ہوتی ہے کہ کھانے کے اوقات بھی فراموش کر دیتے ہیں۔

جس طرح سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کو تمام قسم کے علوم پر دسترس حاصل ہے اس کی نظیر قرونِ اولیٰ میں بھی خال خال ہی نظر آتی ہے۔ فقہ ہو یا علومِ تفسیر، اسرار و حکمت ہو یا آدابِ معاشرت، شرح حدیث ہو یا سلوک و تصوف، تاریخِ عالم ہو یا معلوماتِ عامہ علوم کا کوئی ایسا گوشہ نہیں جس سے آپ نے علمی پیاس نہ بجھائی ہو۔ عقیدتمند اور مریدین جس موضوع پر بھی بات کریں وہ علوم آپ مدظلہ الاقدس کو ازبر ہوتے ہیں چاہے وہ سائنس ہو، سیاست یا راہِ سلوک۔ آپ مدظلہ الاقدس ہر علمی میدان میں یدِطولیٰ رکھتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی اپنی لائبریری ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ لائبریری میں موجود تمام کتابیں آپ مدظلہ الاقدس کو ازبر ہیں۔

عبادات

عبادتِ الٰہی سے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کو خاص شغف ہے۔ آپ ہمیشہ باوضو رہتے ہیں۔ شریعتِ مطہرہ کی سختی سے پابندی کرتے ہیں۔ ہر وقت اور ہر حالت میں محبوبِ حقیقی کو یاد رکھتے ہیں۔ آپ کا اللہ تعالیٰ سے بندگی کا تعلق نہایت مضبوط ہے۔ آپ کی عبادت اور ذکرِالٰہی کا یہ عالم ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس کو دیکھتے ہی اللہ کی یاد آتی ہے۔ حدیثِ مبارکہ ہے:
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہٗ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پوچھا گیا ’’اولیا اللہ کون ہیں؟‘‘ فرمایا ’’اولیا اللہ وہ ہیں جن کو دیکھنے سے اللہ یاد آئے۔‘‘

بیماری کی حالت میں تیمم فرماتے ہیں۔ نمازِ پنجگانہ کے علاوہ اسمِ اللہ ذات کا ذکر اور تصور فرماتے ہیں۔ وظائف عموماً نمازِ فجر اور نمازِ عشا کے بعد تنہائی میں پڑھتے ہیں۔ 

مراقبہ و مشاہدہ

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس صاحبِ مشاہدہ و مراقبہ ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس ہر لحظہ انوار و تجلیاتِ الٰہی میں منہمک رہتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کا ظاہر مخلوق کے ساتھ اور باطن اللہ کے ساتھ ہے۔ جب کلام فرماتے ہیں تو محسوس ہوتا گویا سب آپ مدظلہ الاقدس کے سامنے عیاں ہے اور اسے دیکھ کر لب مبارک ہل رہے ہیں۔ بہت سے مریدین کا مشاہدہ ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس اکثر اوقات آنکھیں بند کیے مراقبہ میں مشغول ہوتے ہیں اور اگر اس وقت آنکھیں مبارک کھول کر کسی کو کچھ فرما دیں تو سننے والے کو درپیش پریشانی فوراً دور ہو جاتی ہے۔ اگر اس وقت آپ مدظلہ الاقدس کی بات سمجھ نہ آئے تو چند مہینوں یا سالوں بعد سمجھ آ جاتی ہے اور اس وقت جو مسئلہ درپیش ہو وہ آپ مدظلہ الاقدس کی کہی ہوئی بات سے فوراً حل ہو جاتا ہے۔

آپ مدظلہ الاقدس اس حدیثِ قدسی کی شرح ہیں کہ اللہ فرماتا ہے:
جب میں اپنے بندے سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو اس کی سماعت بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی بصارت بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ (بخاری شریف 6502)

علامہ محمودالوسی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
اس مقام پر بندۂ محبوب کے لئے غیب عیاں ہو جاتا ہے اور جو ہمیں نامعلوم ہو اُس کے سامنے آئینہ حال میں موجود و مشہود ہوتا ہے۔

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے خلیفہ سلطان محمد نعیم عباس سروری قادری کہتے ہیں:
’’میرے مرشد پاک سلطان العاشقین سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نورِ الٰہی کی روشنی سے وہ کچھ دیکھتے ہیں جو کوئی دوسرا نہیں دیکھ سکتا۔‘‘

آپ مدظلہ الاقدس کا قلب مبارک ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات سے حیاتِ جاودانی پا چکا ہے جس کی بدولت آپ مدظلہ الاقدس ہر لمحہ مشاہدۂ الٰہی میں مستغرق رہتے ہیں۔ جس وقت آپ مدظلہ الاقدس دنیا و مافیہا سے بے نیاز مراقبہ میں مشغول ہوتے ہیں اس وقت آپ کی بارگاہ میں موجود طالبانِ مولیٰ خاموشی سے بیٹھے گھنٹوں آپ مدظلہ الاقدس کی آنکھیں مبارک کھلنے کا انتظار کرتے ہیں۔ اکثر ایسی حالت کے بعد جب آپ مدظلہ الاقدس کچھ کلام فرما دیں تو ہر سننے والا یہ سمجھتا ہے کہ یہ میرے لیے ہی فرمایا گیا ہے۔ جیسا کہ حضرت بایزید بسطامیؒ فرماتے ہیں:
’’میں تیس سال اللہ سے ہمکلام رہا اور لوگ سمجھتے رہے کہ میں ان سے ہمکلام ہوں۔‘‘
 آپ مدظلہ الاقدس کامل فقیر ہیں جو ظاہر میں تو عام لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں لیکن باطن میں آپ مدظلہ الاقدس حضوری کے اعلیٰ ترین مقام پر ہیں۔

اوقات کی قدردانی

عربی کی ضرب المثل ہے ’’الوقت اثمن من الذہب ‘‘ یعنی وقت سونے سے زیادہ قیمتی ہے۔
سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے مریدین اس بات کے گواہ ہیں کہ دن ضائع کرنا تو کجا آپ مدظلہ الاقدس نے زندگی کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا۔ بچپن میں بھی آپ مدظلہ الاقدس کھیل کود میں وقت ضائع کرنے کی بجائے کتابوں کے مطالعہ یا والدین کا معاشی طور پر ہاتھ بٹانے کے لیے محنت و مشقت میں مصروف رہے۔ جوانی پڑھائی، ذرائع معاش، عبادات اور مرشد کی تلاش میں صَرف کی۔ مسند ِتلقین و ارشاد سنبھالنے کے بعد آپ دن کے اوقات میں ملازمت کرتے، شام کو 7 بجے واپس تشریف لاتے ہی کتب کی تصنیف میں مصروف ہو جاتے یہاں تک کہ صبح دوبارہ دفتر جانے کا وقت آجاتا۔ یہ آپ کی کرامت ہے کہ 2004 سے 2011ء کے مختصر عرصہ میں آپ مدظلہ الاقدس نے ملازمت بھی جاری رکھی اور 24 کتب بھی لکھیں۔  

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان مبارک ہے:
اسلام کی خوبصورتی اس میں ہے کہ لایعنی چیزوں کو چھوڑ دیا جائے۔

یہ حقیقت ہے کہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس پوری زندگی اس حدیث ِمبارکہ پر عمل پیرا رہے اور آج بھی ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اپنی زندگی کے ایک ایک لمحہ کی قدر کی ہے۔ آج بھی جب کوئی آپ مدظلہ الاقدس سے ملنے جائے تو آپ کو کسی نہ کسی کام میں مصروف ہی پاتا ہے۔

آپ مدظلہ الاقدس سفر میں ہوں یا حضر میں، گھر میں ہوں یا خانقاہ میں، ہر لمحہ فقر کو دنیا میں عام کرنے کی جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ آپ مدظلہ الاقدس کھانا تناول فرمانے کے درمیان بھی فروغِ فقر کے لیے سوچ و بچار میں مشغول رہتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کا قول مبارک ہے:
’’زندگی میں اس طرح جدوجہد کرو کہ کل جب تم پیچھے پلٹ کر دیکھو تو تمہیں افسوس نہ ہو کہ زندگی کا ایک لمحہ ضائع کردیا۔‘‘

آپ مدظلہ الاقدس نے اس شان سے وقت کی قدردانی کی کہ آج پوری دنیا آپ کی قدردان ہے۔

مزید برآں آپ مدظلہ الاقدس ہر کام مقررہ وقت پر سرانجام دیتے ہیں۔ سونے، جاگنے، کھانے پینے، مطالعہ، کتب نویسی، تحریک دعوتِ فقر کے شعبہ جات کی نگرانی، مریدین و عقیدتمندوں سے ملاقات، غرض ہر کام کو اس کے طے شدہ وقت پر سرانجام دیتے ہیں۔

آپ مدظلہ الاقدس کے خلیفہ سلطان محمد ناصر حمید سروری قادری بیان کرتے ہیں ’’میں 2005ء سے آپ مدظلہ الاقدس کا بیعت ہوں اور اس دن سے آج تک آپ مدظلہ الاقدس کو ایک لمحہ کے لیے بھی فراغت میں نہ پایا۔‘‘

شفیق باپ

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ والد کا جھکاؤ اپنے کسی نہ کسی ایک بچے کی طرف ضرور ہوتا ہے لیکن یہ بات سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس پر صادق نہیں آتی۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے تمام بچوں سے یکساں پیار کرتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس محبت میں بھی بے مثال توازن برقرار رکھتے ہیں جس کی بدولت آپ کی تمام اولاد پاک یہی سمجھتی کہ آپ ان سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔ 

آپ مدظلہ الاقدس کی اپنی اولاد سے محبت و شفقت بے مثال ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اپنی اولاد کو نہ صرف انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا بلکہ زندگی کے ہر معاملے میں ان کی راہنمائی کی اور ان میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے ہمیشہ انہیں فیصلے کرنے کی آزادی دی۔ 

اگرچہ آپ مدظلہ الاقدس دن رات تحریک دعوتِ فقر کے امور کی نگرانی میں مصروف ہوتے ہیں لیکن باوجود اس قدر مصروفیت کے اپنی اولاد کا ہر طرح سے خیال رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ انکی صحت کے بارے میں بھی متفکر رہتے ہیں۔ اگر کوئی بیمار ہو جائے تو خود ڈاکٹر کے پاس بھیجتے ہیں، دوائیوں کا اہتمام کرتے ہیں اور یقین دہانی کرتے ہیں کہ دوائیاں وقت پر لی جائیں۔ تب تک تیماداری کرتے ہیں جب تک وہ مکمل صحت یاب نہ ہو جائیں۔

یہ آپ مدظلہ الاقدس کی تربیت کا ثمر ہے کہ آپ کی تمام اولاد آپس میں متحد اور پیار کی لڑی میں پروئی ہوئی ہے۔ جب بھی انہیں کوئی مشکل اور پریشانی درپیش ہو تو بلاجھجک آپ کے پاس حاضر ہو کر اپنی ہر پریشانی بیان کرتے اور آپ مدظلہ الاقدس سے رہنمائی لیتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس ان کے ہر سوال کا محبت و شفقت سے جواب دیتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس جب بھی اپنے بچوں سے گفتگو فرماتے ہیں تو آپ مدظلہ الاقدس کے ہر ہر لفظ سے محبت عیاں ہوتی ہے اور لہجہ شفقت سے بھرپور ہوتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس ایک مثالی والد ہیں۔ یہ کہنا حق ہے کہ آپ جیسا شفیق والد روئے زمین پر کوئی نہیں۔سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے خلیفہ سلطان محمد عبداللہ اقبال کہتے ہیں:
’’آپ مدظلہ الاقدس جس قدر بھی مصروف ہوں یا کسی پریشانی میں ہوں، ہر طرح کے حالات کے باوجود آپ جب اپنی اولاد سے مخاطب ہوتے ہیں تو آپ کی محبت سے لبریز آواز سن کر دل بھر آتا ہے کہ ایسا باپ نہیں دیکھا جو اولاد سے اتنے پیار اور لاڈ سے مخاطب ہو۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنی اولاد کی پریشانیوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور سب کی خوشیاں بانٹتے ہیں۔

عام طور پر اولاد جب جوان ہوتی ہے تو بوڑھے والدین کے پاس نہیں آتی۔ لیکن سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس اپنی اولاد سے اس قدر پیار کرتے ہیں کہ اولاد ان کی طرف کھنچی چلی آتی ہے اور آپ کے بغیر رہنا انہیں دشوار محسوس ہوتا ہے۔یہ سچ ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس کو اگر دنیا میں کوئی چیز سب سے زیادہ پیاری ہے تو وہ آپ کی اولاد ہے۔‘‘

جب آپ مدظلہ الاقدس کے پاس آپ کی اولاد میں سے کوئی آئے تو ہمیشہ عشقِ الٰہی اور عشقِ مصطفیؐ کی بات کرتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی اولاد بھی باکمال اور فقر میں اعلیٰ مقام پر فائز ہے کیونکہ انہوں نے آپ کو ہمیشہ مرشد سمجھا ہے نہ کہ والد۔ آپ مدظلہ الاقدس کی اولاد جس قدر فروغِ فقر کے لیے جدوجہد میں مصروف ہے اس قدر کوئی اور مرید نہیں ہے اس لیے آپ مدظلہ الاقدس کی اولاد کو اولاد پاک کہنا باعثِ تسکینِ قلب ہے۔

Spread the love