Bayat

باطنی اور ظاہری بیعت.. سلطان العاشقین سلطان محمد نجیب الرحمن

باطنی اور ظاہری بیعت.. سلطان العاشقین سلطان محمد نجیب الرحمن

بیعت

                باطنی بیعت

12۔ اپریل 1997ء کی رات نمازِ تہجد کے بعدسلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس درود پاک پڑھ رہے تھے کہ باطن کا در کھل گیا اور خود کو باطنی طور پر مسجدِ نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) میں مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں پایا۔ نورِ ازل آقا و مولا سیّدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام درمیان میں تشریف فرما تھے۔ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دائیں جانب حضرت علی کرم اللہ وجہہ‘ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ اور بائیں جانب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ ‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ ‘ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ اور چاروں سلاسل کے مشائخ کرام تشریف فرما تھے۔ اس محفل میں حاضر ہوتے ہی اور اہلِ محفل کی ہیبت و جلال کو دیکھ کر آپ گنگ رہ گئے اور قریب تھا کہ خوف سے بے جان ہوکر گر جاتے کہ مولائے کائنات(حضرت علی کرم اللہ وجہہ) نے آگے بڑھ کر آپ مد ظلہ الاقدس کا ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں لیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے پیش کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مبارک قدموں میں بٹھا دیا اور عرض کی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) یہ نجیب الرحمن ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا غلام ہے۔ یہ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی نورِ نظر لختِ جگر (خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا) کا نوری فرزند ہے اور انہوں نے اس کو اپنا ورثہ عطا کرنے کے لیے منتخب فرمایا ہے اور اس مقصدکے لیے آپ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی بارگاہِ عالیہ میں بھیجا ہے۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس نے جب یہ سنا تو جلدی سے اپنی پیشانی اُن مبارک قدموں پر رکھ دی جن پر دونوں جہان نثار ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا’’ہاں ہمیں سفارش پہنچ چکی ہے اور ہم نے اسے منظور بھی کر لیا ہے۔ اب یہ ہمارا بھی نوری حضوری فرزند ہے مگر ہم انہیں کس فرزندِ رسول(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا ورثہ عطا فرمائیں۔‘‘ حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہٗ نے عرض کی ’’نانا حضور(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اماں حضور(خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا) نے انہیں ہمارا ورثہ عطا کرنے کا فرمایا ہے‘‘ حضور(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم )نے اپنے دونوں دستِ مبارک سے شانوں سے پکڑ کر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس کو اپنے قدموں سے اٹھایا اور فرمایا’’ تو ہمارا نوری حضوری فرزند ہے، ہمارا وارث ہے۔ ایک زمانہ تجھ سے فیض پائے گا اور ہم تمہیں اپنی برہان بنائیں گے۔ تونے ہماری لختِ جگر نورِ نظر کو راضی کیا ہے ہم تجھ سے راضی ہوگئے ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بیعت کے لیے دونوں دستِ مبارک آگے بڑھائے توآپ مد ظلہ الاقدس نے اپنے دونوں ہاتھ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دستِ مبارک میں دے دئیے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آپ مد ظلہ الاقدس کو بیعت فرمایا اور اس کے بعد چاروں سلاسل کے مشائخ کی طرف نظر کی اور پیرانِ پیر سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ سے فرمایا ’’اس کی وراثت آپ (رضی اللہ عنہٗ) کے پاس ہے۔‘‘ پھر آپ مد ظلہ الاقدس کا ہاتھ غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے ہاتھ میں دیا اور فرمایا ’’یہ ہماری لختِ جگر (رضی اللہ عنہا) کا نور ی حضوری فرزند ہے۔ اب ہمارا اور آپ کا نوری حضوری فرزند ہے۔ ہم اس کو آپ (رضی اللہ عنہٗ) کے سپرد فرماتے ہیں۔ اس کی باطنی تربیت آپؓ کے ذمہ ہے۔‘‘ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں کہ یہ نعمتِ عظمیٰ پاکر میں نے محفل میں موجود اہلِ بیت اور چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی قدم بوسی کی۔ سب نے آپ کو مبارکباد دی اور سرپر دستِ شفقت رکھا۔ بعدازاں حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اجازت لے کر آپ مدظلہ الاقدس کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے واپس لے آئے اور آپ کی باطنی تربیت شروع ہوگئی۔آپ مد ظلہ الاقدس فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ چند لمحوں میں وقوع پذیر ہو گیا۔
موجودہ دور کے مادیت پرست ذہنوں کے لیے شاید یہ بات قبول کرنے میں ان کی محدود اور عالمِ ناسوت میں قیدعقل مانع ہوگی لیکن یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ کیونکہ اصل سروری قادری ہوتے ہی وہی ہیں جن کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام خود بیعت فرما کر سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کے سپرد فرماتے ہیں۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ز سروری قادری اسے کہتے ہیں جسے خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بیعت فرماتے ہیں۔ اس کے وجود سے بدخلقی کی خوبو ختم ہو جاتی ہے اور اُسے شرع محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی راہ پر گامزن ہونے کی توفیق نصیب ہوجاتی ہے۔ (محک الفقر کلاں)
 ایک اس (اعلیٰ) مرتبے کے سروری قادری ہوتے ہیں جنہیں خاتم النبیین رسولِ ربّ العالمین سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی مہربانی سے نواز کر باطن میں حضرت محی الدین شاہ عبدالقادر جیلانی قدس سرہُ العزیزکے سپرد کر دیں اور حضرت پیر دستگیر رضی اللہ عنہٗ بھی اُنہیں اس طرح نوازتے ہیں کہ ایک لمحہ بھی خود سے جدا ہونے نہیں دیتے۔(محک الفقر کلاں)
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
 ’’سلسلہ سروری قادری کو سروری قادری اس لیے کہا جاتا ہے کہ سروری کا مطلب ہے سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دستِ مبارک پر بیعت ہونا اور قادری کا مطلب ہے غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کا باطنی تربیت فرمانا۔‘‘(مجتبیٰ آخرزمانی)
پیران پیر غوث الاعظم حضرت محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ نے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی مرحلہ وار تربیت کا آغاز فرمایا اور آپ مدظلہ الاقدس کو اسماء الحسنیٰ کا علم عطا فرمایا۔ آپ مدظلہ الاقدس نے لاکھوں کی تعداد میں ہر اسمِ صفت کا ذکر فرمایا۔ دسمبر1997 ء میں سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ نے آپ مدظلہ الاقدس کو اسمِ اللہ ذات کے ذکر پر پہنچا دیا اور آپ کو روزانہ پانچ ہزار مرتبہ بعد نمازِ تہجد اسمِ اللہ کے ذکر کا حکم فرمایا۔ آپ روزانہ اسمِ اللہ کا ذکر فرماتے۔ آپ فرماتے ہیں کہ جیسے جیسے دن گزرتے جاتے آپ کے اندر اسمِ اللہ ذات کی طلب بڑھتی جاتی۔ پیرانِ پیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ نے آپ مدظلہ الاقدس کو علمِ دعو ت بھی عطا فرما دیا۔ آپ مدظلہ الاقدس نمازِ فجر کے بعد اقبال ٹاؤن میں ایک مزار پر تشریف لے جاتے اور علمِ دعوت کے ذریعے اُن سے باطنی طور پر ہم کلام ہوتے۔ ایک دن انہوں نے فرمایا ’’ آپ داتا صاحب کے مزار پر تشریف لے جائیں۔‘‘ اسکے بعد آپ مدظلہ الاقدس سیّدنا علی ہجویری داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر نمازِ عصر کے وقت تشریف لے جانے لگے اور چلہ گاہ حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کے قریب بیٹھ کر دعوت پڑھتے۔ حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ بھی آپ پر باطنی مہربانی فرماتے اور اپنے بے کراں فیض سے آپ مدظلہ الاقدس کو سیراب کرتے۔

           ظاہری بیعت

جنوری 1998 ء میں باطنی طور پر سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کی طرف سے ظاہری مرشد کی تلاش کا حکم ہوا۔ اس حکم کے بعد آپ مدظلہ الاقدس ظاہری مرشد کی تلاش میں نہ صرف لاہور بلکہ لاہور سے باہر سارے ملک میں تشریف لے گئے۔ جہاں کہیں کسی مرشد کے موجود ہونے کے متعلق سنتے فوراً چل دیتے۔ اس کی محفل میں پہنچتے، دیکھتے،دل اس کی طرف بالکل مائل نہ ہوتا اور واپس آجاتے۔
وسط فروری 1998ء کی ایک رات خواب میں سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغرعلی رحمتہ اللہ علیہ تشریف لائے اور فرمایا ’’بیٹا ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں چلے آؤ۔‘‘ بیدار ہونے پر آپ مدظلہ الاقدس ان انجانے بزرگ کی تلاش میں نکل پڑے لیکن وہ من موہنی صورت کہیں نظر نہ آتی تھی۔ یہ تلاش روز کا معمول بن گیا۔ بارگاہِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ اور حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہکی طرف سے بھی کوئی اشارہ نہ مل رہا تھا۔ 
یکم مارچ 1998ء (2 ذیقعد 1418ھ) پیر کی شب پھر خواب میں سلطان الفقر ششم نظر آئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے قریب پڑے ہوئے ایک پرانے صندوق کو کھولا۔ اس میں سے سنہری رنگ کا اسمِ اللہ ذات نکل کر بلند ہوا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے سر مبارک کے قریب سورج کی طرح چمکنے لگا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ’’بیٹا بڑی محنت کر لی اب چلے آؤ‘‘ اور اسمِ اللہ ذات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا’’ تمہاری یہ امانت کب سے ہمارے پاس تمہارا انتظار کر رہی ہے اور ہم خودبھی تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘ 
لیکن صورتحال وہی کہ کہاں جائیں؟ تلاش پھر شروع کی لیکن نتیجہ ندارد۔ آپ مدظلہ الاقدس کا معمول تھا کہ جمعتہ المبارک کی نماز کی ادائیگی کے بعد گھر آکر نمازِ عصر تک درود شریف کا ورد فرمایا کرتے تھے۔ 10 اپریل 1998ء کو بھی آپ نے معمول کے مطابق نمازِ جمعہ ادا کی اور گھر آکر جائے نماز پر بیٹھ کر درود شریف کا ورد شروع کیا ہی تھا کہ گھٹن کی وجہ سے ہچکی بندھ گئی۔ رو رو کر اللہ پا ک کی بارگاہ میں عرض گزار ہوئے’’ اللہ پاک اب تو منزل پر پہنچا دے۔ اگر چند ہفتوں تک منزل نہ ملی تو پچھلی زندگی کی طرف لوٹ جاؤں گا۔ تیرا فرمان ہے کہ تو کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔‘‘ روتے روتے آپ مدظلہ الاقدس جائے نماز پر گر کر ہی سو گئے۔ خواب میں سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ تشریف لائے اور فرمایا ’’ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آپ کو ہمارے سپرد فرمایا ہے اور ہم آپ کو خود سے جدا نہ ہونے دیں گے۔ ‘‘ اور حکم فرمایا’’ہم نے تمہیں سلطان باھُو(رحمتہ اللہ علیہ) کے سپرد فرما دیا ہے اب تمہاری آخری تربیت تو تمہارے مرشد ہی فرمائیں گے۔ دربار سلطان باھُو (رحمتہ اللہ علیہ) پر چلے جاؤ۔‘‘ اس کے بعد سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ نے آپ مدظلہ الاقدس کے دل پر دستِ مبارک رکھا۔ جب آپ سو کر اُٹھے تو پُرسکون ہوچکے تھے۔
12 اپریل 1998ء کو آپ مدظلہ الاقدس علی الصبح دربار سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ پر تشریف لے گئے اور عرض کی’’ سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ نے آپ کی بارگاہ میں بھیجا ہے۔‘‘ پھر سرہانے کی جانب بیٹھ کر دعوت پڑھی اور عرض کی کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے دربار کے باہر تحریر ہے:

ہر کہ طالب حق بود من حاضرم
ز ابتدا تا انتہا یک دم برم
طالب بیا! طالب بیا! طالب بیا
تا رسانم روزِ اوّل باخدا

ترجمہ: ہر وہ شخص جو حق تعالیٰ کا طالب ہے میں اس کے لیے حاضر ہوں۔ میں اسے ابتدا سے انتہا تک فوراً پہنچا دیتا ہوں۔ اے طالب آ۔ اے طالب آ۔ اے طالب آ۔ تاکہ میں تجھے پہلے دن ہی اللہ تعالیٰ تک پہنچا دوں۔‘‘
کافی دیر خاموشی رہی۔ وھم کے ذریعے کوئی جواب نہ آیا۔ کافی دیر بعد حکم ہوا ’’تم ہمارے بھی محبوب ہو۔ سلطان محمد عبد العزیز( رحمتہ اللہ علیہ) کے دربار پر سلطان محمد اصغر علی کے پاس چلے جاؤ وہی تمہارے مرشد ہیں۔ ‘‘پھر’’ فرمایا جاؤ تمہارے مرشد تمہارا انتظار کر رہے ہیں، اپنا ورثہ وہاں سے حاصل کر لو۔‘‘
جب آپ مدظلہ الاقدس آستانہ عالیہ سلطان محمد عبدالعزیز (جو کہ دربار سلطان باھُوؒ کے قریب ہی ہے) پر پہنچے تو سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے کمرہ مبارک کے باہر لوگوں کا بے انتہا ہجوم تھا۔کچھ دیر انتظار کے بعد آپ مدظلہ الاقدس کو ملاقات کی اجازت ملی۔ جب آپ سلطان الفقر ششمؒ کے کمرے میں داخل ہوئے تو سامنے پلنگ پر وہی خواب والا من موہنا اور خوبصورت چہرہ دکھائی دیا پس ’’اوّل آخر یکساں ہوگیا‘‘ اور دل میں کوئی سوال باقی نہ رہا۔ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو دیکھا تو فرمایا ’’آگئے ہو‘‘۔ آپ مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں کہ اس بھری محفل میں ان الفاظ کو صرف میں نے سنا۔ فوراً آپ رحمتہ اللہ علیہ کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ بیعت کی درخواست کی تو سلطان الفقر ششم رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ’’ بیعت بھی کرتے ہیں اب اتنی جلدی کیا ہے؟‘‘ یہ تقریباً ظہر کا وقت تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے محرم راز اور خادمِ خاص سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو بعد نمازِ مغرب بیعت فرمایا۔ تاریخ 12اپریل 1998ء (15 ذوالحجہ 1418ھ) تھی اور پیر کی شب شروع ہو چکی تھی۔ آپ پہلے دن سے ہی اپنے مرشد کے محبوب بن گئے اور اس دن سے آج تک آپ مدظلہ الاقدس مرتبۂ محبوبیت کے اعلیٰ ترین مقامات پر فائز ہیں جن میں روز بروز بلکہ لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہو رہا ہے۔