Khlafat-aur-amanat-Sultan-ul-Ashiqeen

خلافت اور امانت

خلافت اور امانت

خلافت اور امانت

تلاش محرم راز اور وارثِ امانت اور منتقلی امانتِ الٰہیہ کو بیان کرنے سے قبل ضروری ہے کہ ’’امانت اور خلافت‘‘ کے فرق کو واضح کر دیا جائے۔

                 خلافت

مرشد کامل اکمل نور الہدیٰ اپنے بہت سے مریدین کو خلافت عطا کرتا ہے جن میں سے کچھ خلافت ظاہری اور کچھ باطنی ہوتی ہیں۔ خلافتِ ظاہری سے عام طور پر مرشد کے وصال کے بعد اس کے دربار اور خانقاہ کا نظم و نسق چلانا مقصود ہوتا ہے۔ عموماً سجادہ نشین حضرات خلافتِ ظاہرہ کے حامل ہوتے ہیں۔ جن مریدین کو خلافتِ باطنی عطا کی جاتی ہے وہ مرشد کی کسی نہ کسی صفت سے متصف ہوتے ہیں۔ مرشد چونکہ کُل ہوتا ہے، وہ کسی مرید سے راضی ہو کر اس کو اپنی خاص صفت سے متصف فرما کر خلافت عطا کر دیتا ہے اور یہ خلیفہ اپنے مریدین کی اسی صفت کے تحت باطنی تربیت کرتا ہے۔ اسی صفت کے طالب اس طرح کے مرشد یا خلیفہ کے پاس آتے ہیں۔ تصوف کی عام فہم زبان میں ان خلفا کو ’’خلفا اصغر‘‘ کہا جاتا ہے۔ سروری قادری سلسلہ میں یہ ’’صاحبِ اسم مرشد‘‘ ہوتے ہیں۔ 

            امانت

امانت سے مراد امانتِ الٰہیہ‘ خلافتِ الٰہیہ‘ نیابتِ الٰہیہ یا امانتِ فقر ہے۔منتقلی امانتِ الٰہیہ یا امانتِ فقر سے قبل ’’امانت‘‘ کے بارے میں بیان ضروری ہے۔ شاہ محمد ذوقی رحمتہ اللہ علیہ اپنی تصنیف سِرّ دلبراں میں فرماتے ہیں:
* وہ بارِ امانت جس کے متحمل ہونے کی صلاحیت آسمان و زمین نے اپنے آپ میں نہ پائی اور جس کی تاب پہاڑ نہ لاسکے اور جو بوجھ نہ صرف آسمان بلکہ آسمان والوں سے بھی نہ اُٹھ سکا اور حضرتِ انسان نے اس بوجھ کو اٹھا لیا وہ ظہورِ وجودیعنی ’’ظہورِ ذات مع الاسماء و صفات‘‘ ہے۔ اس کو اسمِ اللہ ذات بھی کہا گیا ہے کیونکہ اسمِ اللہ ذات عین ذات ہے اور بصورتِ بشریت وہ انسانِ کامل ہے۔
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْھَا وَحَمَلَھَا الْاِنْسَانُط اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَھُوْلًا ۔ (احزاب: 72)
ترجمہ: ’’ہم نے بارِ امانت کو آسمانوں،زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا۔ سب نے اس کے اٹھانے سے عاجزی ظاہر کی لیکن انسان نے اسے اٹھا لیا۔ بے شک وہ( اپنے نفس کے لیے )ظالم اور(اپنی قدروشان سے) نادان ہے۔‘‘ (سِرّ دلبراں)
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ امانت سے مراد ’’اسم اللہ ذات‘‘ ہے اور اسم اللہ ذات کیا ہے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

اسمِ اللہ بس گراں است بس عظیم                                               ایں حقیقت یافتہ نبی کریم ؐ
ترجمہ: اسم اللہ بہت ہی بھاری اور عظیم امانت ہے۔ اس کی حقیقت کو صرف حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی جانتے ہیں۔
سلسلہ سروری قادری کے فقراء کاملین کے نزدیک امانت سے مراد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ’’ورثہ فقر‘‘ ہے اور جو اس ’’ورثہ فقر‘‘ کا وارث ہوتا ہے وہی حاملِ امانتِ الٰہیہ ہوتا ہے اور وہی روحانی سلسلہ کا سربراہ اور امام ہوتا ہے اور وہی اپنے زمانہ کا سلطان ہوتا ہے۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خزانہ فقر کے مختارِ کل ہیں اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وراثت ہے اور وارث ہی وراثت تقسیم فرماتا ہے۔ جب طالب فنا فی اللہ بقا باللہ‘ یا فنا فی ھُو یعنی وحدت کی منزل تک پہنچ جاتا ہے اور توحید میں فنا ہو کر ’’سراپا توحید‘‘ ہو جاتا ہے تو انسانِ کامل‘ فقیرِ کامل کے مرتبہ پر فائز ہو جاتا ہے، وہی امامِ مبین اور وہی مرشد کامل اکمل ہوتا ہے۔ حدیثِ نبوی ہے:اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہِ      ترجمہ:جہاں فقر مکمل ہوتا ہے وہیں اللہ ہوتا ہے۔ 

حاملِ امانتِ الٰہیہ وہ ہوتا ہے جو فنا فی فقر‘ فنا فی الرسول اور فنا فی ھُو ہوتا ہے۔ 
* حضرت موید الدین جندی رحمتہ اللہ علیہ تفسیر روح البیان جلد اوّل‘ سورہ فاتحہ کی تفسیر میں اسمِ اعظم کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’اس کے معنی وہ انسانِ کامل ہے جو ہر زمانہ میں ہوتا ہے یعنی وہ قطب الاقطاب اور امانتِ الٰہیہ کا حامل اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہوتا ہے اور’’ اسمِ اعظم‘‘ کی صورت اس ولی کامل کی ظاہری صورت کا نام ہے۔‘‘
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ امانتِ الٰہیہ کے حامل کو ’’صاحبِ مسمّٰی‘‘ فرماتے ہیں۔صاحبِ مسمّٰی سے مراد فنا فی اللہ بقا باللہ فقیر (انسانِ کامل) ہے جو مسندِ تلقین و ارشاد پر فائز ہوتا ہے۔ یہی وہ ذات ہے جو مرشدِ کامل اکمل ہے اور اسمِ اللہ ذات عطا کرنے پر من جانب اللہ مامور ہے۔ جیسا کہ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
* ’’اسم ‘‘اور ’’مسمّٰی ‘‘ میں کیا فرق ہے ؟ صاحبِ اسم (محض) ذکر کرنے والا ہوتا ہے اور صاحبِ مسمّٰی اللہ تعالیٰ کی ذات میں غرق ہوتا ہے۔ صاحبِ اسم مقامِ مخلوق پر ہوتا ہے اور صاحبِ مسمّٰی مقامِ غیر مخلوق پر ہوتا ہے۔صاحب مسمّٰی پر ذکر حرام ہے کیونکہ صاحبِ مسمّٰی ظاہر اور باطن میں ہر وقت حضوریٔ فنا فی اللہ میں مکمل طور پر غرق ہوتا ہے۔(عین الفقر) 
مسمّٰی آں کہ باشد لازوالی                                                         نہ آں جا ذکر و فکر نہ وصالی

ترجمہ: مقامِ مسمّٰی لازوال مقام ہے جہاں پر ذکر فکر وصال کی گنجائش نہیں۔(محک الفقر کلاں)
بود غرقش بہ وحدت عین دانی                                فنا فی اللہ شود سِرّنہانی
اس مقام پر پہنچ کر طالب اللہ فنا فی اللہ فقیر ہو جاتا ہے اور اس پر رازِ پنہاں ظاہر ہوجاتا ہے۔ 
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمدنجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
* عارف اسے کہتے ہیں جو اسم سے مسمّٰی کو پاتا ہے۔(فقرِ اقبالؒ )
* اسمِ اعظم اُسے نصیب ہوتا ہے جو صاحبِ مسمّٰی ہو۔جو صاحبِ مسمّٰی ہو جاتا ہے وہی صاحبِ اسم اعظم ہوتا ہے۔(حقیقت اسمِ اللہ ذات) 
صاحبِ مسمّٰی سے مراد وہ مظہرِ الٰہی ہے جس میں ظہورِ ذات مع الاسماء و صفات ہوتا ہے یا ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ طالب یا مرید جو مرشد کی ذات و تمام صفات کا مظہر ہوتا ہے اور اس کے لباس میں مرشد ہی ملتبس ہوتا ہے۔ یعنی وہ طالبِ مولیٰ جسے مرشد امانتِ الٰہیہ و امانتِ فقر منتقل کرتا ہے۔ یہ واحد ہوتا ہے اور ہر زمانہ کی شان کے مطابق عام طور پر نئی جگہ پر ظاہر ہوتا ہے۔ اصطلاح تصوف اور عام فہم زبان میں اسے ’’خلیفۂ اکبر‘‘ کے نام نامی اور اسم گرامی سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
امانت‘‘ جس طالب کے سپرد کی جاتی ہے وہ ازل سے منتخب شدہ ہوتا ہے۔ اس کا باطن آئینہ کی طرح پاکیزہ اور صاف ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اُسے باطن میں بیعت فرما کر غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کے سپرد فرماتے ہیں جو اس کی باطنی تربیت فرمانے کے بعد ظاہری مرشد کے سپرد فرماتے ہیں۔ مرشد اُسے مختلف ظاہری و باطنی آزمائشوں اور امتحانات میں سے گزارتا ہے۔ جس طرح سونا بھٹی میں تپ کر کندن بن جاتا ہے اسی طرح یہ طالبِ مولیٰ اپنے بے مثل صدق، اخلاصِ نیت، شدتِ عشق، وفا وقربانی اور فضلِ الٰہی کی بدولت آزمائشوں اور امتحانات سے گزرنے کے بعد اس لائق ہوجاتا ہے کہ امانت اس کے سپرد کی جا سکے۔ وہ مرشد سے بے انتہا عشق اور مرشد کی بے لوث خدمت کی وجہ سے مرشد کی نظر میں عاشق سے معشوق، محب سے محبوب اور مرشد کے دِل کا محرم و راز دار بن جاتا ہے۔ صرف یہی طالب رازِ پنہاں سے باخبر ہوتا ہے۔ ’’امانت‘‘ کی منتقلی بھی اِن عاشق اور معشوق ، محرم اور محرمِ راز کے درمیان ایک راز ہوتی ہے جو خاموشی اور رازداری سے عمل میں آتی ہے۔ مثال کے طور پر سلطان الاولیا حضرت سخی سلطان محمد عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ نے خلافت عطا کرتے وقت ظاہری طور پر سب کے سامنے اپنی دستار مبارک سر سے اتار کر اپنے بڑے صاحبزادے سلطان صفدر علی رحمتہ اللہ علیہ کے سر مبارک پر رکھی لیکن’’امانت‘‘ بڑی راز داری سے سلطان الفقرششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کو منتقل فرمادیفَھِمَ مَنْ فَھِمَ(جو سمجھ گیا سو سمجھ گیا) ۔

علامہ اقبال ؒ اس کو یوں بیان فرماتے ہیں:
پرورش پاتا ہے تقلید کی تاریکی میں                                  ہے مگر اس کی طبیعت کا تقاضا تخلیق
اس کا اندازِ نظر اپنے زمانے سے جدا                           اس کے احوال سے محرم نہیں پیرانِ طریق
جس طرح ہر طالب کو مرشدِ کامل اکمل کی تلاش ہوتی ہے تاکہ معرفتِ الٰہی تک رسائی حاصل کرسکے اسی طرح ہر مرشد کامل اکمل ’’محرم راز‘‘ کی تلاش میں ہوتا ہے تاکہ اُسے ’’امانتِ فقر‘‘ منتقل کرکے اپنے فرض سے سبکدوش ہوجائے ۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ بھی تمام عمر ایسے محرم راز طالب کی تلاش میں رہے۔ نور الہدیٰ کلاں میں آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
* ’’سالہا سال سے میں طالبانِ مولیٰ کی تلاش میں ہوں لیکن ابھی تک مجھے ایسا وسیع حوصلے اور ہمت والا لائقِ تلقین صادق طالب نہیں ملا جسے میں معرفت اور توحید کے ظاہری اور باطنی خزانوں کی نعمت اور دولت (امانتِ فقر) کا نصاب بے حساب عطا کرکے تبرکاتِ الٰہی کی زکوٰۃ کے فرض سے سبکدوش ہو کر اللہ تعالیٰ کے حق سے اپنی گردن چھڑالوں۔‘‘
اسی کتاب میں آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
درطلب طالب بہ طلبم سالہا سال                                                   کس نہ یابم طالبے لائق لقا
ترجمہ:میں سالہا سال سے ایسے طالب کو تلاش کرتا پھر رہا ہوں جو دیدارِ الٰہی کے لائق ہو لیکن افسوس مجھے ایسا طالب نہیں ملا۔
امیر الکونین میں آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :- 
باھُوؒ کس نیامد طالبے لائق طلب                                          حاضر کنم بامصطفےٰؐ توحیدربّ
ترجمہ: اے باھُوؒ ! میرے پاس کوئی بھی اللہ کی طلب لے کر نہیں آیا جسے میں مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری عطا کرکے وحدتِ حق تک لے جاؤں۔
؂ کس نیابم طالبے حق حق طلب                                            میر سانم باحضوری رازِ ربّ
ترجمہ: میں کوئی طالبِ حق نہ پاسکا جو(مجھ سے) حق طلب کرے اور میں است رازِ ربّ عطا کرتے ہوئے حضورِ حق میں پہنچا دوں۔
پنجابی بیت کے ایک مصرعہ میں آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
دل دا محرم کوئی نہ ملیا‘ جو ملیا سو غرضی ھُو 
ترجمہ :مجھے کوئی ایسا طالب نہیں ملا جو میرے پاس صرف طلبِ مولیٰ کے لیے آیا ہو جس کو میں امانت منتقل کر سکتا۔ میرے پاس تو جو بھی آیا وہ کسی نہ کسی دنیاوی،نفسانی یا ذاتی خواہش کی تکمیل کی غرض سے آیا۔
امانت کی منتقلی کا ایک طے شدہ اصول ہے جس کو مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ نے مثنوی کے دفتر سوم میں بیان فرمایا ہے:
* ’’اللہ تعالیٰ اپنی امانت ایسے شخص کے دِل میں ودیعت کرتا ہے جس کی زیادہ شہرت نہ ہو۔‘‘
سلسلہ سروری قادری کے مشائخ بھی ہمیشہ شہرت سے دور رہتے ہیں ۔ طالبانِ مولیٰ کے علاوہ نہ اُن کو کوئی جانتا ہے اور نہ ہی اُن کے مزارات کی شہرت دوسرے سلاسل کے مشائخ کی طرح ہوتی ہے۔ یہ لوگ اس حدیثِ قدسی کے مصداق ہوتے ہیں :اِنَّ اَوْ لِیَآ یِٔ تَحْتَ قَبَایِٔ لَاْ یَعْرِفُھُمْ غَیْرِیْ ط ترجمہ: میرے وہ اولیا بھی ہیں جو میری قبا کے نیچے چھپے رہتے ہیں انہیں میرے سوا کوئی نہیں جانتا۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے فرمایا ’’ تمام بندوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ زیادہ محبوب ہیں جو اہلِ تقویٰ ہیں اور’’ پوشیدہ‘‘ ہیں۔ اگر وہ غائب ہوں تو انہیں کوئی تلاش نہ کرے ، گواہی دیں تو پہچانے نہ جائیں۔ یہی لوگ ہدایت کے امام اور علم کے چراغ ہیں۔‘‘(طبرانی، حاکم)
اور فقر یہی ہے:
’’ہوویں سونا سداویں سکہ ھُو ‘‘
(یعنی خالص سونا ہوتے ہوئے بھی لوگوں سے اپنی چمک چھپا کر رکھنا اور بظاہر لوہے کے سکے کی مانند نظر آنا)۔ایسے ہی طالبِ مولیٰ کو امانت منتقل ہوتی ہے جس کی شہرت نہ ہو اور گمنامی و خمول میں زندگی بسر کرتا ہو کیونکہ طلبِ شہرت و عزو جاہ تو راہِ فقر کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

انسانِ کامل کے بارے میں تفصیلی مطالعہ کے لیے وزٹ کریں۔
http://urdu.sultan-bahoo.com/insan-e-kamil-faqeer-e-kamil-sultan-bahoo-ka-dushman-insan-e-kamil/