سلطان العاشقین کےخلفا | Sultan ul Ashiqeen kay khalifahs

Rate this post

سلطان العاشقین کےخلفاء | Sultan ul Ashiqeen kay khalifahs

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کے خلفا 

 سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمدنجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے اس کتاب کی اشاعت تک نو (9)طالبانِ مولیٰ کو خلافت عطا فرمائی ہے  جن میں سے صاحبزادہ سلطان محمد مرتضیٰ نجیب کو اپنی زندگی میں بیعت کرنے اور تلقین و ارشاد کی اجازت دی ہے اور باقی خلفا کوآپ مدظلہ الاقدس کے اس دنیا فانی سے چلے جانے کے بعد بیعت اور تلقین و ارشاد کی وصیت کی ہے۔ 

آپ مدظلہ الاقدس کے خلفا کے نام اور مختصرا سوانح ِ حیات درج ذیل ہے:

صاحبزادہ سلطان محمد مرتضیٰ نجیب صاحب

صاحبزادہ سلطان محمد مرتضیٰ نجیب کی ولادت باسعادت 5 اگست 1997ء بمطابق 30 ربیع الاوّل 1418ھ بروز منگل شام پانچ بج کر بیس منٹ پر سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخ ِ کامل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے بابرکت گھرانے میں ہوئی۔ میٹرک تک تعلیم یونیک ہائی سکول سے حاصل کی جبکہ کنکورڈیا کالج لاہور سے کامرس میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔

صاحبزادہ سلطان محمد مرتضیٰ نجیب صاحب کو بچپن سے ہی سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی پاکیزہ صحبت میسر تھی جس کی بدولت قلب میں عشقِ حقیقی کا سمندر موجزن تھا۔ دل میں شدید خواہش تھی کہ صادق طالبانِ مولیٰ میں شمار ہوں۔ اس غرض سے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں بیعت کے لیے بارہا درخواست بھی کی جس پر سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے خاص وقت پر بیعت کرنے کا وعدہ فرمایا اور بالآخر 22 اکتوبر 2016ء (21محرم1437ھ) بروز ہفتہ بعد نمازِ مغرب دربار سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ پر ان کے عرس مبارک کے بابرکت موقع پر بیعت فرمایا اور اپنی دستار مبارک عطا فرمائی۔

صاحبزادہ سلطان محمد مرتضیٰ نجیب اپنے والد سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کو مرشد کی حیثیت سے دیکھتے تھے اور آپ مدظلہ الاقدس سے شدید عشق رکھتے تھے اسی لیے بیعت سے قبل ہی آپ نے تحریک دعوتِ فقر کے شعبہ جات میں مختلف فرائض سرانجام دینا شروع کر دیئے جن میں شعبہ لنگر میں لنگر کی تقسیم، شعبہ سلطان الفقر ڈیجیٹل پروڈکشن میں فوٹوگرافی اور ویڈیو ایڈیٹنگ اور شعبہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ شامل ہیں۔ جو بھی ڈیوٹی لگائی گئی صاحبزادہ سلطان محمد مرتضیٰ نجیب نے نہایت خلوص و صدقِ دل سے انجام دی۔

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ جو کہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے مرشد ہیں، اکثر آپ مدظلہ الاقدس کے گھر تشریف لایا کرتے تھے اور صاحبزادہ سلطان محمد مرتضیٰ نجیب صاحب پر بہت شفقت بھی فرماتے تھے اور جب بھی انہیں دیکھتے تو فرماتے انشاء اللہ اسم بامسمّٰی ہو گا۔ اور بیشک ایسا ہی ہوا۔

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے 21 نومبر 2018ء (12 ربیع الاوّل 1440ھ) بروز بدھ عید میلاد النبیؐ کے بابرکت روز میلادِ مصطفی ؐ کی محفل میں خلافت عطا فرما کر تحریک دعوتِ فقر کا نائب سرپرست مقرر فرمایا اور اس کے علاوہ اپنے وصال کے بعد اپنے خاندان کا سربراہ اور اپنے مزار مبارک کا سجادہ نشین بھی مقرر فرمایا۔ اس کا تذکرہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے اپنی تصنیف مبارکہ ’’مجتبیٰ آخر زمانی‘‘ (بارِ دوم۔ مارچ 2022ء) کے باب دوم صفحہ 247 میں عرس 2017ء کے عنوان میں بھی کیا ہے۔

بطور نائب سرپرست تحریک دعوتِ فقر صاحبزادہ سلطان محمد مرتضیٰ نجیب صاحب تحریک دعوتِ فقر کے تمام شعبہ جات کی نگرانی فرماتے ہیں اور تمام معاملات بخوبی سرانجام دیتے ہیں۔ 

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے صاحبزادہ سلطان محمد مرتضیٰ نجیب کو ’سلطان‘ کالقب عطا فرما کر تلقین و ارشاد اور بیعت کی اجازت عطا فرمائی اور فرمایا ’’جس نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی اس نے ہمارے ہاتھ پر بیعت کی۔‘‘

خلافت عطا کرنے کے خوبصورت  مناظر    ملاحظہ فرمانے کے لیے وزٹ کریں:
https://www.youtube.com/watch?v=zynaw2sEwLg&t=1s

farmodat aqwal

سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری 

سلطان محمد عبداللہ اقبال 24 ستمبر 1988ء (12 صفر 1409ھ) بروز ہفتہ چک 86 جنوبی سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سرگودھا کے ایک پرائیویٹ سکول سے حاصل کی۔ انٹرمیڈیٹ کا امتحان کیڈٹ کالج سکردو سے پاس کیا۔ 2009ء میں پاکستان آرمی میں بطور کمیشنڈ آفیسر شمولیت اختیار کرلی۔ 

آٹھویں جماعت سے ہی یہ بات دل میں گھر کر گئی کہ مرشد کامل کے بغیر اللہ تک پہنچنا ناممکن ہے اور یہ بات دل میں شدت سے نقش ہو گئی کہ مرشد کامل کو تلاش کرنا ہے تاکہ اللہ کو پایا جا سکے۔ 2006ء سے 2008ء تک اللہ سے دعا کرتے رہے کہ مرشد کامل اکمل تک پہنچا دے۔ 2008ء میں ایک رات خواب میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس تشریف لائے، پیار سے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا ’’ہم تمہارے مرشد ہیں۔‘‘ بیدار ہونے کے بعد 2014ء تک مسلسل انہی مرشد کامل کی تلاش میں رہے۔ جہاں کسی مرشد کے متعلق سنا چل دیے۔

اس طویل عرصے کے دوران بہت سے لوگوں سے ملاقات بھی ہوئی لیکن دل مضطرب ہی رہا اور وہ پُرنور صورت نہ ملی۔ فروری 2014ء میں کچھ جاننے والوں نے بتایا کہ لاہور میں ایک کامل ولی اللہ ہیں۔ دور دراز سے لوگ ان کے پاس آتے اور اپنی مرادیں پا کر مطمئن ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی بارگاہ میں ذکر ِ پاس انفاس خودبخود جاری ہو جاتا ہے، مجلس ِمحمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حاضری نصیب ہوتی ہے اور دیدارِ الٰہی عطا ہوتا ہے۔

اس وقت تک مایوسی کافی بڑھ چکی تھی اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ شاید مرشد کامل ملنا نصیب میں نہیں ہے لیکن دل میں خیال آیا کہ آخری کوشش کر کے دیکھنا چاہیے اگر اب بھی وہ انجانے بزرگ نہ ملے تو پھر کہیں نہیں جاؤں گا۔یہ سوچ کر 9فروری 2014ء کو سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔اپنی حاضری کا حال سلطان محمد عبداللہ اقبال یوں بیان کرتے ہیں:

’’میں 9فروری 2014 ء بروز اتوار خانقاہ سروری قادری میں حاضر ہوا۔ اس نیت سے آیا تھا کہ اگر دل کو سکون ملا تو ٹھیک ہے ورنہ فوراً واپس چلا جاؤں گا۔ خانقاہ میں اعلان کیا گیا کہ سب لائن بنا لیں حضور مرشد کریم تشریف لا رہے ہیں۔ میں لائن کے آخر میں کھڑا ہو گیا۔ دل بہت بے چین تھا کہ جلد یہ انتظار ختم ہو۔ آخر کار انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں، مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس خانقاہ کے دروازے سے اندر داخل ہوئے۔ جیسے ہی میری نظریں آپ مدظلہ الاقدس کے چہرہ مبارک پر پڑیں تو فوراً پہچان لیا کہ یہ وہی مرشد کامل اکمل ہیں جو خواب میں تشریف لائے تھے۔ خوشی کی انتہا نہ رہی۔ مجھے آپ مدظلہ الاقدس کے چہرہ اقدس پر بہت زیادہ نور نظر آیا اور آپ مدظلہ الاقدس اس قدر حسین دکھائی دیئے کہ میں نے اس سے پہلے آپ مدظلہ الاقدس جیسا حسین چہرہ کسی کا نہیں دیکھا۔ آپ کی شخصیت ایسی نورانی تھی کہ میرے دل کے لیے سکون کا باعث بنتی گئی۔ جیسے جیسے آپ کو دیکھتا گیا یوں لگا کہ منزل قریب آتی جا رہی ہے۔ میں نے فوراً فیصلہ کر لیا کہ آپ مدظلہ الاقدس کے ہاتھ پر ہی بیعت کروں گا۔ دل سے یہ آواز آرہی تھی کہ تم مرشد کامل کی بارگاہ میں پہنچ گئے ہو۔ میری زندگی میں یہ پہلی بار ہوا کہ تمام منفی سوچوں نے آپ مدظلہ الاقدس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ کسی سوچ، خیال اور وسوسہ نے مجھے بیعت ہونے سے نہ روکا۔ پھر جب بیعت ہونے کے لیے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے سامنے دوزانو بیٹھا تو خدمتگاروں نے مجھے کہا کہ آرام دہ طریقے سے بیٹھیں ورنہ تھک جائیں گے کیونکہ بیعت میں کچھ وقت لگتا ہے۔ میں نے دل میں ان سے کہا کہ مجھے تنگ نہ کرو ایسے ہی بیٹھا رہنے دو میں نہیں تھکتا۔ ابھی میرا یہ خیال ختم نہ ہوا تھا کہ مرشد کریم نے اپنے لب مبارک ہلائے اور وہی فرمایا جو میرے دل میں چل رہا تھاکہ ’’اسے تنگ نہ کرو یہ نہیں تھکتا۔‘‘ میں اس بات سے ایک دم چونک گیا اور مزید تسلی ہو گئی کہ صحیح جگہ ہاتھ دیا ہے۔ بیعت ہونے کے بعد جیسے ہی مرشد کریم نے دل اور چہرہ پر پھونک ماری تو دل کی شدید بے چینی اور پریشانی لمحہ بھر میں سکون میں بدل گئی۔ اس روز زندگی میں پہلی بار سکون کا مزہ چکھا کہ حقیقی سکون کیا ہوتا ہے۔ بیعت کے بعد سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی محبت کے علاوہ کسی کی محبت راس نہیں آئی۔ کسی بھی جگہ چلا جاؤں لیکن جو سکون آپ مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں حاصل ہوتا ہے وہ کہیں اور حاصل نہیں ہوتا۔ جو محبت اور پیار آپ مدظلہ الاقدس نے دیا وہ پوری زندگی کسی سے نہ ملا تھا۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے اس عاجز کو اپنی دامادی کا شرف بھی عطا فرمایا۔‘‘

سلطان محمد عبداللہ اقبال تحریک دعوتِ فقر کے شعبہ ویب سائٹ ڈویلپمنٹ، شعبہ ویب پروموشن، سائبر سیکورٹی اور شعبہ سیکورٹی میں اہم فرائض نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دے رہے ہیں۔

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے 21مارچ 2019 ء محفل میلادِ مصطفیؐ بسلسلہ یومِ منتقلی امانت ِالٰہیہ کے پُرسعادت موقع پر سلطان محمد عبداللہ اقبال کے سر پر اپنی دستار مبارک رکھ کر خلافت عطا فرمائی اور 28 مئی 2020 کو ’سلطان ‘ کے لقب سے نوازا۔

خلافت عطا کرنے کے خوبصورت  مناظر    ملاحظہ فرمانے کے لیے وزٹ کریں:
https://www.youtube.com/watch?v=9OmyJo_mxNQ

سلطان ڈاکٹر محمد حسنین محبوب سروری قادری

ڈاکٹر سلطان محمد حسنین محبوب 22 اپریل 1991ء (7 شوال 1411 ھ) بروز سوموار ماڈل ٹاؤن لاہور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم پاکستان کے معروف سکول بیکن ہاؤس سکول سسٹم جوہر ٹاؤن لاہور سے حاصل کی اور 2007ء میں اولیول (O-Level) کا امتحان بیکن ہاؤس سے تمام مضامین میں A+ گریڈ کے ساتھ پاس کیا اور نہ صرف اپنے سکول میں اوّل پوزیشن حاصل کی بلکہ اردو کے مضمون میں لاہور لیول پر ڈسٹنکشن(Distinction) بھی حاصل کی۔ سال 2007ء میں Resource Academia لاہور سے اسکالر شپ (Scholarship)  پر داخلہ ملا اور یہیں سے 2009 ء میں اے لیول (A-Level) کے امتحان میں بھی A+ گریڈ کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ اتنی کامیابیوں کے باوجود دل کو اطمینان اور سکون حاصل نہ ہو رہا تھا۔

آپ کی والدہ کا رجحان روحانیت کی طرف تھا اس لیے آپ کی تربیت میں بھی اولیا اللہ کی محبت اور عقیدت کا اثر موجود تھا۔ عشق ِحقیقی کی تڑپ بھی دل میں موجود تھی جس کی وجہ سے طبیعت ہر وقت بے چین رہتی۔ اس بے چینی کو ختم کرنے کے لیے کثرت سے اللہ کی عبادت میں مشغول ہوگئے، پانچ وقت باجماعت نماز ادا کرنے کے ساتھ ساتھ باقاعدگی سے نمازِ تہجد بھی ادا کرنا شروع کر دی اور نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد باقاعدگی سے درود و سلام کا نذرانہ پیش کرتے اور دیگر وظائف کرتے۔ ان عبادات سے بے چینی تھوڑی کم ضرور ہوتی لیکن کبھی بھی مکمل ختم نہ ہوئی۔

سلطان محمد حسنین محبوب نے اے لیول (A Level) کے بعد میڈیکل کالج کے انٹری ٹیسٹ کی تیاری شروع کر دی۔ اس دوران سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی تصنیف ’’الفتح الربانی‘‘ کا مطالعہ بھی کیا جس کی بدولت مقصد ِحیات یعنی اللہ کی پہچان اور معرفت سے آگاہی حاصل ہوئی۔ سال 2010ء میں شیخ زید میڈیکل کالج رحیم یار خان میں ایم بی بی ایس (MBBS) میں داخلہ ہو گیا۔ اس دوران والدہ کے ساتھ مل کر مرشد کامل اکمل کی تلاش بھی جاری تھی لیکن مرشد کامل اکمل کی جن خصوصیات کے بارے میں حضرت سخی سلطان باھوؒ کی کتابوں میں پڑھا تھا ان خصوصیات کا حامل مرشد کہیں نہیں مل رہا تھا۔ اسی مقصد کے لیے والدہ کے ہمراہ بہت سے بزرگوں سے ملاقات بھی کی لیکن کسی کے پاس جا کر وہ قلبی و روحانی سکون میسر نہ آیا جس کی تلاش تھی۔ سکون میسر آتا بھی کیسے؟؟ جب تک قرب و معرفت ِالٰہی حاصل نہ ہو تب تک قلبی سکون میسر نہیں آتا۔ 

ایک بک سٹور پر سلطان محمد حسنین محبوب کی والدہ کو ماہنامہ سلطان الفقر لاہور ملا جس کے مطالعہ سے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے بارے میں پتہ چلا۔ وہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور مرشد کامل اکمل کی جو خصوصیات حضرت سخی سلطان باھوؒ نے بیان کی تھیں ان کا سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی نورانی شخصیت میں ہوبہو مشاہدہ کیا تو فوراً ان کے دست ِ  اقدس پر بیعت ہو گئیں اور سلطان محمد حسنین محبوب صاحب کو بھی سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی نورانی شخصیت کے متعلق بتایا۔ سلطان محمد حسنین محبوب اس وقت شیخ زید میڈیکل کالج رحیم یار خان میں ایم بی بی ایس کے دوسرے سال میں زیر ِتعلیم تھے۔ اطلاع ملتے ہی فوراً سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، آپ مدظلہ الاقدس کے چہرہ مبارک کی زیارت کرتے ہی دل میں جو بے چینی اور بے سکونی تھی وہ ایک لمحہ میں غائب ہو گئی اور دل کو ایسا سکون حاصل ہوا جو اس سے پہلے کبھی میسر نہ آسکا تھا۔

اسی دن 17 جولائی 2011ء بمطابق 15 شعبان 1432ھ کو سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے دست ِاقدس پر بیعت کی سعادت حاصل کی جس کے بعد سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے ان کو اسم  اللہ ذات کا ذکر وتصور اور مشقِ مرقومِ وجودیہ کی تلقین فرمائی۔ بیعت کے بعد سلطان محمد حسنین محبوب صاحب سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس سے ملاقات کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے کیونکہ مرشد کی بارگاہ میں جو سکون ملتا تھا وہ کہیں اور دستیاب نہ تھا۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے تبلیغی دوروں میں بھی آپ کے ہمراہ رہتے۔

بیعت کے کچھ عرصہ بعد ہی سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے انہیں ارشاد فرمایا ’’سیدّ عبدالکریم بن ابراہیم الجیلیؒ کی تصنیف مبارکہ’انسانِ کامل‘ کا مطالعہ کریں اور اسمِاللہ ذات کا ذکر وتصور بھی جاری رکھیں۔‘‘ اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے اچانک ان پر یہ راز منکشف ہوا کہ ان کے مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہی موجودہ زمانے کے انسانِ کامل ہیں۔ اسی وقت ان پر حقیقتِ محمدیہ واضح ہو گئی۔ یہ ایک ایسا علم تھا جو اس سے قبل ان سے پوشیدہ تھا اور اس حقیقت کا ادراک ہوتے ہی ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ ان کو سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے چہرہ مبارک پر نور ہی نور دکھائی دینے لگا اور اس نور نے انہیں اپنا عاشق اور دیوانہ بنا لیا۔ یہ دیوانگی دن بدن بڑھنے لگی۔

اپنے مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے فقر کے پیغام کو دنیا بھر میں عام کرنے کے لیے ڈاکٹر سلطان محمد حسنین محبوب تحریک دعوتِ فقر کے شعبہ سوشل میڈیا،شعبہ لنگر اور شعبہ سائبر سیکورٹی میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جو بھی ڈیوٹی مرشد کریم کی طرف سے لگائی جاتی ہے اس کو خلوصِ نیت کے ساتھ سرانجام دیتے ہیںاور ساتھ ساتھ ڈاکٹری کے فرائض بھی سرانجام دے رہے ہیں۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے انہیں اپنی دامادی کے شرف سے بھی نوازا۔

ان کے اسی عشق کی بدولت 21 مارچ 2019ء محفل میلادِ مصطفی ؐبسلسلہ یومِ منتقلی امانت ِ الٰہیہ کے بابرکت موقع پر سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے ڈاکٹر سلطان محمد حسنین محبوب کو خلافت عطا فرمائی اور اپنی دستار مبارک اپنے سر سے اتار کر اُن کے سر پررکھی اور 28 مئی 2020ء کو ’سلطان‘ کے لقب سے نوازا۔ 

 

https://www.youtube.com/watch?v=9OmyJo_mxNQ

سلطان  محمد نعیم عباس  سروری قادری

سلطان محمد نعیم عباس ملک ولد خورشید احمد ملک یکم ستمبر 1979ء (9 شوال 1399ھ) بروز ہفتہ بوقت ِ سحر لاہور میں پیدا ہوئے۔ والد صاحب سرکاری عہدیدار تھے اور شیخوپورہ میں تعینات تھے اس وجہ سے ابتدائی تعلیم سینٹ میریز سکول (Saint Marry’s School)  اور ارقم جونیئر ماڈل سکول شیخوپورہ سے حاصل کی۔ اس کے بعد آرمی برن ھال کالج ایبٹ آباد اور پھر کووینٹری یونیورسٹی (Coventry University) انگلینڈ سے ایم ایس سی آٹوموٹیو انجینئرنگ (MSc Automotive Engineering) کی ڈگری حاصل کی۔ دورانِ تعلیم ہی رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ کچھ عرصہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں نوکری بھی کی۔ والدہ ماجدہ کی طویل علالت میں ان کی تیمارداری میں زیادہ وقت گزرا۔ 

تصوف اور اولیا کرام کے بارے میں جاننے کا بہت اشتیاق تھا۔ اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت دل میں موجزن تھی، ان کے قرب اور معرفت کے بارے میں سنا اور پڑھا تھا اور اس کی خواہش بھی دل میں موجود تھی جس کی بدولت دنیا اور دنیاوی بھاگ دوڑ بے معنی لگنے لگی۔ اللہ تعالیٰ سے یہی دعا تھی کہ دنیا میں آنے کا مقصد مل جائے۔ والدہ، بہن، بھائی، زوجہ اور خاندان کے قریبی لوگ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے حلقۂ ارادت میں شامل تھے جن کے توسط سے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے بارے میں جاننے کا موقع ملا اور آپ مدظلہ الاقدس سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوتا رہا۔

عمر بھر اولیا و مشائخ کے بارے میں جو بھی سنا اور پڑھا تھا اس سے کہیں زیادہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی ذاتِ مبارکہ میں موجود پایا۔ آپ مدظلہ الاقدس کی بارعب، شفقت سے بھرپور اور پرُنور شخصیت اور اندازِ گفتگو سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ ملاقات کا شوق بڑھنے لگا اور خاندان میں جس گھر میں بھی آپ مدظلہ الاقدس کی تشریف آوری کی خبر ملتی وہیں ملاقات کے لیے پہنچ جاتے۔

آخر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے 24 جون 2017ء بروز منگل بعد نمازِ مغرب بمطابق 29 رمضان المبارک 1438ھ کو ان کی ہمشیرہ کے گھر پر دعوتِ افطار کے موقع پر بیعت کی درخواست قبول کی اور اپنے دست ِ اقدس پر بیعت فرمایا۔

سلطان محمد نعیم عباس پر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا بڑا کرم ہے کہ ان کو ان کے گھر سے بیعت کر کے لے آئے اور اپنے سایۂ شفقت میں لے لیا۔ آپ مدظلہ الاقدس نے سلطان محمد نعیم عباس کو مسجد ِ زہراؓ و خانقاہ سلطان العاشقین کی تعمیر کی ذمہ داری تفویض فرمائی۔ سلطان محمد نعیم عباس نے یہ ذمہ داری اس قدر خلوصِ نیت اور محنت سے پوری کی کہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے ان کو مسجدِزہرا اور خانقاہ سلطان العاشقین کا تاحیات نگران مقرر فرما دیا۔ تحریک دعوتِ فقر کے سالانہ انتخابات برائے سال 2018ء میں آپ مدظلہ الاقدس کے کرم و مہربانی سے تحریک دعوتِ فقر کے منتظمِ اعلیٰ منتخب ہوئے اور تاحال مسلسل منتظم ِ اعلیٰ منتخب ہوتے آ رہے ہیں۔

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے فیض و کرم نوازی فرماتے ہوئے سلطان محمد نعیم عباس ملک کو 12 ربیع الاوّل 1441ھ بمطابق 10 نومبر 2019 کو میلادِ مصطفیؐ کی محفل میں خلافت عطا فرمائی، اپنی دستار اتار کر ان کے سر پر رکھی اور ’سلطان‘ کا لقب عطا فرمایا۔

 

خلافت عطا کرنے کے خوبصورت  مناظر    ملاحظہ فرمانے کے لیے وزٹ کریں:
https://www.youtube.com/watch?v=r3xYzCLvjWE

سلطان محمد ناصر حمیدسروری قادری

سلطان محمد ناصر حمید ولد عبدالحمید 11 جنوری 1980ء (22 صفر1400ھ) بروز جمعتہ المبارک شالامار باغ باغبانپورہ لاہور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم جونیئر ماڈل سکول لاہور کینٹ سے حاصل کی۔ میٹرک کا امتحان گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول لاہور کینٹ سے پاس کرنے کے بعد ایف جی ڈگری کالج لاہور کینٹ سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا اور کمپیوٹر گرافک ڈیزائننگ کا کورس مکمل کر کے ایک پرائیویٹ کمپنی میں گرافک ڈیزائنر کی ملازمت شروع کی۔

طویل عرصہ ایک مذہبی جماعت سے وابستگی، کٹھن زہد و ریاضت اور ورد و وظائف کرنے کے باوجود قلبی سکون اور ادراکِ قلبی حاصل نہ ہو رہا تھا۔ اللہ پاک سے یہی دعا کرتے تھے کہ اللہ پاک ان کی صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی فرمائے۔

کتاب ’حقیقت اسم ِاللہ ذات‘ کے ٹا ئٹل کی ڈیزائننگ کے سلسلہ میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی ذاتِ اقدس سے متعارف ہوئے ۔ 28اگست 2005ء میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں ملاقات کے لیے حاضر ہوئے۔ اپنی ملاقات کے احوال کو سلطان محمد ناصر حمید یوں بیان کرتے ہیں:

’’سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سے ملتے ہی قلب و ذہن نے جنبش لی اور جیسے ہلچل والی کیفیت کو قرار آگیا۔ آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے ’اُن سے ملا کرو جن سے ملنے سے اللہ کی یاد آئے اور ذکر ِ اللہ کی طرف دل مائل ہو۔‘ تھوڑی دیر گفتگو کے بعدمیں نے دستِ بیعت ہونے کی التجا کی جسے آپ مد ظلہ الاقدس نے قبول فرمالیا اور نمازِ مغرب کے بعد بیعت فرما کر اپنے دست ِ اقدس سے خزانۂ دو عالم اسمِ اللہ ذات عطا کیا اور سلطان الاذکار ذکر ’ھوُ‘ کی تلقین فرمائی۔ بیعت کے بعد اجازت لے کر گھر کی طرف چل پڑا۔ ابھی میں گھر بھی نہ پہنچا تھا کہ حضور مرشد کریم کی نگاہِ اکمل کی تاثیر اور مہربانی سے میرا قلب جاری ہوگیا۔ یہ کیفیت اس قدر شدید تھی کہ ذکر ِ ’ھُو‘کی آواز اردگرد کے لوگوں کو بھی سنائی دے رہی تھی۔ جب میں گھر پہنچا تو میرے سب گھر والے پریشان ہوگئے کہ یہ کیسی آواز ہے۔ میرے بھائی کہنے لگے کہ اس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔ سچ تو یہ تھا کہ یہ میرے مرشد پاک کی مجھ عاجز پر عنایت تھی۔ اس کیفیت کی وجہ سے میں نے حضور مرشد کریم کو فون کیا اور آپ مدظلہ الاقدس کو اس کے بارے میںبتایا۔ آپ مد ظلہ الاقدس نے فرمایا ’ناصر بیٹا کچھ نہیں ہوا یہ اللہ پاک کی مہربانی ہے‘۔‘‘

مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی نگاہِ کامل کی تاثیر سے سلطان محمد ناصر حمید کے دل کی کایا پلٹ گئی۔ دل سے دنیا کی محبت کا خاتمہ ہو گیا اور مقصد ِ حیات مل گیا۔ مرشد کی غلامی کا طوق گلے میں ڈالا اور خود کو ہمیشہ کے لیے راہِ حق کے لیے وقف کر دیا۔ 

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی مہربانی اور کرم سے عشق ِ مرشد میں سرشار ہو کر آپ مدظلہ الاقدس کی شان میں عارفانہ کلام بھی تحریر کیا جس میں ایک سی حرفی بھی شامل ہے۔سلطان محمد ناصر حمید نے سلطان الفقر پبلیکیشنز ،شعبہ آرٹ اینڈ گرافکس ڈیزائننگ، شعبہ ویب سائٹس ڈویلپمنٹ، سلطان الفقر ڈیجیٹل پروڈکشنز اور شعبہ لنگر میں اہم فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ طویل عرصہ سے خانقاہ سروری قادری کے نگران بھی ہیں۔

سلطان محمد ناصر حمید28اگست 2005ء سے لے کر اب تک مرشد کریم کے ساتھ ہیں، اِس کے لیے ان کو گھر بار اور دنیا کو ٹھکرانا پڑا۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے 12 ربیع الاوّل 1441ھ بمطابق 10 نومبر 2019 کو میلادِ مصطفیؐ کی محفل میں خلافت عطا فرمائی، اپنی دستار اتار کر ان کے سر پر رکھی اور ’سلطان‘ کا لقب عطا فرمایا۔

 

خلافت عطا کرنے کے خوبصورت  مناظر    ملاحظہ فرمانے کے لیے وزٹ کریں:
https://www.youtube.com/watch?v=r3xYzCLvjWE

سلطان حافظ محمد ناصر مجید سرور ی قادری

سلطان حافظ محمد ناصر مجید ولد عبدالمجید 08 جنوری 1986ء (27ربیع الثانی1406ھ)  بروز بدھ ڈسکہ ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول ڈسکہ سے حاصل کی۔ آپ کے والد محترم بہت بڑے عالم تھے، صوم و صلوٰۃ کے پابند اور زائد نوافل و عبادات کی طرف خصوصی رغبت رکھنے والے تھے۔ دور دراز سے لوگ ان کے پاس دینی مسائل کے حل کے لیے آیا کرتے۔ سلطان محمد ناصر مجید کے والد دوسرے بہن بھائیوں کی نسبت ان سے خصوصی محبت کرتے تھے۔ انہوں نے آپ کو ابتدائی تعلیم کے بعد قرآنِ پاک حفظ کرنے کے لیے قریبی مدرسہ میں داخل کروا دیا۔ قرآنِ پاک حفظ کرنے کے بعد جناح اسلامیہ سکول سے مڈل اور گورنمنٹ ہائی سکول ڈسکہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ ایک پرائیویٹ اکیڈمی کے ذریعے گوجرانوالہ بورڈ سے آئی کام کا امتحان پاس کیا اور دورانِ تعلیم آٹھ سال تک ڈسکہ شہر اور گردونواح کی مساجد میں رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں نمازِ تراویح پڑھانے کی سعادت بھی حاصل کی۔ بی کام میں ایلیٹ کالج آف کامرس ڈسکہ میں ایڈمیشن لیا لیکن بہت مشکل سے ایک سال مکمل کیا کیونکہ اندرونی بے چینی اور بے قراری بہت بڑھ گئی تھی۔ کالج چھوڑ کر ایک پیر کی بیعت کی اور قلبی سکون حاصل کرنے کے لیے سخت ریاضتیں کیں۔ لیکن سکون نہ ملا۔ وہ نام نہاد پیر سلطان حافظ محمد ناصر مجید کی خدمت اور لگن سے بہت خوش تھا اس لیے اس نے اپنی چھوٹی بیٹی کا نکاح سلطان حافظ محمد ناصر مجید سے کروا دیا جو انتہائی پاک دامن اور مُستجابُ الدّعوات خاتون تھیں۔ وہ جو بھی دعا مانگتیں پوری ہوجاتی اور اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے والد نے پیر بن کر لوگوں سے لاکھوں روپے بٹورنے شروع کر دئیے۔ اس پیر نے سلطان حافظ محمد ناصر مجید سے بھی کاروبار کا جھانسا دے کر ساڑھے تین لاکھ روپے اینٹھ لیے۔ شادی کے بعد سلطان حافظ محمد ناصر مجید نے اس پیر کے قول و فعل میں بہت تضاد دیکھا تو بہت دل برداشتہ ہوئے اور اپنی رقم کی واپسی کا تقاضا کیا جس پر اس نام نہاد پیر نے صاف انکار کردیا۔ آپ نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑا اور کسی حقیقی مرشد کی تلاش شروع کردی۔ اسی تلاش کے دوران ایک دن ڈسکہ میں ایک اخبار فروش سے ماہنامہ سلطان الفقر ملا۔ جب اسے پڑھا تو ایسے محسوس ہوا جیسے ازلی فیض اندر اتر رہا ہے۔ پھر اس رسالہ پر دئیے گئے پتہ پر پہنچ گئے اور سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں جاکر اسم اللہ ذات حاصل کیا۔ دل میں یہی دلیل بنائے رکھی کہ مجھے سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ خود دستِ بیعت فرمائیں۔ اسی دلیل کے ساتھ شوق اور محبت سے اسمِ اللہ ذات پڑھنا شروع کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی صحبت میں کثرت سے حاضری بھی دیتے رہے۔ 

اس دوران ایک رات سلطان حافظ محمد ناصر مجید نے خواب دیکھا کہ ان کے گھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے ہیں اور ساتھ میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس بھی موجود ہیں، آپ مدظلہ الاقدس چلتے چلتے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قریب جاتے ہیں اور آپؐ کے سینہ مبارک میں غائب ہوجاتے ہیں۔ یوں سلطان حافظ محمد ناصر مجید پر یہ حقیقت کھل گئی کہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فنا فی الرسول ہیں۔ سلطان محمد ناصر مجید نے 17 اکتوبر 2014 (بمطابق23ذوالحجہ1435ھ) جمعتہ المبارک کے دن سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں حاضر ہوکر بیعت کی درخواست کی جو آپ مدظلہ الاقدس نے قبول فرما لی اور آپ کو بیعت کرکے پہلے دن ہی سلطان الاذکار ھوُ کا ذکر عطا فرما دیا۔ بیعت کے بعد تو جیسے دنیا ہی بدل گئی، اتنی خوشی اور اطمینان ملا کہ دل نے ہمیشہ کے لیے مرشد کی غلامی کا ہار گلے میں ڈالنے کا فیصلہ کرلیا۔ آپ کی زوجہ محترمہ بھی اپنے جعلی پیر والد کو چھوڑ کر سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس سے بیعت ہو گئیں اور حقیقی معرفت و قربِ الٰہی سے آشنا ہو کر روحانی منازل طے کر رہی ہیں۔

سلطان حافظ محمدناصر مجید تحریک دعوتِ فقر کی مرکزی رابطہ کمیٹی، شعبہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اور شعبہ بین الاقوامی امور میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔آپ نے راہِ فقر کے لیے بہت سی قربانیاں دیں جن سے راضی ہو کر 21 مارچ 2021ء (7 شعبان 1442ھ) بروز اتوار محفل میلادِ مصطفیؐ بسلسلہ یومِ منتقلی امانت ِالٰہیہ میں سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے انہیں اپنی خلافت عطا فرمائی اور اپنی دستار اتار کر ان کے سر پر رکھی۔ 22مارچ 2021ء کو انہیں ’سلطان‘ کا لقب بھی عطا فرمایا۔

 

خلافت عطا کرنے کے خوبصورت  مناظر    ملاحظہ فرمانے کے لیے وزٹ کریں:
https://www.youtube.com/watch?v=_L-tqHmdZZU

پروفیسر سلطان  حافظ حماد الرحمٰن  سرور ی قادری

پروفیسرسلطان حافظ حماد الرحمن کا آبائی علاقہ گاؤں ماناں کوٹ تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ ہے۔ خاندانی عناد سے محفوظ رہنے کے لیے آپ کے والد نے لاہور ہجرت کی اور شاہدرہ ٹاؤن لاہور میں رہائش پذیر ہوئے۔ اس دوران AG آفس پنجاب میں ملازمت اختیار کی۔ پروفیسر سلطان حافظ حماد الرحمن 26 جون 1981ء (23شعبان 1401ھ) بروز جمعتہ المبارک شاہدرہ ٹاؤن لاہور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم  The Radiant Way سکول وحدت روڈ لاہور سے حاصل کی۔ پرائمری کا امتحان پاس کرنے کے بعدقرآنِ پاک حفظ کیا اور پھر میٹرک کا امتحان گورنمنٹ سلیم ماڈل ہائی سکول لوئر مال لاہورسے پاس کیا۔ گورنمنٹ کالج سول لائنز سے ایف ایس سی (FSc) کی اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے بی ایس سی (BSc) اور پھر ایم ایس سی باٹنی (MSc Botany) کی ڈگری حاصل کی۔ جس کے بعد کچھ عرصہ تک ریسرچ آفیسر (Research Officer ) کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ چونکہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور ایک سیمی گورنمنٹ ادارہ تھا اس لیے اسے جلد ہی خیرباد کہا اور سپیرئیر کالج لاہور (Superior College) میں لیکچرار بھرتی ہو گئے۔ دوسال لیکچرار کے فرائض سر انجام دینے کے بعد محکمہ تعلیم میں ملازمت حاصل کی اور ساتھ ساتھ اعزازی طور پر گورنمنٹ کالج کے طلبا کو M Phillاور Phd کا ریسرچ ورک بھی کرواتے رہے۔ 

اس دوران دنیا مکمل طور پر دل میں گھر کر چکی تھی مگر پھر بھی دِل میں چند سوالات مسلسل پیدا ہوتے رہتے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کیوں پیدا کیا، میرے پیدا کرنے کا مقصد کیاہے، اللہ تعالیٰ کا دیدار کس طرح کیا جا سکتا ہے، میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دور میں پیدا کیوں نہیں ہوا؟ 

ظاہری طور پر دنیاوی عشق میں مبتلا ہو چکے تھے پھر جب دنیا سے ٹھوکر لگی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف بلا لیا۔ دل میں اُٹھنے والے ان تمام سوالات کے جوابات ملنے لگے۔ اکتوبر 2007ء میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے اور حقیقت کو پہچان کر ہمیشہ کے لیے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی غلامی اختیار کر لی۔ جب پہلی نظر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الااقدس کے چہرۂ انور پر پڑی تو اس کے احوال کو پروفیسر سلطان حافظ حماد الرحمن کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
جب میں نے پہلی نظر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الااقدس کے چہرہ انور پر ڈالی تو مجھے کچھ یوں محسوس ہوا کہ میں کائنات کے سب سے اعلیٰ انسان کو دیکھ رہا ہوں اور میرے دل کو اس قدر سکون محسوس ہوا کہ جتنی بے چینی اور بے سکونی تھی سب ختم ہو گئی اور امن و سکون کی دولت سے مالا مال ہو گیا۔ آج بھی وہ چہرہ میرے لوُں لوُں میں موجود ہے اور اس کے اثرات کو میں بیان نہیں کر سکتا۔ اس پہلے دیدار میں مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں اکمل ترین صورت کا دیدار کر رہا ہوں۔ مولانا رومؒ کا یہ شعر میری تمام کیفیت کا عکاس ہے:

بشکل ِ شیخ دیدم مصطفیؐ را            ندیدم مصطفیؐ را بل خدا را 

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی ایک ہی کیمیا نظر سے پروفیسر سلطان حافظ حماد الرحمن کے دل کی کایا ہی پلٹ گئی۔ یہ سلطان العاشقین کا ہی فیضانِ نظر تھا کہ سائنس کے طالبعلم ہوتے ہوئے بھی سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کی فارسی کتب کا اُردو ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل کی اور اس کتاب کی اشاعت تک حضرت سخی سلطان باھوؒ کی پانچ تصانیف کے تراجم کر چکے ہیں۔ پروفیسر سلطان حافظ حماد الرحمن تحریک دعوتِ فقر کے ترجمان برائے امورِ خارجہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ 

2007ء سے تاحال پروفیسر سلطان حافظ حمادالرحمن اپنے مرشد سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمدنجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے ساتھ مستقل طور پر وابستہ ہیں۔ اگرچہ پروفیسر سلطان حافظ حمادالرحمن کا سارا خاندان غیر مقلد تھا اور انہیں ان کے مرشد کے پاس جانے سے ہر ممکن روکنا چاہتا تھا مگر اپنے مرشد کے ساتھ عشق کی بدولت پروفیسر سلطان حافظ حماد الرحمن نے اپنا سارا خاندان چھوڑ دیا تا کہ اپنے مرشد سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی صحبت سے مسلسل مستفیض ہو سکیں۔

21 مارچ 2021ء (7 شعبان 1442ھ) بروز اتوار محفل میلادِ مصطفیؐ بسلسلہ یومِ منتقلی امانت ِالٰہیہ میں سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے پروفیسر سلطان حافظ حماد الرحمن کو خلافت عطا فرمائی اور اپنی دستار اتار کر ان کے سر پر رکھی۔ 22مارچ 2021ء کو انہیں ’سلطان‘ کا لقب بھی عطا فرمایا۔ 
خلافت عطا کرنے کے خوبصورت  مناظر    ملاحظہ فرمانے کے لیے وزٹ کریں:
https://www.youtube.com/watch?v=_L-tqHmdZZU

سلطان  محمد احسن علی  سرور ی قادری

Sultan Mohammad Ahsan Ali

سلطان محمد احسن علی 22 ستمبر 1986ء (17 محرم الحرام 1407ء) بروز سوموار ضلع قصور کے نواحی علاقے کوٹ رادھاکشن میں پیدا ہوئے۔ میٹرک تک تعلیم کوٹ رادھاکشن کے مقامی سکول سے حاصل کی۔ ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور سے انٹرمیڈیٹ اور ہیلی کالج آف کامرس، پنجاب یونیورسٹی لاہور سے بی کام آنرز کیا۔ 

طبیعت کم عمری سے ہی روحانیت کی طرف مائل تھی اس لیے روحانی ترقی کے لیے ہر نماز کے بعد مختلف وظائف کرنا معمول بنا لیا۔ یونیورسٹی میں داخلے کے بعد مختلف روحانی موضوعات پر کتب پڑھنے کا موقع ملا۔ لیکن جس قلبی سکون کی تلاش تھی وہ میسر نہ تھا بلکہ دن بدن بیقراری بڑھتی جا رہی تھی۔ مختلف مذہبی جماعتوں کے ساتھ وابستہ ہونے اورکثرتِ ورد و وظائف کے باوجود دل کی حالت نہ بدلی اس لیے کامل مرشد کی تلاش بدستور جاری رکھی کیونکہ جانتے تھے کہ مرشد کی صحبت کے بغیر اللہ تک رسائی ناممکن ہے۔ اس دوران ماہنامہ سلطان الفقر لاہور کا ایک شمارہ نظر سے گزرا جس کا مطالعہ کرتے ہی یوں محسوس ہوا گویا منزل مل گئی ہو۔ فوراً ہی سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی خدمت میں حاضر ہو کر اسمِ اللہ ذات حاصل کیا اور 6 اکتوبر 2007ء کو سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے دست ِاقدس پر بیعت کی سعادت حاصل کی۔

بیعت کے کچھ عرصہ بعد خانقاہ سروری قادری میں رہائش اختیار کی۔ خانقاہ میں قیام کے دوران مختلف فرائض سرانجام دیئے تاہم سلطان الفقر پبلیکیشنز کی اہم ذمہ داری مستقل طور پر ادا کر رہے ہیں جس کے تحت مختلف انگلش اور اُردو کتب کی تیاری میں معاونت کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ ماہنامہ سلطان الفقر کے سینئر ایڈیٹر اور مینیجنگ ایڈیٹر کے فرائض بھی انجام دیئے ہیں۔ شعبہ دعوت و تبلیغ اور شعبہ اطلاعات و نشریات میں بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی جانب سے سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ اور سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کی کتب کے ترجمہ کی ذمہ داری بھی تفویض کی گئی جبکہ سلطان محمد احسن علی عربی اور فارسی سے نابلد تھے۔ اس سلسلے میں سلطان محمد احسن علی کہتے ہیں:
’’میں عربی اور فارسی زبان سے نابلد تھا لیکن جب حضور مرشد کریم نے کتب کے ترجمہ کی ذمہ داری سونپی تو سوچا کہ اللہ کا نام لے کر شروع کرنا چاہیے، حضور مرشد کریم کی نگاہِ لطف و کرم اور اللہ کا فضل ضرور شامل ِحال ہوگا۔ جب ترجمہ کا آغاز کیا تو یوں محسوس ہوا جیسے کسی غیبی قوت کی جانب سے ترجمہ ذہن میں ڈالا جا رہا ہے۔ بیشک یہ میرے مرشد کریم کی نگاہ کا فیضِ عظیم ہے جو اس عاجز بندے کو اس عظیم سعادت سے سرفراز فرمایا۔‘‘

سلطان محمد احسن علی نے خلافت ملنے تک سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی دو اہم تصانیف اور حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کی سات تصانیف کے تراجم کی سعادت حاصل کی۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے 4مئی 2022ء (2 شوال 1443ھ) بروز بدھ عید الفطر کے پرُمسرت موقع پر خانقاہ سلطان العاشقین میں منعقد ہونے والی عید ملن تقریب میں اپنی دستار پہنا کر خلافت سے نوازا اور ’سلطان محمد‘ کا لقب عطا فرمایا۔

 

خلافت عطا کرنے کے خوبصورت  مناظر    ملاحظہ فرمانے کے لیے وزٹ کریں:
https://www.youtube.com/watch?v=Wmo9bYBKqM4

سلطان  محمد عبدالرحمٰن محبوب  سرور ی قادری

Sultan Mohammad Abdul Rehman Mahboob

سلطان محمد عبدالرحمن محبوب 22 جون 1996ء (5 صفر1417 ھ) بروزہفتہ ماڈل ٹاؤن لاہور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم پاکستان کے معروف سکول بیکن ہاؤس سکول سسٹم جوہر ٹاؤن لاہور سے حاصل کی اور 2014ء میں اولیول (O-Level) کا امتحان بیکن ہاؤس سے تمام مضامین میں Aگریڈ کے ساتھ پاس کیا۔ 2016ء میں بیکن ہائوس سکول سے ہی اے لیول (A-Level) کے امتحان میں بھی A گریڈ کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ 

آپ کی والدہ کا رجحان روحانیت کی طرف تھا۔ وہ ہمیشہ اپنے بچوں کو اولیا کاملین کی ضرورت و اہمیت سے آگاہ کرتی رہتیں جس کی بدولت سلطان محمد عبدالرحمن محبوب کے دل میں عشق ِحقیقی کی تڑپ پیدا ہو گئی اور طبیعت ہر لمحہ بے چین رہتی۔ چونکہ والدہ بھی مرشد کامل اکمل کی تلاش میں تھیں تو سلطان محمد عبدالرحمن محبوب نے بھی والدہ کے ساتھ مرشد کامل کی تلاش کا سلسلہ جاری رکھا اور بالآخر ماہنامہ سلطان الفقر کے توسط سے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدطلہ الاقدس کی ذاتِ مبارکہ کے متعلق پتہ چلا۔ سلطان محمد عبدالرحمن محبوب اپنے بڑے بھائی ڈاکٹر سلطان محمد حسنین محبوب کے ساتھ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ آپ مدظلہ الاقدس کے چہرہ مبارک کی زیارت کرتے ہی دل میں جو بے چینی اور بے سکونی تھی وہ ایک لمحہ میں غائب ہو گئی اور دل کو ایسا سکون حاصل ہوا جو اس سے پہلے کبھی میسر نہ آسکا تھا۔

26 اگست 2011ء بمطابق 26 رمضان المبار ک 1432ھ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے ہاتھ پر بیعت کی سعادت حاصل کی جس کے بعد سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے اسم اللہ ذات کا ذکر وتصور اور مشق مرقومِ وجودیہ کی تلقین فرمائی۔ بیعت کے بعد سلطان محمد عبدالرحمن محبوب ہر محفل اور تبلیغی دورے میں سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے ہمراہ رہے۔

سلطان محمد عبدالرحمن محبوب نے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے دست ِاقدس پر بیعت ہونے کے بعد چھوٹی سی عمر میں خانقاہ میں ڈیوٹیاں سر انجام دینا شروع کر دیں جن میں سب سے اہم ڈیوٹی سلطان الفقر ڈیجیٹل پروڈکشن کی تھی۔ چونکہ آپ کا رجحان ڈیجیٹل میڈیا کی طرف زیادہ تھا اس لیے آپ نے ویب سائٹ پروموشن ونگ میں بھی ڈیوٹی سر انجام دی۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی صحبت میں مسلسل رہنے سے ان پر حقیقت ِمحمدیہ کا راز منکشف ہو گیا۔

اپنے مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے فقر کے پیغام کو دنیا بھر میں عام کرنے کے لیے سلطان محمد عبدالرحمن محبوب تحریک دعوتِ فقر کے شعبہ سلطان الفقر ڈیجیٹل پروڈکشنز کے ہیڈ انچارج کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جو بھی ذمہ داری سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی طرف سے تفویض کی جاتی ہے اس کو خلوصِ نیت کے ساتھ سرانجام دیتے ہیں۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی سب سے چھوٹی صاحبزادی کے ساتھ منسوب ہیں۔ 

ان کے اسی عشق کی بدولت 11 جولائی2022 ء (11 ذوالحجہ 1443ھ) بروز سوموار عید ملن تقریب کے بابرکت موقع پر سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے سلطان محمد عبدالرحمن محبوب کو خلافت عطا فرمائی، اپنی دستار مبارک اپنے سر سے اتار کر اُن کے سر پررکھی اور ’سلطان محمد‘ کے لقب سے نوازا۔

خلافت عطا کرنے کے خوبصورت  مناظر    ملاحظہ فرمانے کے لیے وزٹ کریں:
https://www.youtube.com/watch?v=ZPmGbsc82nc

Spread the love